کیا مصنوعی ذہانت انسانی ڈاکٹر کی جگہ لے سکتی ہے؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا مصنوعی ذہانت انسانی ڈاکٹر کی جگہ لے سکتی ہے؟

اب سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے، صحت ہو یانیوٹریشن، لائف اسٹائل ہو یا تعلیم، ڈاکٹر کی ضرورت ہو یا ادویات کی ، آپ ایک ایپ ڈائون لوڈ کریںاور گھر بیٹھے کھانا یا سبزی ہی نہیں ادویات بھی منگوالیں۔ یہاں تک کہ آپ کے دل کی دھڑکن اورنبض کی رفتار بھی آپ کا موبائل فون بذریعہ ایپ معلوم کرلے گا (درست ہونے کے حوالے سے تضاد پایا جاتا ہے)۔ یوگا ایپ سے لے کر آن لائن فٹنس کلاسز ، جسمانی و ذہنی صحت سے لے کر واکنگ اور جاگنگ کی روٹین تک ،اب سب کی نظریں اپنے موبائل پر لگی ہیں۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق صحت سے مربوط اقتصادیات 4.2کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ دن بدن ترقی کرتی ٹیکنالوجی کاہے۔ ہماری ٹیکنالوجی زدہ دنیا میں ہیلتھ اور ویل نیس ایپس نے اس انڈسٹری کے پھلنے پھولنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ذہنی تنائو سے چھٹکارا پانا ہو، وزن کم کرنا ہو یا اپنی تمام تر صحت کو برقرار رکھنا ہو، لوگ اب ہر ایک کام کے لیے ایپس ڈائون لوڈ کرتے ہیں، یہاں تک کہ مراقبہ یاخیالات کی تقطیرکے لیے بھی ایپس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اب صرف مریض یا عام انسان ہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز بھی ڈیجیٹل ایپس اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں اور اسی کی دیکھا دیکھی بیماری کاپتہ لگانے سے لے کر تشخیص تک، ادویات کی نئی اپروچ کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو وسیع پیمانے پر قبول کیا جارہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کبھی بھی ڈاکٹروں کی جگہ لے سکتی ہے؟

کچھ سال قبل چین کے گوانگزو کے نانشا ضلع میں ایسٹ ٹیک ویسٹ کانفرنس کے پینل ڈسکشن میں بذریعہ ادائیگی صحت کی خدمات فراہم کرنے والی فرم کے بانی، طبی ماہر ڈاکٹر چون یوآن چیانگ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’میں اس مرحلے پر نہیں سوچتا، تاہم ہم 100فیصد یا 100فیصد کے قریب ہیں اورہمیں اس بات کا یقین ہے کہ مصنوعی ذہانت’ ڈاکٹر-مریضوں کے تعلقات‘ کو تاریخی طور پر بدل کر رکھ سکتی ہے۔ تشخیص کے حوالے سے مدد کرنے والی اشیا ایک مختلف زمرہ ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ مریض بہرحال صحت یاب ہونا چاہتا ہے‘‘۔

بدلتا ہواطبّی منظر نامہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، جسے وسیع پیمانے پرمسئلے کو حل کرنے اور سیکھنے والے رویّوں جیسے شعبوں میں انسانی ذہانت کی نقالی کرنے کے لیے پروگرام کردہ مشین کے طورپر بیان کیا جاتاہے، نے طبی منظرنامے کو نئی شکل دی ہے۔ اس ضمن میں چین میں جی ای ہیلتھ کیئر کے چیف انوویشن آفیسر ڈاکٹرڈائی ینگ کا کہنا تھا، ’’ہم پھیپھڑوں کے کینسر کا پتہ لگانے کے لئے ایکس رے استعمال کرتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایکس رے کے ساتھ صرف مرحلہ 3یا مرحلہ 4تک ہی جا سکتے ہیں۔ اب، سی ٹی اسکین کے ذریعے آپ پھیپھڑوں کے تمام ماڈیولز دیکھ سکتے ہیں اورمصنوعی ذہانت کے ذریعہ بتاسکتے ہیں کہ خرابی کہاں اور کتنی بڑی ہے۔ یہ طریقہ پہلے کی نسبت بہت ترقی یافتہ ہے‘‘۔

آجکل بیماریوں اوران کی تشخیص کے لیے ضروری نہیں کہ آپ بذات خود ڈاکٹر کے پاس موجود ہوں۔ ڈاکٹر یا علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے والے مراکزمرکزی نظام کے ذریعہ مربوط ہیں جو مریضوں کی دور سے نگرانی کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ڈاکٹر کی طرح ان لوگوں کے پاس پہنچے گی، جو اس نظام سے مربوط نہیں ہیں یا مضافات میں رہتے ہیں۔

انشورنس کمپنی سگنا ڈی آئی ایف سی کے سی ای اور بورڈ ممبرجے ورما کا کہناہے، ’’ہم آج اپنی ایپس میں ٹیلی میڈیسن بنا رہے ہیں جہاں آپ ہنگامی صورتحال کے لیے تو نہیں البتہ اپنی سہولت کے مطابق اپنے گھروں سے ڈاکٹر سے رجوع کرسکتے ہیں۔

 مجھے لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگس مستقبل میں صحت کی دیکھ بھال کرنے کے انداز کو تبدیل کرنے والےہیں‘‘۔ جے ورما اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بلا ک چین ٹیکنالوجی صحت کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنیوں، پیشہ ور افراد اور مریضوں کو میڈیکل ریکارڈ شیئر کرنے میں آسانی فراہم کرے گی۔ بہت ساری انشورنس کمپنیاں پہلے ہی سے اپنے جدید نظاموں میں بلا ک چین ٹیکنالوجی کی شمولیت پر غور کررہی ہیں۔

اخراجات

چونکہ ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والے ادارے، دواؤں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والی لاکھوں مشینیں، بلاک چین اور دیگر مہنگی جدید ٹیکنالوجیز حاصل کررہے ہیں،اس لیے ہیلتھ کیئر کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ماہرین کچھ اور سوچتے ہیں۔ جے ورما کا کہنا ہے،’’ان دنوں زیادہ تر اخراجات ہاتھ سےکیے جانےوالے آپریشن سے وابستہ ہیں۔ تاہم، مصنوعی ذہانت خود کار طریقے سے آپریشنز کو یقینی بنائے گی ، لہٰذا مستقبل کے نظام آپ کے اخراجات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے‘‘۔

چین کے ڈاکٹرڈائی ینگ کا کہنا ہے ،’’ مصنوعی ذہانت اسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہےاورمجھے نہیں لگتا کہ ہر وقت اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں، اس سے اخراجات کی بچت ہوتی ہے‘‘۔

صحت سے مزید