کورونا کی بگڑتی صورتحال
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے۔ کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پاکستان 31ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 5ہزار 50کیس سامنے آئے ہیں، صرف پنجاب میں 2ہزار 515افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مزید 114افراد اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے جس کے بعد کورونا سے ہفتے بھر میں ہونے والی اموات کی تعداد 632تک پہنچ چکی ہے۔ کورونا وائرس کی اِس بگڑتی صورتحال کے پیش نظر وائرس سے نمٹنے کیلئے لگائی گئی پابندیوں میں 13اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ رمضان میں پابندیوں اور اُن پر عملدرآمد سے متعلق این سی او سی کا جائزہ اجلاس آج ہو گا۔ ملک بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 15ہزار 443ہو چکی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد 7لاکھ 21ہزار 18تک پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں اسپتالوں، قرنطینہ سینٹرز اور گھروں میں کورونا وائرس کے کل 73ہزار 875مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 4ہزار 143مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ عوام نے ایک سال کے دوران ’نیو نارمل‘ کو تو اپنا لیا ہے لیکن اب بھی احتیاطی تدابیر اُس طرح نہیںاپنائی جا رہیں جس طرح اپنائی جانی چاہئیں۔ عوام کو سمجھنا ہو گا کہ جب تک ملک کی مکمل آبادی کو کورونا سے بچائو کی ویکسین نہیں لگ جاتی، احتیاط اور احتیاطی تدابیر ہی بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا ہر شہری کو ویکسین کی فراہمی تک تمام تراحتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے خود کو اِس موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین