• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Web Desk
Web Desk | 05 مئی ، 2021

پی پی 84 خوشاب ضمنی انتخاب: ن لیگ کے ملک معظم کلو کامیاب

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 84 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ملک معظم کلو نے کامیابی حاصل کرلی۔ 

حلقہ کے تمام 229 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق ن لیگی امیدوار نے 73 ہزار 81 ووٹ حاصل کیے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی حسین بلوچ کو 62 ہزار 903 ووٹ ملے۔

صدر مسلم لیگ (ن) کی پارٹی امیدوار کو کامیابی پر مبارکباد

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی پی 84 خوشاب میں فتح پر عوام اور پارٹی امیدوار ملک معظم کلو کو مبارکباد دیتا ہوں۔

انھوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ عوام نے آٹا چینی چوروں کو مسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الحمداللّٰہ! یہ عوام کی طرف سے اس خدمت کا بھی اعتراف ہے جو مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں کی تھی اور یہ ووٹ نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کی ترقی کا ووٹ ہے۔

کون آرہا ہے؟

خوشاب میں ضمنی انتخاب میں کامیابی پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے بھی ٹوئٹ کیا گیا۔

اس ٹوئٹ میں انھوں نے شیر کی ایک جیف شیئر کی۔ 

’ہر شہر میں عوام نے نواز شریف کی فتح کا اعلان کردیا‘

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ ہر شہر میں عوام نے نواز شریف کی فتح کا اعلان کردیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے سے نواز شریف کے بیانیہ کی تائید عوام کے حق حکمرانی کی فتح ہے۔

حلقہ پی پی 84 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ 

لوگوں نے روزے کی حالت میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمنٹے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 

انتخاب کی مانیٹرنگ کے لیے 10 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، جو انتخابی نتائج جاری ہونے تک فرائض سر انجام دیتی رہیں گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ نشست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ملک وارث کلو کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 

اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے ملک معظم کلو، حکمراں جماعت تحریک انصاف کے علی حسین خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام حبیب کے درمیان کڑے مقابلے کی توقع ہے۔ 

اس حلقے میں 229 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے، جن میں سے 13 کو انتہائی حساس جبکہ 43 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

پی پی 84 میں ووٹرز کی کل تعداد 2 لاکھ 92 ہزار 687 ہے جن میں مرد ووٹرز 1 لاکھ 55 ہزار 104 جبکہ خواتین ووٹرز 1 لاکھ 37 ہزار 583 ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امن و امان قائم رکھنے کیلئے 540 رینجرز اور 2 ہزار 800 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔

حساس پولنگ اسٹیشنوں کی مانیٹرنگ سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جاتی رہی۔

ووٹرز بلا خوف ووٹ ڈالنے آئیں، الیکشن کمشنر کی اپیل

الیکشن کمشنر پنجاب غلام اسرار خان نے ووٹرز سے ووٹ ڈالنے آنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ووٹرز بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشنز میں ووٹ ڈالنے آئیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حلقے میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمشنر پنجاب غلام اسرار خان نے یہ ہدایت بھی کی تھی کہ ووٹرز کورونا وائرس کی ایس او پیز کی مکمل پابندی کریں۔

ڈی پی او خوشاب کا پولنگ اسٹیشنز کا دورہ

ڈی پی او خوشاب محمد نوید نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور وہاں کیئے گئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ۔

ڈی پی او خوشاب نے ان پولنگ اسٹیشنز پر عملے کو کورونا وائرس کی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت بھی کی۔

پگڑی، دھوتی و کُرتے پہنے ووٹر کی انٹری

مٹھہ ٹوانہ بوائز ہائی اسکول میں ایک بزرگ ووٹر روایتی انداز میں سر پر پگڑی، پاؤں میں کھسہ اور دھوتی پہن کر ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچے۔

ٹانگ سے معذور شخص ووٹ کاسٹ کرنے پہنچا

خوشاب کے علاقے جوڑاں کلاں کا رہائشی ایک ٹانگ سے معذور رحیم بخش بھی ووٹ ڈالنے پہنچا جس نے ووٹ کاسٹ کردیا۔

رحیم بخش کا کہنا تھا کہ ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے یہ فرض ادا کرنے آیا ہوں۔

سادہ لوح خاتون ووٹ کہاں ڈال گئی؟

حلقہ پی پی 84 کے پولنگ اسٹیشن 205 پر اس وقت دل چسپ صورتِ حال سامنے آئی جب ایک سادہ لوح خاتون ووٹر بیلٹ باکس میں ووٹ ڈالنے سے لا علم نکلی۔

خاتون ووٹر نے مہر لگانے کے عمل کو خفیہ رکھنے کے لیے رکھی گئی گتے کی اسکرین میں اپنا ووٹ ڈال دیا۔

پتہ چلنے پر پریزائیڈنگ آفیسر نے گتے کی اسکرین سے خاتون کا ووٹ نکال کر خاتون سے بیلٹ باکس میں ڈلوایا۔

پولنگ اسٹیشن میں بچے کی پیدائش

خوشاب کے پولنگ اسٹیشن نمبر 81 میں جہاں ووٹر ووٹ کاسٹ رہے تھے وہیں ایک حاملہ خاتون نے بچے کو جنم دیا۔

خوشاب کے ضمنی انتخاب میں ایک دیہی مرکز صحت کو بھی پولنگ اسٹیشن بنایا گیا، جہاں خاتون مریضہ مقررہ وقت پر طبی امداد کے لیے پہنچی۔

علاقے میں تعطیل کی وجہ سے ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں تھی، تاہم انھیں فون کرکے بلایا گیا۔

طبی امداد کے بعد خاتون نے بچے کو جنم دیا، جبکہ زچہ اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔

نومولود کے والد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا پہلا بچہ ہے، مجھے بہت خوشی ہے کہ یہ الیکشن کے دن پیدا ہوا ہے۔