• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نادیہ ناز غوری، لانڈھی، کراچی

اِمسال بھی عید ایسے موقعے پر آئی ہے کہ جب کورونا وائرس کی تیسری لہر نے عوام کو ایک نئی آزمایش میں ڈالا ہوا ہے۔ پہلے ہی منہگائی کے عفریت نے پنجے گاڑ رکھے تھے، ایسے میں کورونا کی تیسری لہرنے گویاکمر توڑ دی ہے ۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن سے قریباً 2 کروڑ سے زائد محنت کش شدید معاشی مصائب کا شکار ہوئے ۔گو کہ مخیّر افراد نے اپنے تئیں کوششیں بھی کیں، مگر غریبوں کا حق کھا جانے والے شرپسند عناصر کے سبب پچھلی عید پر بھی طبقاتی امتیاز نمایاں رہا، نتیجتاً یومیہ اجرت پرکام کرنے والے غریب مزدور طبقہ حسرت و یاس لیے عید کی خوشیوں کو ترستا ہی رہ گیا۔وہ کیا ہے کہ ؎ بڑا غضب ہے،خدا وندِ کوثر و تسنیم …کہ روزِ عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا۔پھر یہ کورونا تو ہماری مذہبی اقدار، ثقافتی روایات پر بھی شدّت سےحملہ آور ہوا ہے کہ ہم روزِ عید بھی ایک دوسرے سے محبّت بَھرے مصافحے اور پُرجوش معانقے نہیں کرسکتے۔ وفورِ جذبات سے گلے لگانا سزا ٹھہرا ۔اور تو اور ماضی کی وہ سچّے جذبوںسے سجی عیدیں، چوڑیوں کی کھنک، خوشیوں کی دھنک اور رونقیں توجیسے خواب ہوگئی ہیں۔ 

اب تو عید تہواروں پر بھی اِک خاموشی سی خاموشی ہے۔ بقول شاعر ؎ کتنی عارضی تھیں یہ رونقیں، کتنا خاموش اب یہ زمانہ ہے …بہت کرلی خطائیں، اب روٹھے ربّ کو منانا ہے۔ آج جب انسان مادّی ترقّی، مال و زر اور اسباب کی کثرت کو زندگی کی معراج تصوّر کررہا ہے، مفاد پرستی، خودغرضی اور موقع پرستی بڑھتی جا رہی ہے،انسان انسان سے دُور بھاگ رہا ہے، حتیٰ کہ پیارے رشتے تک بے رُخی و بے اعتنائی کی رَدا اوڑھے ہوئے ہیں، عید تہوار پر بھی طبقاتی امتیاز نمایاں ہے۔ ایسے میں اسلامی اُصولِ مواخات کے عملی نفاذ اور رشتۂ مواخات کے احیاء کی اشد ضرورت ہے۔ 

وہ رشتۂ مواخات، جو نبی اکرمﷺنے ایک دینی، اسلامی معاشرے میں باہمی کدورتوںکے ازالے اور باہمی محبّت و یگانگت، ہم دردی و غم خواری، مواخات و مواسات، ایثار و تعاون، عزّت و احترام اور عفو درگزر کے مثبت جذبات پیدا کرنے کے لیے قائم کیا تھا، جس رشتے میں بندھ کر مسلمان اپنے تہی دست بھائیوں کو اپنا سب کچھ دینے کو تیار تھے۔ آج کورونا وائرس کے سبب معاشی مسائل کے شکار ہمارے تہی دست بھائیوں کے لیے ہمیں بھی اِسی جذبے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمﷺ کی یہ نہایت مفید تعلیم ہے کہ دُنیاکے کروڑوں مسلمان ایک دوسرے کو بھائی بھائی اور جسم و دیوار کی مانند سمجھیں۔

عصرِ حاضر میں جس طرح اُخوّت و محبّت کے جذبات مفقود اور انسانیت معدوم ہوتی جارہی ہے، یہ رشتۂ مواخات نہ صرف انسانیت کی تعمیر و تشکیل بلکہ معاشرے کو مستحکم، منظّم اور مربوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا اور اس اُخوّت کو بھی(جس کی بنیاد محبّت پر استوار ہے)فروغ دے گا ۔اور اپنے بندوں میں اپنی مخلوق کے لیے یہی جذبہ اللہ کو بھی مقصود ہے۔ بقول علّامہ اقبال ؎ یہی مقصودِ فطرت ہے،یہی رمزِ مسلمانی …اُخوّت کی جہاں گیری، محبّت کی فراوانی۔

اس وبائی عید پر ہمیں یہ جذبۂ اُخوّت اپنے بچّوں میں منتقل کرنے اور انھیں بھی رشتۂ مواخات کی افادیت سے روشناس کروانے کا موقع میسّر آیا ہے۔ عموماً عید الفطر کے موقعے پر سب ہی بچّے معقول رقم کے مالک بن جاتے ہیں۔ ہم بچّوں کو ضرورت مندوں کے مسائل سمجھا کر اُنھیں اپنی عیدی کورونا کے معاشی اثرات کا شکار ہونے والے مفلوک الحال بچّوں، بڑوںپر خرچ کرنے کی ترغیب دیں اور یہ مالی تعاون بچّوں کو اپنے ہاتھ سے کرنے دیں۔ اگر ہم انھیں اس رشتۂ مواخات کی اہمیت و افادیت سمجھانے میں کام یاب ہوگئے، تو سمجھ لیجیے کہ اِک پوری نسل جذبۂ اخوّت سے لب ریز ہوجائے گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

یہ عید ہمیں ’’کورونائی عید‘‘نہیں، بلکہ ’’شُکر کی ادائی عید‘‘ کے طور پر منانی ہے اور طبقاتی امتیاز کو ختم کرنا ہے ۔یہ نہ ہو کہ ؎ عجب تھی عیدِخمستاں، عجب تھا رنگِ نشاط …کسی نے بادہ و ساغر ، کسی نے اشک پیے …کسی نے اطلس و کم خواب کی قبا پہنی…کسی نے چاکِ گریباں، کسی نے زخم سیے۔ یہ درست ہے کہ آج سماجی فاصلہ ضروری ہے، لیکن جب دِلوں میں محبّت کے دریا موج زن ہوں، تو سماجی فاصلے بے معنی ہوجاتے ہیں۔ محبّت، شعور کے تابع ہو، تو سماجی فاصلہ ہی بہترین اظہارِ محبّت ہے، لہٰذا فون، ویڈیو کانفرنس پر آن لائن محفل سجائیں اور مزے دار پکوان بنا کر غریبوں میں بانٹنے کا روحانی سُکون پائیں۔ 

ذرا سوچیے کہ ہم نے آج تک کتنی ہی عیدیں آزادی سے منائی ہیں اور آیندہ بھی منائیں گے(ان شاء اللہ تعالیٰ)، لیکن اگر آج عیدیں وبائی ایّام میں آگئی ہیں،تو کیوں نہ شکوے شکایات کے بجائے، انہیں ’’مواخاتی عید‘‘ میں بدل دیں۔ اس رشتۂ مواخات کا احیاء کرکے، محبّت و مودّت اور اُخوّت کو پھیلائیں، جو ہمارے پیارے نبی رحمۃ للعالمین خاتم النبیینﷺ کی سنّت بھی ہے اور اللہ ربُّ العزّت کی خوش نودی کا ذریعہ بھی۔ بقول اقبال ؎ تو رازِ کُن فکاں ہے ،اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا …خودی کا راز داں ہوجا،خدا کا ترجماں ہوجا …ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو …اُخوّت کا بیاں ہوجا،محبّت کی زباں ہوجا۔