• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیمپ جیل قیدیوں کا عثمان بزدار سے حقوق اور بہتر طرز زندگی کا مطالبہ

اسلام آباد(انصار عباسی) کیمپ جیل قیدیوں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے حقوق اور بہتر طرز زندگی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے چار حصوں پر مبنی کھلے خط میں قوانین پر عمل درآمد اور اصلاحات پر مبنی تجاویز پیش کردی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق، لاہور کی کیمپ جیل کے قیدیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کھلے خط کے ذریعے اپیل کی ہے کہ وہ برطانیہ کے جیل قواعد کے مطابق قیدیوں کو جو چند حقوق دیئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ 

قیدیوں نے خط میں لکھا ہے کہ جن قیدیوں پر مقدمات چل رہے ہیں وہ سزایافتہ قیدیوں کی طرح نہیں ہیں۔ چوں کہ ان کے مقدمات زیرالتوا ہیں لہٰذا قانونی طور پر وہ اس وقت تک بےقصور ہیں جب تک ان پر جرم ثابت نا ہوجائے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے معیار کی توثیق کرچکا ہے جسے نیلسن منڈیلا قواعد کہا جاتا ہے، جس کے مطابق، قیدی نظام میں قیدی کی زندگی اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے والوں میں فرق کو کم سے کم کیا جانا چاہیئے، جس کا مقصد قیدیوں کی ذمہ داری کو کم سے کم کرنا ہے یا پھر ان کی عزت جو کہ ان کی بحیثیت انسان توقیر کی بنا پر ہے(رول 5)۔ 

لہٰذا قانون کے مطابق ان کی زندگی کی شرائط ان کی جیل سے باہر کی زندگی کے قریب تر ہونی چاہیئے کیوں کہ انہیں سزا دی جارہی ہوتی بلکہ حقیقت میں وہ بطور مجرم سختیاں بھگت رہے ہوتے ہیں۔ 

خط کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، قانون پر عمل درآمد، معمولی ہدایت پر لائی جانے والی تبدیلیاں، جیل سے متعلق اصلاحات اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صرف ایک ہدایت کے ذریعے پنجاب کا محکمہ داخلہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی حالت زندگی بہتر کرسکتا ہے۔ 

اس کے لیے انہیں 1، فوری طور پر گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جو کہ یہ سہولت حاصل کرنا چاہتے ہیں، بجائے اس کہ کے انہیں اس سہولت کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑے۔ 

2۔ انہیں پانچ بنیادی چیزوں کی اجازت دی جائے، جن میں تکیہ، گدا، کرسی، میز اور ٹی وی شامل ہیں اور یہ جیل خانہ ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت کیا جائے جو انہیں اشیائے ضروریہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ 

3، پبلک کال آفسز میں دیئے گئے وقت پر نظرثانی کی جائے اور اسے 20 منٹ فی ہفتہ سے بڑھا کر امریکا کی طرز پر 300 منٹ کیا جائے۔ 

4، ان پر صرف سرکاری ٹی وی دیکھنے کی پابندی ختم کی جائے اور انہیں کیبل ٹی وی کنکشنز کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یکسانیت کا شکار نا ہوجائیں۔ خط میں تجویز دی گئی ہے کہ کیبل ٹی وی کی اجازت اسی طرز پر دی جائے 

جس طرح اخبار اور ٹی وی کی ماہانہ فیس قیدیوں سے لی جاتی ہے۔ اس طرح قیدیوں میں ڈپریشن کی سطح بھی کم ہوگی اور جو منفی واقعات جیلوں میں ہوتے ہیں اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔ 

5، گرمیوں میں ایئر کولر کی اجازت دی جائے۔

6، جیل اسٹاف کی جانب سے کسی بھی قسم کے جسمانی تشدد پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

7، قیدیوں کی سزائوں کے بلاک میں غیرانسانی حالات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ 

خط میں جن اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے ان میں، 1، تمام قیدیوں کو گھر کے کھانے اور بنیادی ضروریات کی چیزوں کی اجازت دی جائے۔

2، گھروالوں سے ہفتے میں ایک کے بجائے دو مرتبہ ملنے کی اجازت دی جائے اور وکلا سے ملنے کی تعداد پر عائد پابندی ختم کی جائے کیوں کہ اس سے آئین کے تحت انصاف کے حصول تک رسائی متاثر ہوتی ہے، 

3، انڈر ٹرائل قیدیوں کو بھی اپنی ازواج سے ملنے کی اجازت دی جائے اور اس کے لیے ڈی سی کی منظوری کی شرط ختم کی جائے۔ 

4، اسپتال مینجمنٹ کو قریبی سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے اور اس کی اطلاع جیل اسپتال کو دی جائے تاکہ جیل اسٹاف کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ نارروا سلوک کم کرنے میں مدد مل سکے۔ 

5، جیل ڈاکٹر، بیرونی کنسلٹنٹ، عدالتوں اور محکمہ داخلہ سے قیدیوں کی اسپتال منتقلی کے لیے علیحدہ علیحدہ اجازت کا سرخ فیتہ ختم کرکے جیل میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو بروقت فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے۔ 

6، ہر سیل کے قیدیوں کو طبی ایمرجنسی کی صورت میں مختصر جسمانی ضمانت فراہم کی جائے کیوں کہ لوہے کی بھاری گھنٹی بجانا بیمار قیدی کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ 

7، جیل کے اندر نجی ڈپارٹمنٹل اسٹورز یا یوٹیلیٹی اسٹورز کھولے جائیں تاکہ قیدی اپنی ضروریات کی اشیا وہاں سے بروقت خرید سکیں۔ 

8، کانٹریکٹ پر کھانوں کے اسٹال کی اجازت دی جائے تاکہ قیدی نقد ادائیگی پر معیاری کھانے حاصل کرسکیں۔ 

9، جیل کا باورچی خانہ کانٹریکٹ پر کسی پیشہ ور ادارے کو دیا جائے جو سماجی بہتری کے لیے کام کررہا ہو۔ وہاں بائیو ٹیکنالوجسٹ کی تقرری کی جائے، جب کہ باورچی خانے کا انسپکشن ریگولر بنیادوں پر پنجاب فوڈ اتھارٹی سے کروایا جائے۔ 

10، ہر بیرک میں فون بوتھ لگوائے جائیں بجائے اس کے کہ ایک مرکزی سہولت لگائی جائے، اس کی وجہ سے قیدی اپنی مرضی کے مطابق بغیر کسی ڈر کے کال کرسکیں گے۔ چوں کہ تمام کالز ریکارڈ ہوتی ہیں اس لیے بیرک اور مرکزی پی سی او سے کال کا فرق نہیں ہوگا۔ 

11، گھروالوں سے اتوار کے روز ملنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ 

12، ملاقات کے ہال کا سائز بڑھایا جائے اور بیریئرز کے پیچھے سے ملاقات کی شرط ختم کی جائے۔ جدید اسکینرز لگائے جائیں تاکہ کسی قسم کی اسمگلنگ ممکن نا ہو اور گھروالے طبعی طور پر ملاقاتیں کرسکیں۔ 

13، اچھے رویے پر قیدیوں کو پے رول دیا جائے تاکہ جیل میں قیدیوں کی تعداد میں کمی واقع ہو۔ جیل خانہ محتسب کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ پیرول دینے میں ناانصافی نا ہو۔

14، جیل سپرنٹینڈنٹ کو سزا دینے کے اختیار کے بجائے جیل خانہ محتسب کا قیام عمل میں لایا جائے جیسا کہ برطانیہ میں ہوتاہے۔ 

15،تضحیک آمیز رویئے جیسا کہ سپرنٹینڈنٹ یا ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جب جیل کی حدود میں ہوتے ہیں تو ان کے سامنے جھکنا یا ان کے سامنے بیٹھ جانا یہ غیراسلامی اور انسانی وقار کے خلاف ہے، اسے ختم کیا جانا چاہیئے۔ 

16، غیرانسانی طریقے جیسا کہ سینئر جیل اسٹاف کے سامنے قیدیوں کو مارنا ، اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیئے۔ 

17، نوآبادیاتی طریقہ کار جیسا کہ سپرنٹینڈنٹ جیل کو روزمرہ بنیاد پر گارڈ آف آنر دینا لازمی طور پر ختم کیا جانا چاہیئے کیوں کہ یہ جدید انسانی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 

18، ہزاروں قیدیوں کو لامحدود وقت کے لیے معزز افراد کے دوروں کے موقع پر سیلز میں لاک نہیں کیا جانا چاہیئے ، پروٹوکول میں ترمیم کی جانی چاہیئے تاکہ کسی اہم شخصیت کی آمد کے وقت سے 15 منٹ کا وقت جیل لاک اپ کے لیے درکار ہو۔ 

19، جیل اسٹاف کی ڈیوٹی اوقات فی شفٹ 12 گھنٹے ہفتے میں سات روز غیرانسانی ہیں اور یہ لیبر قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جس کے نتیجے میں غصہ قیدیوں پر نکلتا ہے اور ان کے ساتھ نارواسلوک کیا جاتا ہے۔ 

اسٹاف کی ڈیوٹی اوقات تبدیل کیے جانے چاہیئے اور اگر ضرورت ہوتو اضافی اسٹاف بھرتی کیا جانا چاہیئے۔ 

20، انڈر ٹرائل مزدوروں اور سول قیدیوں سے کام لینا فوری طور پر روکنا چاہیئے۔ اگر وہ رضاکارانہ طور پر کام کریں تو انہیں متعینہ کم سے کم اجرت ادا کی جانی چاہیئے۔ 

21، بنیادی ضروریات کی کٹ غریب قیدیوں کو فراہم کی جانی چاہیئے تاکہ وہ اپنا انسانی وقار قائم رکھ سکیں۔ 

22، قیدیوں کو قریبی رشتہ داروں کے جنازے میں شرکت کے لیے جیل سپرنٹینڈنٹ سے اجازت ملنی چاہیئے بجائے اس کہ کے وہ ڈی سی جو کہ جیل خانہ محتسب سے اپیلیٹ فورم کی طرح اجازت لیں۔ 

اس طرح کی اجازت کا وقت بھی 12 گھنٹے سے زائد اچھے برتائو والے قیدیوں کے لیے کیا جانا چاہیئے۔ 

آخر میں خط کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ قیدیوں کی منتقلی میں اصلاحات پر غور کریں۔ 

جیسا کہ 1، بسوں میں سیٹیں لگائی جائیں بجائے اس کے کہ فلیٹ بینچ رکھی جائے کیوں کہ کسی حادثے کی صورت میں اس سے تحفظ نہیں ملتا۔

2، وین میں وینٹی لیشن کا نظام لگایا جائے کیوں کہ یہ بند جنگلے ہوتے ہیں جو کہ گرمیوں میں بہت زیادہ گرم ہوجاتے ہیں۔ 

3، وین کو اوور لوڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے تاکہ قیدیوں کو پاسنگ آئوٹ سے تحفظ مل سکے۔ 

4، عدالتوں میں انتظار گاہوں میں وینٹی لیشن ہونی چاہیئے اور وہاں ایئرپورٹ طرز کی سیٹیں لگائی جانی چاہیئے۔

اہم خبریں سے مزید