• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ خیبر پختون خوا میں واقع ’’سوات‘‘ کو 1970ء ميں ضلع کی حيثیت دی گئی۔ مالاکنڈ ڈويژن کا صدر مقام سیدو شریف اسی ضلعے ميں واقع ہے اور یہ سینٹرل ايشيا کی تاريخ ميں علمِ بشريات اور آثارِ قديمہ کے لیے مشہور ہے۔ بدھ مت کی تہذيب و تمدّن کےحوالے سے بھی سوات کوخاص شُہرت حاصل تھی اور اسے ’’اوديانہ‘‘ يعنی باغ کے نام سے پکاراجاتا تھا۔ سيّاحت کے کثير مواقع اور متعدد دل کش وادیوں کی وجہ سے اسے ’’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شمالی علاقہ جات میں سیّاحت کی ترقی ميں سوات کا ايک اہم کردار رہا ہے۔

بلند و بالا برف پوش چوٹیوں،سرسبز و شاداب وادیوں، آبی جھرنوں، دل فریب مرغزاروں اوروسیع ميدانوں کے علاوہ يہ تجارت کا مرکز بھی ہے۔ جب کہ سوات کے علاقوں کالام، مدين اور بحرين ميں اعلیٰ تعليمی ادارے بھی موجود ہيں۔ یہاں کے لوگ انتہائی محنتی، جفاکش ہیں۔ دنیا کے حسین ترین خطّوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جب کہ صوبائی دار الحکومت، پشاور سے اس کا فاصلہ 170کلو میٹر ہے۔ 

اس کا کُل رقبہ 5337 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کے شمال میں ضلع چترال، جنوب میں ضلع بونیر، مشرق میں ضلع شانگلہ، مغرب میں ضلع دیراور مالاکنڈ ایجنسی کے علاقے اور جنوب مشرق میں سابق ریاستِ امب (دربند) کا خُوب صُورت علاقہ واقع ہے۔ یوں تو پاکستان کی دل کش وادیوں میں منفرد مقام کی حامل، وادئ سوات میں ہر مقام ہی فطرت کے منفرد حُسن کا شاہ کار ہے۔ تاہم، چند برس قبل ایک اور نیا سیّاحتی مقام ’’گبین جبہ‘‘ دریافت ہونے کے بعد سے سیّاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رُخ کرنے لگی ہے۔ مٹہ سوات سے 20 کلومیٹر دُور دریافت ہونے والےجنّت نظیر سیّاحتی مقام ’’گبین جبہ‘‘ کا نام پشتو زبان کے دو الفاظ کا مرکتب ہے۔ گبین کے معنی ’’شہد‘‘ اور ’’جبہ‘‘ کا مطلب چشمہ یاٹھہرے ہوئے پانی کے ہیں۔

گبین جبہ پہنچتے ہی ہر طرف موجود میٹھے پانی کے چشمے سیّاحوں کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔ سطحِ سمندر سے 8 ہزار 471 فٹ بلندی پر واقع گبین جبہ تک پہنچنے کے لیے ایک راستہ کبل شموزو روڈ پر واقع گاؤں ’’مٹہ‘‘ ہے، جب کہ دوسرا خوازہ خیلہ سے سخرہ بازارجانے والی سڑک کے ذریعے جاتا ہے، جو گبین جبہ پر ختم ہوتی ہے۔ فضا گھٹ سے براستہ خوازہ خیلہ سخرہ بازار تک کا سفر ایک گھنٹے پر محیط ہے۔ گائوں لالکو میں جگہ جگہ پارکنگ کی مناسب سہولت میسّر ہونے علاوہ جا بہ جا موجود دکانوں میں اشیائے خورو نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کا سامان بھی بہ سہولت دست یاب ہے۔ 

لالکو گائوں سے نکلتے ہی پہاڑ کی چڑھائی شروع ہوجاتی ہے اور آدھے گھنٹے کی مسافت پر محکمہ سیّاحت کے تعمیر کردہ کیمپنگ پوڈز نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ گبین جبہ دراصل دو حصّوں میں تقسیم ہے، ایک کا نام گبینہ اور دوسرے کا جبہ ہے۔ گبینہ وہ جگہ ہے، جہاں پرانا ٹینٹ ہوٹل پہلے سے قائم ہے۔ یہاں سے مزید اوپر جانے پر جبہ کا سرسبز علاقہ شروع ہوجاتا ہے، جبہ تک پہنچنے کے لیے تین راستے ہیں۔ جن میں سے ایک راستہ قدرے سپاٹ اور کچّی سڑک کی صورت موجود ہے،جو نئے سیّاحوں اور ٹریکرز کے لیے قدرے آسان ہے، مگر ٹاپ تک پہنچنے کے لیے اس راستے پر تھوڑا زیادہ وقت لگتا ہے۔ 

دوسرا راستہ عمودی پہاڑی پر مشتمل اور تھکا دینے والا ہے، جب کہ تیسرا راستہ، انتہائی دشوارگزار ہے۔ تاہم، اس راستے کو اختیار کرنے والے لالکو گاؤں کے درمیان سے گزرنے والی نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے خوب صورت ’’پیازکو آب شار‘‘ تک پہنچ سکتے ہیں، آب شار کے قریب ہی 3 خوب صورت گھاٹیاں ہیں۔سفر لمبا ہے، مگر آس پاس کے پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے مسحور کن مناظر کی وجہ سے سیّاحوں پر تھکن کا احساس غالب نہیں آتا۔ سرسبز پہاڑی میدانوں اور بادلوں کو اپنی لپیٹ میں لیے یہ دل کش علاقہ اب ’’گبین جبہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوچکا ہے۔ پھر یہاں کے خُوب صُورت، سرسبز میدان، مرغزاروں کی وسیع چراہ گاہیں، مٹہ، لالکو گائوں اور یونین کائونسل، سخرہ کے مقامی باشندوں کے مال مویشی ان قدرتی مناظر، حسین نظاروں میں مزید رنگ بھر دیتے ہیں۔ 

سیّاحوں کے لیے کیمپنگ کی سہولت کے علاوہ یہاں ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے، جہاں مناسب قیمت پر قیام و طعام کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ پھر محکمہ سیّاحت، خیبر پختون خوا کی جانب سے سیّاحوں کے قیام کے لیے تعمیر کیے گئے اعلیٰ معیار کے حامل کیمپنگ پوڈز بھی مناسب کرائے پر حاصل کرکے رات گزاری جاسکتی ہے۔ یہاں سیر و تفریح کے خواہش مندوں کو آن لائن بکنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ برف پوش پہاڑوں کے درمیان واقع گبین جبہ کے یہ میدان سطحِ سمندر سے 11 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع ’’درال جھیل‘‘ اور درال پاس کے ٹریک کا نقطۂ آغاز تصور کیے جاتے ہیں۔ یہاں سے تقریباً 2 دن کی دشوار گزار ٹریکنگ کے بعد سیّاح درال جھیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ وسط جولائی سے ستمبر تک کا عرصہ درال جھیل تک ٹریکنگ کے لیے مناسب ہے۔ 

ان مہینوں میں ٹریکرز کم ازکم 4 گلیشیئرز عبور کرکے جھیل تک پہنچ سکتے ہیں، جب کہ باقی مہینوں میں جھیل کے راستے میں کم ازکم 18 گلیشیئرز عبور کرنا پڑتے ہیں، جو یقیناً انتہائی دشوار گزار امر ہے۔ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کے دوران چرواہوں کے غیرآباد مکانوں میں رات گزاری جاسکتی ہے، یا پھر آس پاس خیمے نصب کرکے بھی گزارہ کیا جاسکتا ہے۔ گبین جبہ سے 10 منٹ کی مسافت پر ایک چشمہ ہے، جسے ’’چڑسر چینہ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، مقامی باشندوں کے مطابق اس کے میٹھے پانی میں شفا پائی جاتی ہے۔

محکمۂ سیّاحت و کھیل خیبر پختون خوا کی جانب سے تعمیر کیے گئے پوڈز پورا سال سیّاحوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ ہوٹل کے کمروں کی طرز پر بنائے گئے ان پوڈز کے اندر گرم کمبل، بجلی اور گرم پانی کا بھی خاص بندوبست کیا گیا ہے۔ گرمیوں کے موسم کے لیے پوڈز کے اندر پنکھے نصب ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں واپڈا کی جانب سے ابھی تک بجلی فراہم نہیں کی گئی، لیکن بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پوڈز کے باہر سولر پینل نصب کر دیے گئے ہیں۔ ہر پوڈ سے متصل صاف ستھرے واش رومز بھی بنائے گئے ہیں۔ پوڈز کے قریب چوں کہ کوئی بازار یا مارکیٹ موجود نہیں، اس وجہ سے سیّاحوں کو انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی آگاہ کردیا جاتا ہے کہ کھانا پکانے کا سامان اپنے ساتھ لائیں۔

سیّاحوں کی توجّہ کا مرکز بننے والے خیبر پختون خوا کے اس نئے سیّاحتی مقام کے حوالے سے محکمۂ سیّاحت کے ترجمان، لطیف الرحمان نے بتایا کہ’’ گبین جبہ، سوات کا ایک نیا، لیکن سب سے خوب صورت سیّاحتی مقام ہے۔ دراصل محکمۂ سیّاحت خیبر پختونخوا نے نئے سیّاحتی مقامات کی تلاش میں پورے خیبر پختونخوا میں سروے شروع کیا تھا اور گبین جبہ اسی سروے کا ثمر ہے۔ اس کی دریافت کے بعد عوام کو ایک اورحسین و دل کش، بہت پُر فضا مقام کی سیر کے مواقع میسّر آگئے ہیں۔

رواں برس، گبین جبہ کو پورے پاکستان میں متعارف کروانے کے لیے محکمۂ سیّاحت کی جانب سے اسپورٹس اینڈ کلچرل فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا۔ فیسٹیول میں صوبہ پنجاب اور سندھ سے بھی ہزاروں کی تعداد میں کھلاڑیوں نے شرکت کی اورجنت نظیر وادئ سوات میں اس نئے مقام میں خود کو پاکر بے پایاں مسّرت کا اظہار کیا۔یاد رہے، صوبائی حکومت نے گبین جبہ تک رسائی کے لیے کشادہ سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا ہوا ہے، جس کا بیش تر حصّہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، عن قریب باقی ماندہ حصّے کی تعمیر بھی مکمل کرلی جائے گی۔اورہم نے یہاں کیمپنگ پوڈز اور دیگر سہولتیں بہم پہنچا کر نہ صرف مُلک بلکہ دنیا بھر کے سیّاحوں کو اس پُرفضا مقام کی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔‘‘ 

سیّاحوں کی رہائش کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ پوڈز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ’’پوڈ دراصل موصل لکڑی کی ایک انوکھی جھونپڑی ہوتی ہے، جسے سیّاح، سیّاحتی مقامات کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ایک محفوظ اور آرام دہ رہائش گاہ کے طور پر استعمال میں لاتے ہیں۔ یہ پوڈز پوری دنیا میں استعمال ہوتے ہیں اور محکمۂ سیّاحت، خیبر پختون خوا کی جانب سے گبین جبہ کے علاوہ ملک کے شمالی علاقوں کے دیگر سیّاحتی مقامات پر بھی یہ کیمپنگ پوڈز لگا ئے گئے ہیں۔ بہترین رہائشی سہولتوں سے مزّین ان پوڈز میں دو یا چار بیڈرومز، واش رومز، کچن اور پارکنگ لاٹس موجود ہوتے ہیں اوران کیمپنگ پوڈز کی تنصیب ہی نے سیّاحوں کی بڑی تعداد کو خیبر پختون خوا کے قدرتی مقامات کی طرف راغب کیا ہے۔

بہترین سہولتوں سے آراستہ اور مناسب کرائے کے باعث سیّاح اب ہوٹلز کے بجائے ان پوڈز ہی میں رات گزارنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ عموماً ان علاقوں میں سیّاحتی سرگرمیوں کا آغاز ماہِ جون سے ہوتا ہے۔ تاہم، اس بار سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے موسمِ سرما ہی سے یہاں کا رُخ کرنا شروع کردیا تھا۔ امید ہے کہ وادئ گبین جبہ کی طرح مزید نئے سیّاحتی مقامات کی دریافت سے ان علاقوں میں نہ صرف سیّاحت کو فروغ حاصل ہوگا، بلکہ مُلکی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 

نیز، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اگرچہ ان خُوب صُورت مقامات تک رسائی کے لیے نئی سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر مزید بھرپور اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ نہ صرف مُلک بھر کے سیّاحوں بلکہ دنیا بھر کے افراد کو اس جانب متوجّہ کیا جاسکے۔