• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قانون میں’’غیر آئینی‘‘ ترامیم پر حکومت کا الیکشن کمیشن سے مذاکرات پر غور

اسلام آباد (انصار عباسی) الیکشن ایکٹ 2017ء میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے ذریعے منظور کردہ ترامیم پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحفظات پر حکومت کمیشن کے ساتھ مذاکرات پر غور کر رہی ہے۔

بدھ کو دی نیوز نے خبر شائع کی تھی کہ الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی سے منظور کرائی جانے والی ترامیم پر تحفظات ہیں۔ یہ تحفظات سنگین نوعیت کے ہیں اور آئینی شقوں سے متصادم ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن سے مشاورت پر غور کر رہی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق خدشہ ہے کہ سینیٹ کی منظوری سے ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جانے کے بعد ان ترامیم کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ عدلیہ اس پر منفی تبصرہ کرے۔ یہ صورتحال حکومت کیلئے باعثِ ہزیمت ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی انتخابی اصلاحات کا پیکیج سبوتاژ ہو جائے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن بھی اسے مسترد کر چکی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق حکومتی انتخابی اصلاحاتی بل میں کئی شقیں غیر آئینی ہیں اور بتایا گیا تھا کہ مجوزہ ترامیم کے نتیجے میں الیکشن کمیشن انتخابی اُمور سے متعلق اہم معاملات میں بے اختیار ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی رائے تھی کہ حکومتی بل کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام نادرا کے سپرد کرنے سے کمیشن کے اختیارات ختم ہو جائیں گے حالانکہ آئین نے اس بات کی ضمانت دے رکھی ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے جانے والے کسی بھی بل کے نتیجے میں کمیشن کے اختیارات ختم کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں کم کیا جا سکتا ہے۔

قومی اسمبلی سے بل منظور کیے جانے سے قبل الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا لیکن کمیٹی نے جلد بازی دکھاتے ہوئے بل کلیئر کر دیا اور کمیشن کے تحفظات پر بحث ہی نہیں کی گئی۔

چند روز بل قومی اسمبلی نے بحث کے بغیر جلد بازی میں بل منظور کر لیا۔ اس صورتحال میں نہ صرف الیکشن کمیشن کے تحفظات کو نظرانداز کیا گیا بلکہ اپوزیشن کو بھی ناراض کر دیا گیا۔ اپوزیشن کی رائے تھی کہ قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا اور کوئی بحث نہیں کرائی گئی۔

کمیشن نے تحریری طور بتایا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 17، 21، 24، 25، 26، 34، 44، 95، 104 اور 231 آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ کمیشن کے مطابق، آئین کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیاری اور وقتاً فوقتاً اس پر نظرثانی الیکشن کمیشن کا کام ہے، تاہم حکومتی بل میں یہ کام کمیشن سے لے کر نادرا کو دیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے کردار میں تبدیلی کو آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ سادہ قانون سازی کے ذریعے۔ حدبندی کے معاملے پر بھی کمیشن کا کہنا تھا کہ سرکاری قانون میں وہ تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آئین میں وضح کردہ باتوں سے الگ ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 222 میں ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ کسی بھی قانون کے نتیجے میں الیکشن کمیشن یا کمشنر کے اختیارات میں کمی ہوگی، یہ بات آئین کے باب ہشتم کے حصہ دوم میں درج ہے۔ تاہم حکومتی ترامیم پر مشتمل قانون میں کمیشن کے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ حکومت نے قومی اسمبلی سے بل منظور کر الیا ہے اور متعلقہ قائمہ کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے تحفظات پر کسی بحث کے بغیر اس قانون کی سینیٹ سے منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔  

اہم خبریں سے مزید