• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن نے آئی ووٹنگ پر سرکاری کمیٹی سے اپنا نمائندہ واپس بلا لیا

اسلام آباد (انصار عباسی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایمرجنگ ٹیکنالوجیز برائے انٹرنیٹ ووٹنگ کیلئے صدر مملکت کی زیر قیادت ایڈوائزری کمیٹی سے اپنے نمائندے کو واپس بلالیا ہے کیونکہ حکومت نے ’’غلط‘‘ دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن اُس مشاورتی عمل کا حصہ تھی جس کے نتیجے میں انتخابی قوانین اور نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔ سیکریٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو لکھے گئے باضابطہ خط میں سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر اختر نذیر نے پیر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے حکومت کو آگاہ کیا کہ مسٹر محمد خضر عزیز (ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی آپریشنز) کو آئی ووٹنگ پر ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کی مشاورتی کمیٹی کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر مسٹر خضر مشاورتی کمیٹی کیلئے مزید کام نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا درخواست ہے کہ ان کا نام ایڈوائزری کمیٹی سے خارج کیا جائے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دعوے سے ناراض تھی کہ انتخابی قانون اور نظام میں تبدیلی کیلئے الیکشن کمیشن کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ڈی جی آئی ٹی تکنیکی معاملات پر بات چیت کیلئے سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی پالیسی فیصلہ یا صرف فیصلہ کرنے کیلئے نہیں۔ صرف الیکشن کمیشن کو ہی یہ اختیار ہے کہ وہ کوئی پالیسی فیصلہ کرے اور یہ اختیار سیکریٹری الیکشن کمیشن کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن کو تحفظات ہیں کہ حکومت نے کمیشن کے ساتھ مشاورت کے بغیر ہی نہ صرف اووسیز پاکستانیز بلکہ پاکستان کے اندر بھی آئی ووٹنگ کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی الیکشن ایکٹ 2017ء میں بھی ترامیم کیں۔ حکومتی وزیر اگرچہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن مشاورتی عمل کا حصہ رہا ہے لیکن کمیشن نے نہ صرف ان فیصلوں سے دوری اختیار کی ہے بلکہ سرکاری ترامیم کو کھل کر مسترد بھی کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے انتخابی قانونی فریم ورک میں تبدیلی کیلئے پانچ اجلاس منعقد کیے اور حکومت کی جانب سے تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ کمیشن بھی اس میں شامل رہا۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈٰ جی الیکشن اور ڈی جی لاء (الیکشن کمیشن) کو کمیٹی میں بولنے ہی نہیں دیا گیا جس کے بعد اس بل کو بلڈوز کرتے ہوئے جلدبازی کے ساتھ قومی اسمبلی سے بغیر کسی بحث کے منظور کرلیا گیا۔ حکومتی دعوے اور تبدیلیوں سے پریشان ہو کر کمیشن نے 72؍ میں سے 45؍ مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور تحفظات کے حوالے سے حکومت کو خطوط کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔ یہ دو خطوط وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون و انصاف کو لکھے گئے ہیں۔ ایک دن قبل پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان نے پریس کانفرنس کے دوران خواہش ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن کو ترامیم کے حوالے سے اپنے تحفظات کے متعلق پریس ریلیز جاری کرنے سے قبل حکومت سے بات کرنا چاہئے تھی۔

اہم خبریں سے مزید