• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 7 فیصد پر برقرار


اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی جاری کردی، جبکہ اس دوران شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رہے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ مہنگائی کی شرح سے کم ہے، معاشی ماہر اسے منفی شرح سود کہتے ہیں، تاہم حقیقی شرح سود منفی رکھنے کا سبب نمو پر توجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 سال میں کم ترین سطح پر ہے۔

رضا باقر نے بتایا کہ کووڈ19 کے دوران کیے اقدامات کے باعث معاشی اعداد بہتر ہوئے ہیں، جبکہ کووڈ کی وباء میں پالیسی سپورٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کو مسلسل پانچویں بار مستحکم رکھا گیا ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ جون کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ جون میں کرنٹ اکاؤنٹ بڑھنے کا سبب سیزنل رہا۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ  اپنے فیصلے تک پہنچنے میں زری پالیسی کمیٹی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کے اہم رجحانات اور امکانات، اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کو مدِّنظر رکھا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اعتمادِصارف اور اعتمادِ کاروبار کئی سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں اور مہنگائی کی توقعات کم ہوئی ہیں۔ اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں پیش گوئی ہے کہ نمو مالی سال 21ء میں 3.9 فیصد سے بڑھ کر اس سال 4-5 فیصد تک پہنچ جائے گی اور اوسط مہنگائی حالیہ بلند شرح سے معتدل ہوکر اس سال 7-9 فیصد ہوجائے گی۔

اعلامیے کے مطابق پورے مالی سال21ء میں پاکستان کی بیرونی پوزیشن پچھلے کئی برسوں کے مقابلے میں مضبوط ترین تھی، اسٹیٹ بینک کی پیش گوئیوں کے مطابق مارچ2021ء میں جاری کھاتے کا خسارہ گر کر جی ڈی پی کا صرف0.6فیصد رہ گیا۔

اس میں کہا گیا کہ یہ گذشتہ 10 برسوں میں جاری کھاتے کا کم ترین خسارہ ہے، جسے برآمدات اور ترسیلاتِ زر دونوں کے تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہونے سے مدد ملی۔

اس کے ساتھ مالی سال21ء میں اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں 5.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور وہ 17 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے جو تقریباً تین مہینوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے اور یہ ساڑھے چار برسوں میں ان کی بلند ترین سطح ہے۔

مزید برآں، مالی سال 20ء کے آغاز سے اسٹیٹ بینک کے خالص بیرونی ذخائر کی بفرز (مجموعی ذخائر منہا پیشگی واجبات) میں14.1 ارب ڈالر کا ضافہ ہو چکا ہے۔ 

اعلامیے کے مطابق ستمبر 2020ء سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اسٹیٹ بینک کی روشن ڈجیٹل اکاؤنٹ اقدام سے مزید 1.8 ارب ڈالر جمع ہوئے ہیں۔

پاکستان نے جولائی میں اپنے یورو بانڈ کے ایک اجرا سے اضافی ایک ارب ڈالر کامیابی سے جمع کیے ہیں، جس کے تحت مارچ میں 2.5 ارب ڈالر جمع کیے جا چکے ہیں۔

تاہم اب توقع کی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے منصوبے کے تحت ایس ڈی آر کے نئے اختصاص (allocation) سے پاکستانی ذخائر کے بفرز اگست میں مزید2.8 ارب ڈالر بڑھ جائیں گے۔

مالیاتی شعبے سے متعلق بتایا گیا کہ مالی سال 22ء میں بجٹ خسارہ کم ہوکر جی ڈی پی کے تقریبا 6.3فیصد تک آ جائے گا جو گذشتہ سال جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تھا۔

حکومت کا تخمینہ یہ ہے کہ سرکاری قرضہ جو مالی سال 20ء میں جی ڈی پی کا 87.6 فیصد اور مالی سال 21ء میں 83.1 فیصد تھا، مزید گر کر مالی سال 22ء میں 81.8 فیصد رہ جائے گا۔

اعلامیے میں مہنگائی سے متعلق بتایا گیا کہ مہنگائی اپریل میں 11.1 فیصد (سال بسال) سے کم ہو کر جون میں 9.7 فیصد ہوگئی۔

جنوری سے اب تک پہلی بار جون میں غذائی قیمتیں ماہ بہ ماہ بنیاد پر کم ہوئیں جس کا سبب حکومت کے انتظامی اقدامات اور گندم اور چینی کی درآمدات ہیں۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں کمی ملکی سطح پر منتقلی کو محدود کرنے میں مدد دی ہے۔ 

مالی سال 21ء میں اوسط مہنگائی 8.9 فیصد تھی جو مئی 2020ء میں اعلان کردہ اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کی حدود کے مطابق ہے۔

یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ مہنگائی اسٹیٹ بینک کی سال کے آغاز میں پیش گوئی کی حدود کے اندر یا کسی قدر اس کے نیچے رہی ہے جس سے پیش گوئی کی مضبوط کارکردگی اجاگر ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں یہ نتیجہ مہنگائی کی توقعات کو قابو کرنے میں اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کی حدود کے کلیدی کردار کی اہمیت بھی ظاہر کرتا ہے جس سے زری پالیسی کو معتبر انداز میں مہنگائی کے عارضی دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید