• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرپٹو کرنسی میں ہم زندگی بھر کی پونجی سے محروم ہوگئے ،جوزف

لندن (پی اے) کرپٹو کرنسی میں برطانیہ میں بہت سے لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔ ایک شخص جوزف نے بتایا کہ وہ کئی سال سے کاروبار کررہا ہے اور اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزارنے کیلئے خاصی رقم جمع کر لی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے سوچا تھا کہ وہ بغیر قرضہ لئے ایک بنگلہ خریدے گا اور اپنی زندگی کے آخری ایام اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی میں زندگی گزارے گا، اپنی بچت میں اضافہ کرنے کیلئے اس نے آن لائن سرمایہ کاری شروع کی اور کرپٹو کرنسی کی تجارت شروع کی اور مشتبہ فراڈیوں کے جال میں پھنس گیا، جس میں وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی گنوا بیٹھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اب میں اور میری اہلیہ بہت پریشان ہیں، اب 70 سال کی عمر میں وہ بہت ہی مایوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے آن لائن کاروبار اس لئے شروع کیا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ یہ بہت اچھا ہے اور اس کے ذریعے مجھے ایک بہتر طرز زندگی میسر آسکتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ منافع کما رہا ہے، وہ سرمایہ کاری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقم کمانے کیلئے رقم پر رقم کمانے لگا۔ فراڈیوں کا کہنا ہے کہ اسے اپنی رقم واپس لینے کیلئے 10 فیصد رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بیمار ہے اور فون پر بیہوش ہوگیا تھا اور وہ لوگ کورونا آنے کے بعد بھی لائن پر تھے اور اسے مسلسل ٹیکسٹ میسیج مل رہے تھے، جس میں مزید رقم کا تقاضہ کیا جا رہا تھا، وہ کنفیوز ہوگیا اور مزید رقم ان کے حوالے کرنے پر تیار ہوگیا اور اس طرح اپنی زندگی بھر کی جمع کردہ250,000 پونڈ سے محروم ہوگیا۔ بینک مسلسل کرپٹو کرنسی کے فراڈ کاروبار کے خلاف متنبہ کرتے رہتے ہیں اور شاید ہی اس کے نقصان کی تلافی کریں۔ سٹیزنز ایڈوائس میں کہا گیا ہے کہ 36 ملین افراد اس سال اس طرح کے اسکینڈلز کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں سے 12 فیصد ایسے لوگ ہیں، جنھیں جلد امیر بننے کیلئے جعلی سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی۔ فراڈ مختلف انداز میں کئے جاتے ہیں، جن میں جلد امیر بننے کے لالچ کے علاوہ رومانس کا وعدہ بھی شامل ہے۔ چیرٹی کے پالیسی ڈائریکٹر ماتھیو کا کہنا ہے کہ سوچنا آسان ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ مختلف چیرٹیز نے فراڈ کے اشتہارات کو بھی حکومت کے آن لائن سیفٹی بل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا، اس تجویز پر ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز جلد غور کریں گے۔
یورپ سے سے مزید