• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا صوبہ خیبرپختونخوا اپنی بھرپور فوجی تاریخ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سکندر اعظم کے حملوں سے لے کر انگریزوں کے خلاف مقامی بغاوت تک یہاں مختلف علاقوں میں قلعوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی، جن میں سے بیشتر اب اپنا وجود کھو بیٹھے ہیں جبکہ باقی رہ جانے والوں میں سے اکثر کی حالت اچھی نہیں۔ بیشتر تاریخی قلعے فوج کے زیرِ استعمال ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی وہاں جانے سے قاصر ہے۔ ہم اپنی سابقہ تحریروں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تعمیرشدہ قلعوں کا ذکر کرچکے ہیں۔ آج کی تحریر میں ہم قلعہ گری پر بات کررہے ہیں۔

سوات کے شہر مینگورہ سے 6کلومیٹر کی مسافت پر شگئی اور اوڈیگرام گاؤں کو ملانے والے دیوقامت پہاڑ کی چوٹی پر راجا گیرا کے قلعے (قلعہ گری) کے آثار موجود ہیں، جو کہ اب کھنڈر بن چکا ہے۔ 1958ء میں قلعہ گری کی کھدائی اطالوی آثار قدیمہ کے مشن کے زیرِ نگرانی کی گئی تھی۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ قلعہ ساتویں صدی سے لے کر 10ویں صدی میں سلطان محمود غزنوی کی فوج کی آمد تک قابلِ استعمال رہا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے بیٹے سلطان مسعود نے بھی یہ قلعہ استعمال کیا اور یہاں غزنوی اشراف کو سزا یا نگرانی کے دنوں میں بھی رکھا جاتا تھا۔

راج گیری (راجا گیرا) کے حوالے چینی اور تبتی زائرین کے سفرناموں میں بھی ملتے ہیں۔ سامنے پہاڑ کے دامن میں دریائے سوات رواں ہے۔ دریا اور قلعہ گری کے درمیان مرکزی سڑک ہے۔ ڈیڑھ سو سے زائد سنگی زینے پہاڑی کی ہموار چوٹی پر قلعے کی باقیات تک پہنچا دیتے ہیں۔ 

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ نو منزلوں پر مشتمل ایک بہت بڑا محل تھا، جس کے چاروں طرف موٹی دیواریں تھیں۔ قلعہ کے اردگرد دیوارِ چین کی طرح ایک بہت بڑی دیوار تعمیر کی گئی تھی، جس کے آثار آج بھی پہاڑ کی چوٹی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ نیز مختلف مقامات پر برج (واچ ٹاورز) بھی تعمیر کیے گئے تھے، جن کے آثار بھی باقی ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پر دفاعی نقطۂ نظر سے بنائے جانے والے ان برجوں سے محافظ نیچے وادی پر نظر رکھتے تھے۔

اوڈیگرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کے حملے سے قبل یہ ایک بڑا شہر تھا، جس کا ثبوت پہاڑ کے قدیم آثار اور اوڈیگرام کے قرب و جوار میں بکھرے ہوئے آثارِ قدیمہ سے ملتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رہائشی مکانات، بڑا بازار، تجارتی منڈی اور مذہبی خانقاہیں تھیں۔ 

قدیم منہدم عمارتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے گلی کوچے پختہ تھے، صحت و صفائی کا خاص انتظام تھا۔ یہاں کے آثارِ قدیمہ میں منقش پتھروں پر نقش بہت پرانی تصاویر ملی ہیں، جن میں زیادہ تر گھریلو اور جنگلی جانور دکھائے گئے ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ نقوش 2500 اور2000قبل مسیح کے درمیانی عہد میں کندہ کیے گئے تھے۔

قلعہ گری سے پوری وادی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے یہ دفاعی نقطۂ نظر سے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قلعہ تک تازہ اور میٹھا پانی لانے کے لیے ایک خاص تکنیک استعمال کی جاتی تھی ، جس کے تحت مٹی کے پائپوں کے ذریعے دریائے سوات سے بلند چوٹی تک پانی پہنچایا جاتا تھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق قلعے تک پانی کی فراہمی کے لیے خاص قسم کے چھوٹے چھوٹے برتن بنائے گئے تھے، جنہیں ایک خاص تکنیک سے ایک دوسرے کے اوپر کچھ اس طرح نصب کیا گیا تھا کہ ایک برتن پانی سے بھرتا، تو وہ خود بخود ٹیڑھا ہوجاتا اور اس کا پانی ساتھ ہی نصب دوسرے برتن میں گر جاتا، اس طرح پانی برتنوں کے ذریعے اوپر چوٹی پر نصب سب سے بڑے برتن میں جاگرتا، جہاں سے قلعے کے مکینوں کی آبی ضروریات کو پورا کیا جاتا تھا۔

پانی کا یہ نظام آگے چل کر سلطان محمود غزنوی کی افواج کی فتح اور راجا گیرا کی شکست کا باعث بنا کیونکہ قلعہ کو فتح کرنے کے لیے پانی کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی تھی۔ سلطان محمود غزنوی کا پیغام ملتے ہی چند گھوڑوں کو پورا دن پیاسا رکھا گیا اور اگلے روز انہیں پہاڑی پر چھوڑ دیا گیا۔ گھوڑے زمین سونگھتے سونگھتے ٹھیک اُس مقام پر آ رُکے جہاں سے پانی کی سپلائی لائن گزرتی تھی۔ جب وہ مخصوص جگہ کھودی گئی تو وہاں سے قلعے کی طرف دریائے سوات کا پانی جاتا دکھائی دیا۔ اس کے بعد سپاہیوں نے سپلائی لائن توڑ دی اور پھر مجبوراً راجا گیرا کی فوج قلعہ سے باہر نکل آئی اور شدید لڑائی ہوئی۔

قلعہ گری سے نیچے تاریخی سلطان محمودِ غزنوی مسجد بھی واقع ہے۔ وہاں موجود بورڈ پر لکھا ہے کہ 1984ء میں مسجد کے احاطے سے ایک کتبہ دریافت ہوا، جس پر رقم تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی زیرِ نگرانی مسجد تعمیر کروائی تھی۔ تاہم، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 10ویں صدی سے پہلے مذکورہ مسجد ایک خانقاہ تھی، لیکن فتح کے بعد اسے مسجد کا درجہ دے دیا گیا۔