• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرینا بے سینڈز... سنگاپور کی شاہکار عمارت

مرینا بے سینڈز سنگاپور کا ایک مربوط ریزورٹ ہے، جسے مرینا بے کے سامنے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس شاہکار عمارت کا افتتاح 2011ء میں کیا گیا تھا، جس پر زمین کی قیمت سمیت کُل لاگت 6ارب 88کروڑ امریکی ڈالر آئی تھی۔ مرینا بے سینڈز اور اس کے چاروں اطراف کی تعمیرات کو2009ء میں عوام کے لیے کھولا جانا تھا لیکن اس کی تعمیر میں عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے مٹیریل کی لاگت میں ہونے والے اضافے اور مزدوروں کی قلت کی وجہ سے کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ 

یہ شاہکار عمارت موشے صفدے کی ڈیزائن کردہ ہے، جو تاش کے پتوں (کارڈ ڈیک) سے متاثر ہوکر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کمپلیکس میں تین ٹاورز ہیں اور ہر ٹاور کی اونچائی 191میٹر (627فٹ) ہے جبکہ ان میں 57منزلیں ہیں۔ ان ٹاورز کو اوپر سے340میٹر (1ہزار120فٹ) لمبے کشتی کی شکل کے اسکائی پارک سے جوڑا گیا ہے۔

عمارت کے فنِ تعمیر اور اس کی تعمیر کے دوران ڈیزائن میں کی جانے والی تبدیلیوں کی منظوری اس کے فینگشوئی کنسلٹنٹس نے بھی دی۔ایڈاس نامی آرکیٹیکچرل فرم کو تمام کنسلٹنٹس کوکام دینے، ڈیزائن تیار کرنے ، اسے ہم آہنگ کرنے اور نافذ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی جبکہ اس منصوبے کے لیے اسٹرکچرل انجینئرنگ کا کام برطانوی کمپنی نے مکمل کیا۔ عمارت کے تینوں ٹاورز نیچے سے چوڑے ہیں جبکہ بلندی تک جاتے جاتے ان کی چوڑائی قدرے کم ہوتی جاتی ہے۔ 

ہر ٹاور دو غیر متناسب عمارتوں پر مبنی ہے جنہیں خم دیتے ہوئے ایک دوسرے سے جوڑا گیا ہے (جیسا کہ دو تاش کے پتوں کو مخالف سمت میں موڑا جاتا ہے تاکہ نیچے کی جانب تکون بن جائے)، اس ڈیزائن نے عمارت کی تعمیر میں ایک اہم تکنیکی چیلنج پیدا کیا۔ اس طرز کے ڈیزائن کو عملی جامہ پہنانےکے لیے ٹاور کی دونوں عمارتوں کو عارضی ڈھانچوں سے سہارا دیا گیا اور دوران تعمیر حقیقی وقت میں تشخیص اور تجزیوں کے لیےمسلسل نگرانی کی ضرورت تھی۔ 

عمارت کے تمام ٹاورز کی تعمیر میں موسمیاتی کنٹرول اور آگ سے حفاظت پر خاص توجہ دی گئی ہے جس نے اسے پائیدار اور مضبوط بنادیا ہے۔ اس طرح کی ساختی پیچیدگیوں کی حامل عمارتوں میں بہت زیادہ دھیان، جدید مواد اور جدید تعمیراتی تکنیک کی گہری تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ پارٹیشن وال، کرٹن وال اور چھتوں کی تعمیر میں بےقاعدہ جیومیٹری شامل ہوتی ہے جبکہ ہر جگہ اعلیٰ درجے کی ایچ وی اے سی خدمات کو مربوط کرنا ہوتا ہے۔ دنیا کے مشکل ترین تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک مانے جانے والے اس منصوبے میں آرکیٹیکچرل المونیم گلیزنگ سسٹم کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں لگائے جانے والے سلائیڈنگ دروازے اور کھڑکیاں اسٹائلش انداز فراہم کرتے ہیں اور گلیزنگ قدرتی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

عمارت کی خاصیت اس کا اسکائی پارک ہے، جو بالائی سطح پر تین ایکڑ پر مشتمل ہے۔ اس پارک میں بلندی پر بنا دنیا کا سب سے لمبا انفینٹی سوئمنگ پول، باغات اور جاگنگ ٹریک بنائے گئے ہیں۔ اسکائی پارک میں 3ہزار902افراد کی گنجائش ہے اور یہاں سے پورے شہر کا پینورامک (360ڈگری) نظارہ دیکھنے کا ملتا ہے مگر داخلہ مفت نہیں ہے۔ مرینا بے سینڈز کے انفینٹی سوئمنگ پول کی لمبائی 150میٹر (490فٹ) ہے۔ یہ شمالی ٹاور کی جانب سے 66.5میٹر (218فٹ) باہر کی جانب نکلا ہوا ہے، جو کہ دنیا کے سب سے بڑےپبلک کینٹیلیور پلیٹ فارم (ایسی چھت یا شہتیر جس کے ایک طرف سہارا ہو اور دوسری طرف کوئی سہارا نہ ہو) کے اوپر قائم ہے۔

انجینئرنگ کے حولے سے اس عمارت میں 2ہزار561کمروں پر مشتمل ایک ہوٹل، 74ہزار مربع میٹر (8لاکھ مربع فٹ) رقبے پر مرینا بے سینڈز مال میں دکانیں اور 1ایک لاکھ20مربع میٹر (13لاکھ مربع فٹ) رقبہ پر بنا کنونشن نمائشی مرکز شامل ہے، جس میں 45ہزار لوگوں کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ میوزیم، 4ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش والے دو اسٹیٹ آف دی آرٹ تھیٹر، ’سیلیبریٹی شیف‘ ریستوران، دو فلوٹنگ کرسٹل پویلین اور 19 ہزار مربع میٹر (2لاکھ مربع فٹ) رقبے پر آرٹ سائنس میوزیم بھی موجود ہے۔

اس میں مصنوعی برف استعمال کرتے ہوئے انڈور اسکیٹنگ رنک بھی بنایا گیا لیکن بعد میں اسے مستقل طور پر ڈیجیٹل نمائشوں کے لیے مختص کردیا گیا۔ اسے ڈیجیٹل لائٹ کینوس بھی کہا جاتا ہے، یہ جاپانی آرٹ کلیکٹو ٹیم لیب کی طرف سے کی جانے والی ایک کاوش ہے۔ دنیا کے دو نامور برانڈز کے اسٹور 20ہزار مربع فٹ رقبے والے فلوٹنگ آئی لینڈپر بنے ہیں، جہاں جانے کے لیے پانی میں ایک سرنگ (ٹنل) بنائی گئی ہے۔ 

مرینا بے سینڈز کے شاپنگ مال میں معروف برانڈز کی شاپس اور بالائی منزل پر مشہور شخصیات کے ریستوران ہیں۔ ہوٹل کے ایٹریم میں دو اطراف شیشے کے انوکھے ڈھانچے بنائے گئے ہیں، جن پر پڑنے والی سورج کی روشنی ایک خوبصورت ماحول پیش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تہوں والے باغات کا ایک سلسلہ عمارت کے سامنے والے حصے کی طرف چلا جاتا ہے، جو انتہائی دلکش لگتا ہے۔ سنگاپور کی سیاحت اور معاشی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرکیٹیکچر فرم نے یہ ایک یادگار گیٹ وے بنایا ہے، جس نے شہر کو جدت ، ثقافت اور تفریح ​​کا مرکز بنادیا ہے اور سنگاپور کی اسکائی لائن میں ایک متاثر کن اضافہ کیا ہے۔