• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوال یہ ہے کہ’’ کیا ایشیائی صدی کا آغاز ہوچُکا ہے؟‘‘اِس کا سادہ سا مطلب یہ کہ اب ایشیائی مُمالک ہی دنیا کی رہ نُمائی کریں گے۔دولت کا بہائو مغرب سے مشرق کی طرف ہوگا اور خوش حالی بھی اِنہی ممالک کا مقدّر ہوگی۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب تک کی برتر قوّتیں، کم تر ہو کر پس منظر میں چلی جائیں گی اور اُن کی جگہ نئی طاقتیں لے لیں گی۔طاقتوں کے توازن کا بدلنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں اور نہ ہی دنیا میں ایسا پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔

امریکا مشرقِ وسطیٰ سے عملاً دو سال قبل ہی چلا گیا تھا، جب اُس نے اپنے حلیفوں کے معاملات میں دِل چسپی لینا بند کردی تھی۔ اب وہ وسطی اور مغربی ایشیا کو بھی خیرباد کہہ چُکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین ایک بڑی اور زبردست اقتصادی قوّت بن کر اُبھرا ہے اور اس کی تیز رفتار ترقّی جاری ہے۔وہ اپنی ترقّی کے نقوش جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر افریقا تک ثبت کر رہا ہے۔اس کی اقتصادی قوّت سے یورپ لرزاں ہے، تو امریکا بھی پریشان ہے۔

وہ دونوں اسے اپنے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں، لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اِن چیلنجز کے باوجود مستقبل قریب میں دنیا کے اُفق پر پہلی بار ایشیا کی برتری نمودار ہونے کو ہے؟جغرافیائی لحاظ سے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ سے جاپان تک محیط ہے اور اس خطّے میں بنگلا دیش سے ٹوکیو تک کا علاقہ پہلے ہی ترقّی کی دوڑ میں باقی دنیا کو پیچھے چھوڑ چُکا ہے، جب کہ جنوب مشرقی ایشیا’’ جاپان رائیز‘‘ کے ساتھ ہی ترقّی کے عالمی مقام پر فائز ہے۔اِس لیے ایشیا کی ترقّی کوئی نئی بات نہیں، یہ ایک تسلسل ہے، جو ایک سے دوسرے مُلک منتقل ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا میں آج سب سے ترقّی یافتہ خطّہ جنوب مشرقی ایشیا اور پیسیفک کا ہے۔یہ بنگلا دیش سے سے شروع ہو کر نیوزی لینڈ تک جاتا ہے۔اِسی خطّے میں جاپان جیسا اقتصادی دیو اور چین جیسی بڑی طاقت ہے۔ اِس خطّے میں یہ ترقّی صرف ساٹھ سال کے عرصے میں ہوئی، جو کسی اقتصادی کرشمے سے کم نہیں۔ وہ چھوٹے مُمالک، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد انتہائی پس ماندہ سمجھے جاتے تھے۔ 

آج عالمی ترقّی کی مثال ہیں اور اُن میں سے کئی ایک تو معاشی میدان میں عالمی رہنما بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا بھی ایک ایسا ہی مُلک ہے، جو ستّر سال قبل" مچھیروں کا گائوں" تھا۔ جال سے مچھلیاں پکڑنا وہاں کے باسیوں کا بنیادی روزگار تھا۔ اب ترقّی کا یہ عالَم ہے کہ دارالحکومت، سیول، جو دو پہاڑوں اور ایک دریا کے کنارے واقع ہے، اُس کے دونوں حصّوں کو ملانے کے لیے دریا کے نیچے دس، دس میل لمبے آٹھ پُل ہیں، جن پر ریل گاڑیوں سے لے کر عام گاڑیاں تک دوڑتی نظر آتی ہیں۔

اِن سرنگوں سے گزرتے ہوئے دن، رات کا فرق محسوس نہیں ہوتا۔ تعمیراتی ٹیکنالوجی کے یہ شاہ کار ہم نے خود وہاں دیکھے۔مارکیٹس خریداروں سے بَھری ہیں اور ہر طرف دَمکتے چہروں پر خوش حالی نظر آتی ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کے مُمالک مختلف طاقتوں کے صدیوں غلام رہے اور بیش تر نے صرف ستّر سال پہلے آزادی حاصل کی۔ ان میں سنگاپور جیسے 55لاکھ افراد کے جزیرے اور 24کروڑ جیسی آبادی کے مُلک انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔

تائیوان (چین کا حصّہ) لیکن خود مختار، تھائی لینڈ، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام، کمبوڈیا، جنوبی کوریا، برونائی دارالسّلام اور آسٹریلیا جیسے مُمالک بھی اِس فہرست کا حصّہ ہیں۔ اِن میں سے بیش تر مُمالک بڑے قدرتی وسائل سے بھی محروم ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے امیر ممالک کی طرح ایک صبح سو کر اُٹھے، تو پتا چلا کہ مُلک میں تیل نکل آیا ہے اور دولت مند بن گئے۔پھر کسی نے بندرگاہیں، ہوائی اڈّے، سڑکیں، پُل اور فلک بوس عمارتیں بنادیں، تو کسی نے جدید گاڑیاں اور جہاز وغیرہ فراہم کردیے۔

یوں وہ’’ ترقّی یافتہ‘‘ کہلانے لگے۔ بڑی طاقتوں نے وہاں’’ مارشل پلان‘‘ یا’’ بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ جیسے منصوبے شروع نہیں کیے کہ جن سے اُن کی اقتصادی ترقّی ہوئی، بلکہ یہ سب اُنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور عزم سے حاصل کیا ہے۔یہ ضرور ہے کہ وہاں غیر مُلکی سرمایہ کاری ہوئی اور قرضے بھی لیے گئے، لیکن باہر سے حاصل کی گئی پائی پائی آج وہاں کی ترقّی میں نظر آتی ہے، جب کہ قرضے بھی دہائیاں قبل اُتر چُکے، بلکہ اب تو وہ ممالک خود دوسروں کو قرضے دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اِس بات پر خوشی منائی جاتی ہے کہ جنوبی کوریا نے ہمارا معاشی پلان اپنا کر ترقّی کی۔ 

یہ بات درست بھی ہے، مگر کبھی اِس پر بھی تو سوچیے کہ آخر اُس منصوبے پر ہم خود کیوں عمل نہ کرسکے، جس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں؟ خیر، جنوب مشرقی ایشیا وہ خطّہ ہے، جس میں آج چین اور امریکا، دونوں ہی کی دل چسپی ہے، بلکہ امریکا کا تو کہنا ہے کہ اُس نے اِسی زون پر توجّہ مرکوز کرنے کے لیے مِڈل ایسٹ اور مغربی ایشیا سے پسپائی اختیار کی کہ اُس کے مطابق، چین سے مقابلے کا اصل میدان یہی ہے۔

اِس خطّے کے زیادہ تر مُمالک جزائر، دلدلی علاقوں یا پھر میلوں گھنے جنگلات پر مشتمل ہیں۔ شدید بارشیں، سیلاب اور سمندری طوفان معمول کی بات ہے۔اِن ممالک میں تیل ہے اور نہ ہی دیگر معدنیات کی وافر مقدار۔ جاپان کی مثال سامنے ہے، جو یہاں کی بڑی طاقت اور ترقّی کا ڈرائیور ہے، چین سمیت باقی ممالک نے اسی کا ماڈل اپنا کر ترقّی حاصل کی۔ جاپان کے پاس تیل ہے نہ گیس اور نہ ہی دیگر معدنیات،لیکن دوسری عالمی جنگ کے صرف پندرہ سال بعد وہ امریکا کے بعد دنیا کی سب سے طاقت وَر اقتصادی قوّت بن گیا۔

اُس نے اگست 1945ء میں دو ایٹم بمز کے بھیانک نقصانات کے بعد امریکا کے سامنے سرنڈر کیا۔اُس وقت چین سے لے کر انڈونیشیا تک کے علاقے اُس کی نو آبادیات میں شامل تھے۔ چین کو جاپان کے سرنڈر کے بعد ہی اُس سے آزادی ملی۔ پھر جاپان چار سال تک امریکا کے قبضے میں رہا۔

بعدازاں، امریکی فوجی واپس چلے گئے، لیکن جاپان نے امریکی سیکیوریٹی اور حفاظتی چھتری برقرار رکھی، جسے عرصے تک’’ نیوکلیئر امبریلا‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا رہا۔جاپان کی ترقّی کے اہداف مرتّب کرنے والوں نے اِس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ کون فاتح ہے اور کون شکست خوردہ۔ 

اُنہیں صرف اپنے مُلک کی ترقّی اور اپنے عوام کی خوش حال سے مطلب تھا۔ وہ جنگ کی ہول ناکی دیکھ چُکے تھے، اِس لیے غلطی دُہرانے کو تیار نہیں تھے۔1965 ء تک جاپان دنیا کی نہ صرف دوسری بڑی اقتصادی قوّت بن چُکا تھا، بلکہ اُس نے علاقے کے تمام ممالک کو ترقّی کا ماڈل، عزم اور نیا ولولہ دیا۔ لوگوں میں ایک ایسی روح پھونک دی، جس نے خطّے کی تقدیر بدل ڈالی۔اُس نے دیگر ممالک پر امداد کے ڈھیر نہیں لادے، بلکہ وہ لیڈرشپ اور سوچ دی، جس سے ترقّی ہوتی ہے۔آج چین سمیت پورے خطّے میں وہی جاپانی فلسفہ کارفرما ہے کہ جب تک اقتصادی مضبوطی نہ ہو، سارے نظریے، اصول اور جشن محض دل خوش کرنے کے بہانے ہیں۔

گزشتہ صدی کے آخری عشرے ہی میں یہ بات سامنے آچُکی تھی کہ تیل کی دولت ختم ہونے کو ہے۔ مغربی ممالک نے مشرقِ وسطیٰ کے تیل کا متبادل تیار کر لیا اور آج متبادل انرجی ایک حقیقت بن چُکی ہے۔ جاپان تمام تر تیل درآمد کرتا ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کے باقی ممالک کی بھی یہی صُورتِ حال ہے، لیکن وہ اسی تیل کے ذریعے مصنوعات تیار کر کے ایک ڈالر تیل سے دس ڈالرز کماتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی کمانڈ اُس کے پاس ہے، جس کے لیے یورپ اور امریکا اُس کے محتاج ہیں۔

علاوہ ازیں، اِن ممالک نے اپنے عوام کے لیے جُھکنا سیکھ لیا۔ وہ اپنا مال بیچنے اور اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں۔ جاپانیوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ چُھٹی نہیں کرتے تھے، آج چین بھی اسی ماڈل کو فالو کر رہا ہے، لیکن اپنے ویژن کے ساتھ، گو ہدف ایک ہی ہے کہ اپنے عوام کی خوش حالی اور قوم کی ترقّی۔

اب اِس خطّے میں کوئی غریب مُلک نہیں۔ان کی لیڈر شپ قومی اہداف کے سلسلے میں یک سُو ہے اور اُنھیں یہ بھی علم ہے کہ یہ اہداف کیسے حاصل ہوں گے؟ روز نت نئے تجربات نہیں ہوتے اور نہ ہی بار بار مختلف ممالک کے نظاموں کو اپنانے کی باتیں ہوتی ہیں۔ انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم مُلک ہے، ایک اُبھرتی ہوئی طاقت ہے۔ سماٹرا سے آبنائے ملاکو جیسی اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبی گزر گاہ تک کو کنٹرول کرتا ہے، جو مال بحرِ ہند سے بحرِ الکاہل، یعنی چین سے نیوزی لینڈ تک لے جاتی ہے۔ وہاں مال بردار بحری جہازوں کی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ملائیشیا اس کا پڑوسی ہے، جو مسلم ممالک کا ترقّی میں بیس سال سے زاید عرصے تک رول ماڈل رہا۔وہاں بھی سیاست چلتی ہے، لیکن مُلک کو کوئی خطرہ نہیں، حالاں کہ چاروں طرف غیر مسلم مُمالک ہیں۔

بھارت نے اس خطّے سے قربت بڑھائی ہے، مگر افسوس بنگلا دیش کی علیحدگی کے بعد سے ہم یہاں سے نکل چُکے ہیں۔بھارت اور جاپان میں قریبی روابط ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ہر سال ایک دوسرے کے مُلک کا دَورہ کر رہے ہیں۔ اِن دونوں کو قریب لانے میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ غالباً ،وہ چین سے مقابلے کے لیے بھارت کی اقتصادی قوّت بڑھانے میں دِل چسپی رکھتا ہے۔ آبادی اور بڑی مارکیٹ بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم افغانستان میں بھارت کی واجبی سے موجودگی میں اُلجھ کر اُس کے اصل میدان ،جنوب مشرقی ایشیا کو بھول جائیں۔ یاد رہے، بنگلادیش خطّے کی ترقّی سے فائدہ اُٹھا کر پچاس بلین ڈالرز کی برآمدات کا ہدف حاصل کرچُکا ہے۔

البتہ، اِس خطّے سے متعلق ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اب وہاں باہر کے لوگوں کے لیے کوئی امکانات نہیں رہے۔ویسے بھی جنوب مشرقی ایشیا کے کلچر میں تارکینِ وطن کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا، تو آج جاپان تارکینِ وطن سے بَھرا ہوتا۔ جاپان کو بڑھتی عُمر کی وجہ سے نوجوانوں کی ضرورت بھی ہے، لیکن اس کے باوجود یورپ اور امریکا جانے کے لیے تو سب بے قرار ہیں، لیکن جاپان یا جنوب مشرقی ایشیا کا کوئی رُخ نہیں کرتا۔ روہنگیا مسلمانوں کو بھی وہاں کے کسی مسلم مُلک نے قبول کیا اور نہ ہی کسی غیر مسلم مُلک نے، حالاں کہ یہ یورپ سے زیادہ دولت مند ہیں اور ان کے پاس خالی جزائر کی شکل میں زمین بھی ہے۔ 

انڈونیشیا تین سو سے زاید جزائر پر مشتمل ہے، جن میں سے زیاد ہ تر غیر آباد ہیں۔ملائیشیا کا بھی یہی حال ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی روہنگین تارکینِ وطن میں کوئی دِل چسپی نہیں لی، بلکہ اُنہیں اپنے ساحلوں سے واپس کردیا اور کوئی کچھ نہ کرسکا۔ دراصل، جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی خارجہ پالیسی صرف اور صرف اپنے مُلک، خطّے اور معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ وہاں نظریات اور فلسفوں کی بھرمار ہے اور نہ ہی سیاسی ارسطوؤں کی، صرف ایک رہنما اصول ہے، معاشی ترقّی۔ امریکا نے مِڈل ایسٹ اور مغربی ایشیا سے پسپا ہوکر اِس علاقے پر اپنی توجّہ مرکوز کی ہے۔

یاد رہے، یہ اُس کا روایتی علاقہ ہے، لیکن پرل ہاربر اور ویت نام کی جنگ کے بعد اُسے یہاں کسی بڑی جنگ کا سامنا نہیں رہا اور اب یہ دونوں مُمالک بھی اُس کے قریبی اتحادی بننے کے ساتھ، اُس کا جمہوری نظام اپنا چُکے ہیں۔چین کا اصل مقابلہ اِسی جمہوری نظام سے ہے۔ اگر وہ کوئی ایسا قابلِ عمل نظام پیش نہیں کرتا، جو اُن کے جمہوری نطام کا متبادل ہوسکے، تو پھر اُسے شاید صرف معاشی تعاون ہی پر گزارہ کرنا پڑے گا اور مقابلہ اِسی شعبے تک محدود رہے گا۔فوجیں شاید ہی حرکت میں آئیں۔ شمالی کوریا اس کی ایک حالیہ مثال ہے کہ ٹرمپ جیسے حکم ران کو بھی تند وتیز بیانات کے بعد آخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔

سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد خیال تھا کہ وسط ایشیا ،مواقع کی سرزمین بن کر اُبھرے گا۔ایک تو اُس کے پاس روس جیسے سُپرپاور کا تعمیر کردہ انفرا اسٹرکچر تھا، تو دوسری طرف تیل، گیس جیسے قدرتی ذخائر کی بھی بہتات تھی، لیکن اِس کے باوجود وہ بارہ ریاستیں اور افغانستان ترقّی کی مثال نہ بن سکے۔ دیکھا جائے تو اس کے اطراف چین جیسی اقتصادی قوّت، روس جیسا بڑا اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا حامل مُلک اور چوتھا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا مُلک، ایران موجود تھا۔ پھر وہاں امریکا کی موجودگی، ڈالرز کی برسات اور نیٹو ممالک کی دِل چسپی بھی اہم تھی، لیکن پھر بھی ترقّی کے دروازے نہیں کُھلے۔

وسط ایشیائی ممالک کے سیاسی نظام اور اُن کی ترقّی کے اصول ہنوز طے ہونے باقی ہیں۔اوپر سے افغانستان سے امریکی پسپائی نے خطّے میں ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کی جو لہر دوڑائی ہے، اُس نے سب کو مختلف اندیشوں میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ اہم نہیں کہ مخالف یا دشمن کا کیا حشر ہوا؟ اہم یہ ہے کہ آپ خود کہاں کھڑے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اِس خطّے کا ہر مُلک کسی نہ کسی تنازعے میں اُلجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کر رہا ہے۔

اپنے عوام کے لیے میڈیا مسالا تو بہت ہے، لیکن ترقّی کا راستہ ہے نہ کوئی منصوبہ اور نہ ہی عزم۔ایرانی انقلاب کے بعد توقّع تھی کہ وہ ایک نئے عزم کے ساتھ ترقّی کرے گا، جب کہ اُس کے پاس تیل کی دولت بھی تھی، لیکن وہ پہلے عراق کی دس سالہ جنگ، پھر لبنان کے معاملات، امریکا سے دشمنی، اسرائیل سے جنگی کیفیت، شام، یمن جیسے تنازعات اور عرب ممالک سے کشیدگی ہی سے خود کو بلند نہ کرسکا۔آج تک نیوکلیئر ڈیل اور دوسرے تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔ پاکستان کا بھارت سے کشمیر پر تنازع ہے۔

ازبکستان، آرمینیا سے اور جارجیا، روس سے ٹکرا رہا ہے، جب کہ یوکرین، یورپ اور روس کے درمیان پِس رہا ہے۔ شام، مِصر اور عراق اپنے مسائل میں دھنسے ہوئے ہیں ۔لبنان جو ایک زمانے میں مِڈل ایسٹ کا پیرس تھا، اب تباہ حالی کی تصویر ہے۔ خلیجی ممالک شام، یمن اور ایران سے اُلجھے ہوئے ہیں۔ افریقی ممالک، خاص طور پر وہاں کے مسلم ممالک کی زبوں حالی بھی تکلیف دہ ہے۔سی پیک جیسے ایسے بہت سے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے کہ جن کے ذریعے مشرق سے وسط ایشیا اور وہاں سے افریقا اور یورپ تک مال لے جایا جائے، لیکن سوال یہ ہے، اگر یہ خطّہ سیاسی اور نظریاتی کش مکش اور دشمنیوں سے پیچھا نہ چُھڑا سکا، تو پھر اِن منصوبوں کی کیا افادیت رہ جائے گی؟

سنڈے میگزین سے مزید