• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیز رفتاری کیخلاف ’’دی لمٹس سیو لائیوز‘‘ کمپین میں نوجوان ڈرائیور توجہ کا مرکز

لندن ( پی اے ) تیز رفتاری کے خلاف مہم کے ذریعے نوجوان مرد ڈرائیوروں کو توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے کیونکہ سڑکوں پر اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔غمزدہ والدین اور ایمرجنسی سروس کے اہلکار گریٹر مانچسٹر میں سڑکوں پر ہونے والی اموات میں اضافے کے درمیان ایک نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں۔ مہم میں ڈرائیوروں بالخصوص جوانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ آہستہ گاڑی چلائیں اور جانیں بچائیں ۔ کار حادثات کے تباہ کن اثرات کے جذباتی ذاتی تجربات بھی پیش کئے گئے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر نوجوان مردوں کا خیال ہے کہ’’بدترین صورت حال‘‘ کی وجہ تیز رفتار ی ہے۔ ویڈیوز کی ایک سیریزمیں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح خطرناک حرکات ، جیسے الکحل کے زیر اثر تیز رفتاری یا رف ڈرائیونگ ، کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔ ڈی اور ڈین ولسن نے 2011 میں ایک حادثے میں اپنے 21 سالہ بیٹے میٹ کو کھونے کے صدمے کے بارے میں بات کی۔ سٹاک پورٹ سے تعلق رکھنے والی مسز ولسن نے کہا کہ آپ کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ بچہ سے محرومی کیسی تکلیف دہ ہوتی ہے جب تک کہ آپ اپنا بچہ نہ کھو دیں۔جب آپ اس چابی سے اگنیشن سوئچ آن کرتے ہیں تو آپ کا کنٹرول ایک ایسی چیزپر ہو جاتا ہے جو کسی کی زندگی بھی لے سکتی ہے۔یہ خطرہ نہ صرف ڈرائیور کے طور پر آپ کے لئے ہوتا ہے ، بلکہ دوسرے لوگ جو چل رہے ہیں ، یا دوسرے ڈرائیور بھی اسی خطرہ کا سامنا کرتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ حادثہ ایک بدترین چیز ہے جو کسی شخص کے ساتھ پیش آ سکتا ہے ، تو یہ جاننا کتنا خوفناک ہوگا کہ آپ نے کسی کو اس قسم کی تکلیف دی ہے؟آپ کو ڈرائیونگ کے دوران اپنے فون پر ٹیکسٹ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی فضول باتیں کرنی چاہئیں۔ براہ کرم ڈرائیونگ کو ایک سنجیدہ کام کے طور پر لیں کیونکہ اس کے نتائج بہت بڑے ہیں۔گریٹر مانچسٹر کی سڑکوں پر پچھلے پانچ سالوں میں اوسطا 681 افراد ہر سال ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ۔ پچھلے سال ، 67 افراد ہلاک ہوئے ، جو پانچ سال کی مدت کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے ، 2016 سے 2019 تک بالترتیب 54 ، 50 ، 50 اور 63 اموات ریکارڈ کی گئیں۔گریٹر مانچسٹر پولیس میں فیملی لیژن افسر ، پی سی جان ڈرہم نے کہا کہ آپ کبھی بھی کسی کو یہ بتانے پر ردعمل نہیں دے سکیں گے کہ ان کا پیارا مر گیا ہے۔آپ ان کہانیوں میں سے کسی کا موضوع نہیں بننا چاہتے۔ ڈرائیونگ کرتے وقت آپ جو خطرناک حرکات کرتے ہیں ، چاہے وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلانا ہو یا الکحل اور منشیات کے ساتھ ، یہ سب کچھ حادثات ہونے کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کے نتیجے میں گریٹر مانچسٹر میں ہونے والے حادثات میں 21 فیصد افراد ہلاک یا شدید زخمی ہو جاتےہیں ، جبکہ 40 فیصدکار کا سفر رفتار کی حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔گریٹر مانچسٹر میں رپورٹ ہونے والے تمام حادثات میں سے 58 فیصد ڈرائیوروں کی عمریں 17 سے 35 سال کے درمیان تھیں جبکہ 80 فیصد حادثات میں ڈرائیورمرد تھے۔گریٹر مانچسٹر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے فائر فائٹر سکاٹ بیری گوڈسیل نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ کہ ڈرنک کے ساتھ سڑک پر نہیں آ سکتے۔ الکحل کی سب سے چھوٹی مقدار آپ کے فیصلوں پر بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکتی ہے جو کہ زندگی بھر کے لئے خراب نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔سیفر روڈز پارٹنرشپ کی جانب سے چلائی جانے والی کمپین ’’ دی لمٹس سیو لائیوز ‘‘ کے ذریعے بلدیاتی ادارے اگلے دو ہفتوں تک روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ مزید معلومات https://limitssavelives.co.uk/ پر دستیاب ہیں۔

یورپ سے سے مزید