• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف و حکایت.....ظفر تنویر
نوشیرواں کا فون آیا تو میں سوشل میڈیا میں پھیلی ہوئی ان درجنوں ویڈیوز میں سے ایک دیکھ رہا تھا جن میں برطانیہ میں نوعمربچیوں سے جنسی زیادتی کرنے یااس کی کوشش کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، یہ سفید فام رضاکاروں کے جتھے ہیں جو بغیر کسی مالی منفعت کے اس کام میں لگے ہوتے ہیں ان کی زیادہ تر توجہ انٹرنیٹ کے ان چیٹ باکسز (بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم) پر ہوتی ہے جن کے ذریعے بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے جال میں پھنسایاجاتا ہے،بچوں کی عمریں 16برس سے کم جب کہ ان کو اپنے جال میں پھنسانے والوں کی عمریں 20اور 50 برس کے درمیان دیکھی گئی ہیں لیکن اس سارے قصے کا جو سب سے افسوسناک اور شرمناک پہلو وہ یہ ہے کہ بچیوں کا اس طرح استحصال کرنے والوں کی بہت بڑی اکثریت ہم ایشیائیوں خصوصاً پاکستانیوں کی ہے۔ نوشیرواں چوہدری میرپور سے ہجرت کرکے گزشتہ کئی دہائیوں سے سوئٹزر لینڈ میں آباد اور ایک متحرک انسان ہیں اور ایسے سماجی مسائل پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، میں نے ان سے اس اسکینڈل کا ذکر کیا تو پھٹ ہی پڑے، انہوں نے ان تمام بداعمالیوں کی ذمہ داری 70 کے بعد کی آنے والی تبدیلیوں پرڈالتے ہوئے اس دکھ اور غصہ کا اظہار کیا کہ مذہب کے نام پر جگہ جگہ اپنی دکانیں کھولنے والوں نے کبھی بھی اخلاقیات اور اس کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی اور نئی نئی درسگاہوں اور منصوبوں کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے سوا کسی کے بارے میں نہیں سوچا اور کبھی اصلاح احوال کی بات نہیں کی۔ نوشیرواں کی بات سن کر مجھے وہ تمام لوگ یاد آگئے جنہیں برصغیر سے برطانیہ آنے والا اولین دستہ قرار دیا جاتا ہے مجھے یہ بھی یاد آیا کہ 15 سے 20 برس پہلے بریڈ فورڈ کے ایک فوٹو گرافر ٹم اسمتھ کی تصاویر کا ایک مجموعہ ہوم فرام ہوم (گھر سے گھر تک) شائع ہوئی تھی جس میں میرپور اور بریڈفورڈ کی بے تحاشا تصاویر تھیں یہ دراصل ایک سفر کی کہانی تھی امیگرینٹس کی کہانی تھی جنہوں نے اپنے ایک گھر میرپور سے ہجرت کرتے ہوئے بریڈ فورڈ کو اپنا گھر بنایا تھا یہ وہ تارکین تھے جنہوں نے 50 کی دہائی سے اپنا یہ سفر شروع کیا یہ وہ لوگ تھے جن کی اکثریت ان پڑھ تھی یعنی جنہیں سکول یا مدرسہ کی تعلیم کے وسائل میسر نہ تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں پاکستان کے کسی بڑے شہر کو بھی نہیں دیکھا تھا ایک دن یکایک اٹھے میرپور سے جہلم پہنچے، جہلم سے ریل کے ذریعے کراچی گئے اور پھر چند دنوں میں ہی ولایت پہنچ گئے ،یہ سب ہی قانونی طور پر برطانیہ داخل ہونے سے بریڈ فورڈ کے ٹیرس یا بیک ٹو بیک گھروں میں رہنے والے ان تارکین کے ذہن میں برطانیہ پہنچنے کے بعد بس ایک ہی دھن سوار تھی کام، کام اور بس کام ایک ایک گھر میں گنجائش سے زیادہ افراد کے رہنے کے باوجود ہمسایوں کے آرام اور سکون کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ٹم اسمتھ کی کتاب دیکھیں تو اس میں آپ کو یہ تمام لوگ انتہائی نفاست سے پہنے گئے کپڑوں میں دکھائی دیتے ہیں یہ ان پڑھ ہیں لیکن جانتے ہیں کہ ’’پاجامے‘‘ میں گھر سے باہر نہیں جایا جا سکتا اگر کہیں گھر کے دروازے پر بھی نظر آئیں گےتو ڈریسنگ گائون میں باہر نکلیں گے تو سوٹ بوٹ اور ٹائی کے ساتھ ، مجھے یاد ہے کہ اسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے مجھے اپنی ایک رپورٹ کیلئے بریڈ فورڈ کے ایشیائیوں میں جرائم کی شرح جاننی تھی ابھی کمپیوٹر یا گوگل کا دور ہم تک نہیں پہنچا تھا تحقیق کے لئے صرف لائبریریز یا اخبارات کے دفاتر سے ہی مدد مل سکتی تھی چنانچہ میں لائبریری جا بیٹھا مجھے علم ہوا کہ 50 کی دہائی سے شروع ہونے والی تارکین کی اس بڑی لہر کے باوجود شہر کے کرائم ریٹ میں قطعی اضافہ نہیں ہوا بریڈ فورڈ کے پہلے پاکستانی پولیس آفیسر رشید اعوان مرحوم نے ایک مرتبہ مجھے بتایا تھا کہ یہ ان پڑھ تارکین وطن قانون کی سختی سے پابندی کرتے اور یہی وجہ تھی کہ ایک طویل عرصے تک ان میں جرائم کی شرح صفر رہی اور اب دیکھئے اپنے اَن پڑھوں کی لکھی پڑھی اولاد کے کرتوت، اگر آپ کسی روز بریڈ فورڈ مجسٹریٹس کے دفاتر کے باہر لگی مقدمات کی فہرست دیکھیں کہ وہ شہر جس میں ہم ایشیائیوں، پاکستانیوں،کشمیریوں کی آباد ی میں شرح زیادہ سے زیادہ 25فیصد ہےلیکن عدالتوں کے باہر لگی فہرستوں کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ اس شہر میں بستے ہی صرف پاکستانی،کشمیری ہیں یہ افسوسناک انجام ہے اس سفر کا جو ہمارے بڑوں نے برسوں پہلے شروع کیا وہ اَن پڑھ تھے یہ ماحول ان کیلئے اجنبی تھا لیکن اپنی تمام زندگی ان تمام دھندوں سے دور ہے جو آج کل کی ہماری پڑھی لکھی نسل کا اوڑھنا بچھونا بن چکے ہیں ہمیں ایک اور بات بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارے بڑوں کو صرف اپنا آپ یا اپنے بچوں کو ہی پالنا نہیں تھا بلکہ خاندانی روایات کے مطابق بہت سے دوسرے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کا بوجھ بھی اٹھانا تھا یہاں آج کی نسل کو ایسے کسی بوجھ کا سامنا نہیں ہے انہوں نے اگر پالنا ہے تو اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو، آج بریڈ فورڈ، لوٹن، برمنگھم اور اسی طرح کے وہ شہر جو پاکستانیوں،کشمیریوں سے بھرے پڑے ہیں اس دھندے میں بھی سب سے آگے ہیں راچڈیل بارا دھرم کا اسکینڈل ہو یا کھیلتے ہیلی فیکس اور آکسفورڈ کے قصے ملزمان میں یا مجرمان میں ہمارا ہی نام آتا ہے اور بقول نوشیروان رات پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی شہر میں گھومنے والوں کو نہ کسی کی پروا ہے اور نہ شرم اور ہمارے علماء اور راہبر ہیں کہ کبھی بھی اس بگڑتی صورتحال پر بات نہیں کریں گے ،یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارا مذہب اخلاق اور سلوک پر بھی زور دیتا ہے۔
یورپ سے سے مزید