• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1965 میں لاہور سے کراچی آیا تو یہ شہر مجھے لاہور سے صرف اس لیے مختلف لگا کہ یہاں سمندر اپنی تما م وسعت ،شان و تمکنت کے ساتھ موجزن تھا اور مزے مزے کےکھابے تھے۔ سب ہی شہروں میں وہی تارکول کی سڑکوں کا جال ،انسانوں سے بھری مختلف نام والی آبادیاں ،دکانیں اور با زار ہوتے ہیں۔ لاہور شاہی تاریخ کی دستار رکھتا تھا تو کراچی میں بانی پاکستان کے پیدائشی اور ابدی گھر تھے۔ پشاور میں درہ خیبر جیسی گزرگاہ ، یہ طرہ امتیاز تو سب کا اپنا اپنا تھا۔

1975کی بات ہے جب میں شام کے گہرے ڈراونے سایوں میں سناٹے اور ویرانی میں چنگھاڑتے سمندر سے ڈر کے گاڑی میں بھاگا تو صدر آکردم لیا ۔اور آج جگہ وہی، مگر ڈر لگتا ہے ، اژدھام میں پھنس جانے کا۔ ایک وقت وہ تھا جب طارق روڈ پر ایک دکان بھی نہ تھی ۔ایک بھی شادی ہال تھا نہ کوئی فلیٹ تھا۔دیگر شہر بھی پھیلے، مگر کراچی اس ریس میں خرگوش کی طرح دوڑا اور باقی شہر وں نے کچھوے جیسی رفتار رکھی، چنانچہ یہاں قدرتی افزائش کے اصولوں یعنی ٹاون پلاننگ کے قوانین سے روگردانی کی گئی۔ بے مہار ہجوم نے راتوں رات بستیاں آباد کرکے بجلی، پانی ،گیس جیسی سہولیات بھی خرید لیں، یوں مافیاز نے جنم لیا۔ ہر کام کی ایک مافیا جو رشوت لے اور ناممکن کو ممکن کردے، پھر کسی کا سڑک پر لٹ جانا اب خبر نہیں رہی۔

ہجوم میں رہ کر بھی ہر شخص کی بےکسی ایک تماشائےعبرت ہے۔ اٹھارویں ، بیس ویں منزل پر رہنے والا آپ کے لیے اتنا ہی اجنبی ہو سکتا ہے، جتنا نارتھ کراچی میں رہنے والےکے لیے کلفٹن کا باسی۔ بجلی کا حال تو ابتر ہے ،مگر لفٹ خراب ہے تو اسکول دفتر یا اسپتال جانے کے لیے ٹیکسی، ایمبولنس اوپر نہیں آئے گی۔ محدود آمدنی میں آپ کوپر آسائش زندگی کے خواب دیکھنے کا کیا حق ہے ۔ ہر بڑے شہر میں کثرت آبادی کا علاج یہی ہے کہ آپ عمودی آبادی کے تصور کو قبول کریں ، اس سے شہری سہولیات کا تصور متاثر نہیں ہوتا بلکہ زندگی زیادہ پرُ آسائش ہو جاتی ہے۔ 

وہ شہر ایک انتظامی ڈھانچہ رکھتے ہیں جو آپ کو زمین سے دوری کی کسی تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیتا ۔ دوسرے متعدد تاریخی حوالہ رکھنے والے پرانےشہر جیسے کہ لاہور، ملتان، پشاور وغیرہ سیکڑوں ہزاروں سال کے تاریخی ارتقا میں اپنی اپنی فطری رفتار کے ساتھ بڑھتے پھیلتے ترقی کرتے رہے اور بہت بدل بھی گئے ۔ جو گاؤں تھے وہ قصبے، جو قصبے تھے وہ شہر۔ تمام بڑے شہروں کو دیکھیں، ان کے پاس سیکڑوں کیا ہزاروں سال کا تاریخی ورثہ ہے۔ حفاظتی دروازوں والے لاہور کا نام ہندووں کے رام کے بیٹے لہو سے منسوب ہے۔

دس دروازوں والےملتان کی تاریخ کم سے کم پانچ ہزار سال پرانی ہے،کلکتہ سے لندن روم سے ٹوکیو یا لاس انجیلس سے ماسکو تک، سب تاریخی اثاثہ ہیں۔ کوئی بھی 74سال میں بڑا شہر نہیں بنا، کراچی کیسے دنیا کا چھٹا بڑا شہر بن گیا؟۔ جواب سب جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ بڑائی صرف کثرت آبادی کی بنیاد پر ہے۔

میں نے بارہ سال قبل کراچی سے واپس راولپنڈی کا رخ کیا جو میرے بچپن کا امین ہے۔ اس کے بعد میں موسم سرما میں کراچی آتا رہا اور میں نے نوٹ کیا کہ ایک پوری نسل جو 25 سال کی لاقانونیت اور خونریزی کے اس دور میں پلی بڑھی جب بارہ چودہ سال کے بچے ایک موبائل فون دینے میں مزاحمت پر سیدھی سر میں گولی مارتے تھے اور اپنی بہادری کے قصے سینہ ٹھونک کر سناتے تھے۔ ان کی نفسیات میں سفاکی اور خونریزی نہیں یہ بہادری تھی۔

اب خونریزی تو بند ہوگئی ہے، مگر خون کی خو کا اثر باقی ہے۔ عام آدمی نے ہر قسم کی اذیت و آزار کو ذہنی طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ ٹوٹی یا اندھیری سڑکیں۔ ٹریفک جام ،سارجنٹ کا نذرانہ ، فون اور پرس چھن جانا ، دھوپ بارش میں ویگن کی چھت پر ٹکٹ دے کر سفر ،لال بتی پر سب کو غچہ دے کر یا کسی کی بیک لائٹ توڑ کے نکل جانا،اس میں غیر معمولی کیا ہے؟

تقسیم کے عمل میں ہر زبان بولنے والے ہرتہذیب کے علمبردار، راجستھانی، لکھنوی، بنگالی، مدراسی، حیدر آبادی،گجراتی ہر معاشرتی کلچر کے لوگ ہر سمت سے آئے۔ برمی اور گوا کے مہاجر پہلے سے موجود تھے۔پختون، پنجابی، بنگالی یا بہاری، سرائیکی ا ور بعد میں افغانی پہنچے توشہر بھر گیا، یہ شہر تاریخی طور پر ان میں سے کسی کا نہ تھا،کسی کا اس سے ماضی کا جذباتی اور تہذیبی رشتہ نہیں رہا تھا یہ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ تھا، جس میں انڈیا کے شہروں کے نام پر آبادیاں بسانے کی کوشش ضرور کی گئی۔ دہلی مرکنٹائل، سی پی برارر، لکھنو سوسائٹی اس کی مثال ہیں۔

کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک چیر مین نے اسکیم 33 کے نام سے میلوں زمین کو 40 ایکڑ کے قطعات میں ہر بھارتی شہر سے منسوب کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے کردیا، جس کے کرتا دھرتا وہیں کے باسی تھے۔ اب یہاں آباد افغان مہاجرین کی ہیوی مشنری، ریت بجری کے ڈھیر،ناجائز آبادی بن جانے والی خیمہ بستیاں، ٹرک اور بسوں کے اڈے ،غیر قانونی تعمیرات سب کچھ ہے ۔

جب کراچی سے کیپٹل کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تو یہ ترقی پذیر شہر سیاسی طور پر غیر اہم ہو گیا ۔ صنعتی ترقی کے دور میں ایک بندرگاہ کی تجارتی اورصنعتی معیشت پر کھڑا ہوا،کیماڑی کے آئل ٹرمینل، کراچی پورٹ ٹرسٹ،فشری،شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ، شپ بریکنگ انڈسٹری سب زبردست ریوینیو لاتے تھے اور لاکھوں کے روزگار کا وسیلہ تھے۔ ماری پور کے انڈسٹریل ایریا کے علاوہ نارتھ کراچی، لانڈھی ،کورنگی ،فیڈرل ایریا اور عزیز آباد میں بھی چھوٹے صنعتی علاقے تھے جو اتنے چھوٹے بھی نہیں تھے، اس سے پیداوار اور خوشحالی کا وہ دور شروع ہوا ،جس نے کراچی کو "عروس البلاد" اور روشنیوں کے شہر جیسے خطابات سے سرفراز کیا۔لیکن اس روزگار کی فراوانی نے پورے ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کو کھینچا۔ 

دیکھتے دیکھتے ٹرانسپورٹ کے بزنس میں ایک مافیا قائم ہوگئی، جس نے بہت جلدشہر سے ٹراموے اور سرکلر ریلوے کو اکھاڑ پھینکا،پھر انہوں نے کپڑے کے کاروبار میں قدم رکھا ،پرانی گاڑیوں کے پرزوں اورسبزی منڈی کا کاروبار شروع کیا،پھر چائےپراٹھا آیا۔ جفا کش قوم بوٹ پالش اور مزدوری سب کر سکتی تھی۔ دوسرے مر حلے میں نچلے درجے کے کم سرمایہ والے اور مہارت طلب کام کے لیے کثیر تعداد میں جنوبی پنجاب سے سرائیکی بولنے والے لاکھوں بے روزگار آگئے۔ 

وہ الیکٹریشن، پلمبر، راج مزدور، کار پینٹر، رنگ کرنے والے آج پورے شہر کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ مہاجروں نے دہلی کی نہاری اور حلیم ضروربنائی ، بمبئی بریانی بھی لیکن علی گڑھ کا تالا، میرٹھ کی قینچی اور مرشد آباد کے نقشین برتن خواب فردا ہو گئے۔ کافی لوگ 1957 میں بھی آئے ۔ان کے بچے صنعت وتجارت میں دستیاب مواقع سے فائدہ دہ نہ اٹھا سکے کیونکہ وہ کاروبار جانتے ہی نہیں تھے۔

آج کراچی میں 6 میونسپل کارپوریشن ہیں یعنی 6 ڈپٹی کمشنر ہیں جو تمام شاہانہ مراعات ضرور لیتے ہوں گے، مگر ان کو جانتا پہچانتا کوئی نہیں۔کارپوریشن کی شاندار عمارت اوراس کا ایک مئیر بھی ہے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی بھی ہے لیکن شہر پھر بھی کھنڈر ہو تا جارہا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، لگتا ہے کہ ان کا ٹھیک ہونا ممکن نہیں۔ شہر کے مجبور لوگوں نے اسے بھی نوشتئہ تقدیر کی طرح قبول کر لیا ہےلیکن دوسری طرف انگریز کے دور کا بندر روڈ،برنس روڈ، میکلوڈ (آئی آئی چندریگر روڈ) ہیں جن پر ٹریفک کہیں زیادہ ہے لیکن وہ ٹوٹی پھوٹی نہیں ہیں۔

کئی سالوں سے کوڑا کچرا اٹھانے کامسئلہ ہے۔تعلیمی ادارے اور معیار تعلیم سب تباہ ہو چکے۔ جعلی یاغیر مستند یونیورسٹی سے ایم ایس سی اور ایم بی اے کی ڈگری والے لاکھوں نوجوان ہیں جو کسی صاف ستھرے ایر کنڈیشنڈ ماحول میں اچھی تنخواہ والی وائٹ کالر جاب چاہتے ہیں، مگر یہ کاروباری شہر ہے۔ یہ بے روزگار نوجوان ،نظام میں راتوں رات تبدیل چاہتے ہیں، جس سے معاشی مساوات قائم ہو جائے۔یہ تاریخ کے کسی دور میں نہ ہوا ،نہ ہوسکتا ہے۔

اس شہر میں بھی معاشی نفسیات کا فرق بہت نمایاں ہے۔زیادہ لوگوں کے لیے کراچی مر رہا ہے ۔ غیر قانونی تعمیرات گرائی جارہی ہیں لیکن ملبہ کون اٹھائے گا؟ بے گھر اوربے روزگار کہاں جائیںگے؟ اس بات سے اتفاق کریں نہ کریں لیکن غربت ہی جرائم کو جنم دیتی ہے۔