• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم کیٹ میں 210 میں سے137 نمبر لینے والا پاس ہوگا، PMC

لاہور (محمد صابر اعوان) پاکستان میڈیکل کونسل (پی ایم سی) کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی نے کہا ہے کہ ایم کیٹ کے امتخانات میں 210میں سے 137نمبر لینے والا طالبعلم پاس تصور کیا جائیگا اور اگر کسی طالبعلم کو نتائج پر کوئی اعتراض ہے ہو تووہ آن لائن رویو کمیٹی سے رجوع کر سکتا ہے، نئے قانون کے مطابق ڈاکٹرز کوپی ایم سی سےباقاعدہ لائسنس لینے کیلئے این ایل ای کا امتخان لازماًدینا ہوگا جو سال میں چار مرتبہ منعقد کیا جائیگا، یہ سسٹم پوری دنیا میں رائج ہے تاکہ ایم بی بی ایس کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے اور ہائوس جاب مکمل کرنے کے بعد چند بنیادی سوالوں کےذریعے یہ جانچا جاسکے کہ جس ڈاکٹر کو انسانی زندگیوں کا علاج معالجہ کرنے کا لائسنس جاری کیا جارہا ہے وہ اس پر پورا بھی اترتا ہے کہ نہیں، نجی میڈیکل کالجز اپنے معیار کے مطابق فیس طے کرنے کے خود مجاز ہیں جس کیلئے انہیں اے پلس، اے، بی اور سی میں کیٹاگرائز کر دیا گیا ہے۔ ’’جنگ‘‘ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہاکہ تمام معاملات آن لائن کر دیئے ہیں تاکہ کسی کو پی ایم سی کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انکا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی کے دور میں ہر صوبہ اپنے اپنےطور پر ایم کیٹ کے امتخان لیتاتھا مگر ہم نے ملک بھرمیں رائج تعلیمی نظام کو جانچنے اور میڈیکل کے نصاف کو یکساں بنانے کیلئے ایم کیٹ کا امتخان نیشنل لیول پر لینے کیلئے ایک نیشنل نیٹ ورک سے منسلک کر دیا ہے تاکہ ملک بھر میں جو ڈاکٹربن رہے ہیں انکا معیار عالمی سطح کے مطابق ہو اور ہمارے ڈاکٹر دنیا میں کسی سے کم نہ ہوں، اسلئے اس سسٹم کو رائج کیا گیا جس میں ایم کیٹ کا امتخان دینے والےہر طالبعلم کے سامنے کمپیوٹرائز سسٹم کے تحت الگ الگ سوال ڈسپلے ہوتے ہیں یہ امتخان مکمل طور پر پیپر لیس ہے جس میں ڈاکٹر بننے کیلئے ٹیسٹ دینے والے طالبعلم کی ذہنی کیفت، اسکے تعلیمی معیار، صوبوں میں رائج تعلیمی نظام میں موجود خامیوں سمیت اور بہت سی چیزوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے یہ سسٹم ابھی تو طالب علموں اور ایک خاص طبقہ کو یہ امتخان مشکل لگ رہا ہے مگر ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ لینے والوں کیلئے پوری دنیا میںیہی طریقہ رائج ہے ہم نے باقی دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو اپنے اصولوں کو عالمی معیار کے مطابق لانا ہوگا گزشتہ امتخان میں ملک بھر سے ایک لاکھ 96ہزار سے زائد بچوں نے ایم کیٹ کا امتخان دیاجس میں اس سے پہلے لیے جانے والے ایم کیٹ کے امتخان سے 70ہزار سے زائد بچوں نے زیادہ شرکت کی ،جن میں سے تقریبا 68ہزار سے زائد بچوں نے یہ امتخان پاس کیا جبکہ ملک بھر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی کل نشستوں کی تعداد تقریبا 20ہزار سے زائد ہے، اس طرح صوبوںمیں سیٹیں کم اور بچے زیادہ پاس ہوئے ہیں۔ این ایل ای امتخان جس پر اس وقت ڈاکٹر چاروں صوبوں میں احتجاج کر رہے ہیں کے حوالے سے ڈاکٹر ارشد تقی کا کہنا تھا کہ 1962سے اب تک ملک بھر میں رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد 2 لاکھ 48ہزار سے زائد ہے جن میں سے 1لاکھ 55ہزار کے لا ئسنسوں کا رینول موجود ہے مگر ان میں سے بھی ہزاروں کی تعدا میں ڈاکٹروں کے فائلوں میں قومی شناختی کارڈہی نہیں ہیں، ہم سب سے پہلے تمام عمل کو آٹو میشن پر لیکر آئے تمام ریکارڈ درست کیا اگلے قدم میں ہم تمام ٹیچنگ اسپتالوں بھی لنک کا حصہ بنارہے ہیں تاکہ مریضوں کو اسپتالوں میں ملنے والے علاج معالجہ کے معیار کو بھی چیک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا اس پر احتجاج کرنے والے بھی اس امتحان کو تسلیم کرتے ہیں مگر وہ چاہتے ہیں جو سیشن گزر چکے ہیں ان پر اس کو لاگو نہ کیا جائے مگر قانون کے مطابق یہ ممکن نہیں تاہم اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ اس امتخان کا بنیادی مقصد ڈاکٹروںکو لائسنس سے قبل چیک کرنا ہے ملک بھر سے 14سو ڈاکٹر ز نے اپنے آپ کو اس کیلئے رجسٹرڈ کرایا جن میں 305مقامی گریجویٹ بھی شامل تھےجن میں سے 85فیصد بچوں نے اسے پاس کیا جبکہ مجموعی طور پر 78فیصد بچوں نے اس امتحان کو پاس کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس امتخان کا مقصد پاس یا فیل کرنا یا نالج چیک کرنا نہیں بلکہ ایک سیفٹی کے طور پر ان ڈاکٹرز کو چیک کرنا ہے جو مریضوں کے علاج کیلئے لائسنس لینے جا رہے ہیں اور ایک ریگولیٹر کے طور پر یہ ہمارا حق ہے کہ ہم لائسنس کے اجراء سے قبل انہیں چیک کریں کیونکہ ہمیں معاشرے کے سامنے جوابدہ ہونا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نجی میڈیکل کالجز کو انکے ساتھ اٹیچ اسپتالوں کا معیار بہتر کرنے کیلئے 12ماہ کا ٹائم دیدیا ہے اور انہیں پابند کیا ہے کہ انکے ہسپتالوںمیں 60فیصد مریض ہونے چاہیں، نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کے حوالوں سے ان کہنا تھا کہ قانون نجی میڈیکل کالجز کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی فیس خود طے کریں تاہم ہم نے کالجز کو انکے معیار کے مطابق کیٹگرائز کر دیا ہے جس میں اے پلس، اے، بی اور سی شامل ہے۔ میڈیکل کالجز کے لئے تمام ضابطے اور معیار طے کر دیئے ہیں جس پر عمل کرنا لازمی ہو گا اور اسی کالج کو لائسنس جاری کیا جائیگا۔

اہم خبریں سے مزید