| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
ملک کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کیلئے آج دفتر خارجہ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوگا،وزیراعظم صدارت کریں گے

Todays Print

ملک کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کیلئے آج دفتر خارجہ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوگا،وزیراعظم صدارت کریں گے

اسلام آباد (صالح ظافر) دفتر خارجہ میں جمعہ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف کریں گے جس میں امریکا اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات اور خطے میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کو مختلف امور پر بریفنگ دی جائے گی اور شرکاء کی جانب خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئے خدوخال پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم نواز شریف جمعرات کی شام لاہور پہنچے اور انہوں نے دفتر خارجہ کو ہدایت دی کہ ان کی لندن آمد کے فوراً بعد خارجہ پالیسی کے جائزے اور نظرثانی کیلئے اجلاس منعقد کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان بھارت کی جانب سے امریکا کی جانب سے تعلقات بڑھائے جانے کو غور سے دیکھ رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے امریکا کا دورہ کیا تھا اور وہ یورپ بھی گئے۔ آئندہ ہفتے وہ اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں جو کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہے۔ دفتر خارجہ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فارن آفس کے تمام ایڈیشنل سیکریٹریز شرکت کریں گے اور وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بریفنگ دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی ترجیحی بنیادوں پر بحث کی جائے گی، وزیراعظم نواز شریف کی رواں ماہ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ قازقستان کے دارالحکومت میں اہم ملاقات کی تھی۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی خلاف ورزیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف مجموعی صورتحال کے حوالے سے دفتر خارجہ کی رہنمائی کریں گے۔ دفتر خارجہ کے یکے بعد دیگرے ہونے والے اجلاسوں میں پاکستان کے ایک سال کے دوران بیرونی تعلقات پر بھی نظرثانی کی جائے گی۔