| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
ضلعی و میونسپل انتظامیہ کی لاپروائی، سکھر کی اہم شاہراہوں کے کھلے مین ہولز شہریوں کیلئے دردسر

Todays Print

سکھر (بیورو رپورٹ) ضلعی و میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی عدم توجہی و لاپروائی کے سبب شہر کی اہم شاہراہوں و تجارتی مراکز میں کھلے مین ہولز شہریوں کے لئے درد سر بن گئے، رات کی تاریکی میں موٹر سائیکل سواروں کا گٹروں میں گرکر زخمی ہونا معمول بن گیا۔

ضلعی و میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیر کی جانیوالی شاہراہوں پر گٹروں کے مین ہولز کے ڈھکن نہیں لگائے جاسکے ہیں، شکارپور روڈ، بندر روڈ، ورکشاپ روڈ، محمدی چوک، نیوپنڈ، نواں گوٹھ، گولیمار ودیگر علاقوں میں کھلے مین ہولز شہریوں اور راہ گیروں کے لئے مشکلات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے متعدد بار کی جانیوالی شکایات کے باوجود انتظامیہ مین ہولز کے ڈھکن لگانے سے گریزاں ہے، اہم شاہراہوں و تجارتی مراکز میں کھلے مین ہولز میں اکثر و بیشتر موٹر سائیکلیں، رکشے ودیگر گاڑیاں پھنس جاتی ہیں جبکہ رات کی تاریکی میں موٹر سائیکل سوار کھلے مین ہولز میں گرکر زخمی بھی ہورہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی شکایات پر مختلف علاقوں میں مین ہولز کے ڈھکن لگائے بھی گئے تاہم ڈھکن غیر معیاری ہونے کے باعث جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور انتظامیہ دوبارہ ڈھکن لگانے میں تاخیر سے کام لیتی ہے۔

اہم شاہراہوں و تجارتی مراکز میں کھلے مین ہولز میں گدھا گاڑیاں بھی پھنس جاتی ہیں اور گدھا گاڑیوں کے پہیے ٹوٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے گدھا گاڑی چلانے والے محنت کشوں کو بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ سکھر کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی و تجارتی تنظیموں نے کھلے مین ہولز کے ڈھکن نہ لگائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ضلعی و میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں و تاجروں کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں ہے، مسائل کے حل کے لئے اجلاس منعقد کرکے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر وہ دعوے صرف اور صرف کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں، جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

انہوں نے کمشنر سکھر ڈویژن محمد عباس بلوچ، میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ و دیگر بالا حکام سے اپیل کی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہولز کا فوری طور پر نوٹس لیکر ڈھکن لگائے جائیں تاکہ حادثات کو روکا جاسکے اور شہریوں کی مشکلات میں بھی کمی واقع ہوسکے۔