• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

70سال میں کوئی وزیراعظم 5 سال مدت پوری نہیں کرسکا

Todays Print

اسلام آباد ( عثمان منظور) کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟قیام پاکستان سے اب تک 70سال میں ایک بھی وزیراعظم کواپنی5سال مدت پوری کرنےنہیں دی گئی۔ سب نظریں سپریم کورٹ پرہیں جس نے آج جمہوری منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قسمت کا پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں سےایک فیصلہ سناناہے۔تاریخ خود کودہراسکتی ہے۔

1947ءکے  بعد سے پاکستان میں سیاسی صورتحال نشیب وفراز سے دوچار رہی اور 4منتخب حکومتوں کو فوجی آمروں نے نکال باہرکیا۔ایک وزیراعظم کو قتل تو دوسرے کو عدلیہ کے ذریعے پھانسی ہوئی جبکہ کئی ایک وزرائے اعظم کو صدور نے گھر بھجوایا اور ایک کو سپریم کورٹ نے برطرف کیا۔

آج ایک اور وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا منتظر ہے۔ تاہم ملکی تاریخ میں کبھی سپریم کورٹ نے کسی وزیراعظم کو آئین کے آرٹیکل 3- 184کے تحت گھر نہیں بھجوایایاجوکہ  سوموٹودائرہ اختیار ہے۔ پاکستان کےپہلےوزیر اعظم کو 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں قتل کیا گیا۔ انہوں نے 15 اگست 1947ء کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالاتھا۔پھر دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 17اپریل 1953ء کوگورنر جنرل غلام محمدنےہٹایا۔خواجہ ناظم الدین نےعدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جسٹس منیر کوغلام محمد کے غیر قانونی اقدام کی توثیق کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کرنا پڑا۔

پھرمحمد علی بوگرہ آئے ،انکو بھی 1954ء میں غلام محمد کی جانب سے برطرف کیا گیا ،بعد ازاں وہ دوبارہ وزیراعظم نامزد ہوئےتوانہیں قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں تھی جس پر 1955ء میں گورنر جنرل سکندر مرزا نےان کی حکومت برطرف کر دی۔ چوہدری محمد علی 1955ء میں وزیراعظم بنے لیکن انکی سکندر مرزا سے چپقلش  جو1956ء کے آئین کے نتیجے میں صدر بن گئے تھےکی بناپرمحمد علی نے 12ستمبر 1956ء کو استعفیٰ دیدیا ۔ حسین شہید سہروردی جوعوامی لیگ کے قائدتھےنے 1954ء کے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں اپنی جماعت کوفتح دلائی۔ وہ مسلم لیگ کےسواکسی دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص تھےجنہیں 1956ء میں وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔انہیں سکندر مرزا سےاختلاف کی بناپر 1957ء میں ہٹا دیا گیا۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر کوسہروری کےاستعفےکے بعد سکندر مرزا نےوزیراعظم نامزدکیا، وہ تقریباً 2ماہ  وزیر اعظم رہے۔انہوں نے دسمبر 1957ء میں استعفیٰ دیا۔اسکے بعد سکندر مرزا نے فیروزخان نون کو ملک کا ساتواں وزیراعظم نامزد کیا۔

1958ء میں ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر انہیں برطرف کر دیا۔ 13سال مارشل لاء کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے۔ بھٹو 1973ء کے آئین کی منظوری تک خصوصی بندوبست کے تحت صدر رہے۔انہوں نے  1973ء کےالیکشن میں کامیابی حاصل کی لیکن اسی سال جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے ذریعے انہیں ہٹا دیا۔

1979ء میں مقتدر فوجی عدالتی گٹھ جوڑ کی جانب سے انہیں پھانسی ملی ۔1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں ملک کے بد ترین آمروں کےتحت محمدخان جونیجو پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ایک سیاستدان ہونے کی وجہ سے وہ آمر کیلئے خطرہ بنے رہےاس لئے انکی حکومت 29مئی 1988ء کو سانحہ اوجڑی کیمپ راولپنڈی جسمیں فوجی اسلحہ ڈپومیں دھماکوں سے 100کے قریب افرادجاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھےکی تحقیقات کرانے کے اعلان کے کچھ روز بعد ہی برطرف کر دیا گیا۔1988ءکےالیکشن کےنتیجے میں بینظیربھٹو 2دسمبر 1988ء کو برسراقتدار آئیں۔

1989ء میں مواخذےکی کوشش کو پیپلزپارٹی نےنا کام بنایالیکن صدر غلام اسحاق خان نے 6اگست 1990ء کو آرٹیکل 58ٹو بی کے بد نام صدارتی اختیار کے ذریعے بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بینظیر کے بعدمیاں نواز شریف آئے جو 1990ء میں پہلی با ر وزیر اعظم بنے۔

صدر غلام اسحاق خان نے 1993ء میں انکی حکومت ختم کی لیکن سپریم کورٹ نے اسے بحال کر دیالیکن  پھر مشہورکاکڑ فارمولاسامنےآیا جب اس وقت کا آرمی چیف وحید کاکڑ نے میاں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں سے18 جولائی 1993ء میں استعفیٰ لے لیا۔ بینظیر بھٹو 1993ء میں پھروزیر اعظم پاکستان بن گئیں۔ لیکن انکی دوسری حکومت بھی 3سال ہی چل سکی اورانکےاپنے چنےہوئےوفادار صدر فاروق لغاری نے ان کیخلاف سازش کی اور نومبر 1996ء میں انکی حکومت 58ٹو بی کااختیاراستعمال  کرکے بر طرف کر دی۔

فروری 1997ء کے الیکشن کےنتیجے میں میاں نواز شریف دوبارہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے لیکن 12اکتوبر 1999ء کوجنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگاکر نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد ڈکٹیٹر مشرف کے تحت 3وزرائے اعظم آئے جن میں میر ظفر اللہ خان جمالی 19ماہ تک عہدے پر رہ سکےپھر انہیں مشرف نے گھر بھجوادیا۔

چوہدری شجاعت 2ماہ کیلئے عبوری وزیرا عظم رہےجسکے بعد مشرف کےدوست شوکت عزیز اگست 2004ء میں وزیرا عظم بنے۔ 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں میں پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ گیلانی کیلئےسب اچھاجا رہاتھا تا وقتیکہ انہیں عہدے پر موجودصدر کیخلاف کرپشن کے کیسز ری اوپن کرنے کیلئے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں توہین عدالت کے کیس میں سزا ہوئی۔ گیلانی 23مارچ 2008ء سے 19جون 2012ء تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت کی باقی مدت راجہ پرویز اشرف نے پوری کی جو جون 2012ء سے مارچ 2013ء وزیر اعظم رہے۔

میاں نواز شریف 2013ء میں تیسری بار وزیراعظم بنے لیکن جیسے ہی انکی مدت کا آخری سال شروع ہواتو انہیں سپریم کورٹ میں پاناما کیس نےگھیر لیا۔ سپریم کورٹ جمعےکو(آج) ایک اہم فیصلہ سنائے گی جو نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ کریگا ۔ کیا تاریخ خودکو دہرائے گی اور 70سال میں کوئی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گا؟ اس کےجواب کا سب کو انتظارہے،خداخیرکرے۔

تازہ ترین