| |
Home Page
جمعرات 25 ربیع الاوّل 1439ھ 14 دسمبر2017ء
ادارتی نوٹ
August 13, 2017 | 12:00 am
پاکستان میں اقلیتوں کا مستحسن کردار

Pakistan Men Aqliyaton Ka Mustehsan Kirdar

دوسری تہذیب یافتہ قوموں کے شانہ بشانہ پاکستان میں بھی اقلیتوں کا قومی دن اس بات کے اعتراف میں منایا جاتا ہے کہ وہ قیام پاکستان کے وقت سے ملکی مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور زندگی کے ہر شعبے میں ہر سطح پر وطن کی خدمت میں پیش پیش چلی آرہی ہیں۔ اس حوالے سے صدر مملکت کا ایوان صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب میں یہ کہنا کہ اقلیتوں کا احترام ہمارے قومی مزاج، اسلامی تعلیمات اور تربیت کا نتیجہ ہے، بالکل بجا اور ملک و قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمانی ہے۔ صدر مملکت کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ملکی دفاع کے لئے اقلیتوں کی قربانیاں کسی سے کم نہیںاور پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ خصوصی تقریب کی سب سے اہم بات بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تقریر کے پیغام کو اجاگر کرنا تھا جس میں انہوں نے مملکت پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق کی یقین دہانی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ ریاست کو کسی کے مذہب سے کوئی تعرض نہیں ہو گا خود کو سیکولر کہلانے کے دعویدار بھارت کے بر خلاف پاکستان ہندوئوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ 2012میں اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہندو14لاکھ 15ہزار، عیسائی بارہ لاکھ70ہزار، قادیانی ایک لاکھ 25ہزار، سکھ6148، پارسی چار ہزار، بودھ مت کے پیروکار، 14ہزار اور باقی غیر مسلم ایک لاکھ کے قریب ہیں۔ بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں ہندوئوں کی شرح آبادی 79.80فیصد اور مسلمانوں کی 14.02فیصد ہے۔سوا ارب کی آبادی میں تقریباً 22کروڑ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے ہاتھوں بے پناہ ظلم و ستم سہنے پڑ رہے ہیں۔ الحمدللہ آج پاکستان سنہرے اسلامی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اقلیتوں کو احترام دینے میں سرفہرست ہے اوراقلیتیں بھی وطن عزیز کی دل و جان سے خدمت کر رہی ہیں۔