پاناما ۔ اور اب شوگرکی تلخی

February 15, 2017
 

مصیبت کبھی اکیلی نہیں آتی۔ اس وقت حکمران خاندان کو اس محاورے کی اچھی طرح سمجھ آرہی ہوگی، اور شاید اُن کی ضر ب المثل خوش بختی کے دن تمام ہواچاہتے ہیں۔ اس وقت غیر معمولی صورت ِحال سامنے آرہی ہے جس کا پہلے کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا۔ پاناما اپنی جگہ پرموجود، عدالت میں اس کی سماعت کا آغاز ہوا چاہتا ہے، پریشانی کی فضا گہری، اور اگر یہی کافی نہ تھا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جب تک لاہور ہائی کورٹ کیس کو نمٹا نہیں لیتی، شریف فیملی کی شوگر ملز، جن میں سے تین جنوبی پنجاب میں منتقل کی جاچکی ہیں، گنے کی کرشنگ روک دیں۔شریف خاندان کے لئے یہ بھی تشویش کا باعث ہے کہ اب کیس حتمی نتیجے کے قریب ہے۔
کئی برسوںسے وہ اقتدار کے ایوانوں میں برا جمان رہے ہیں۔ اس دوران نرم خو جج حضرات کے فیصلے ان سے داد پاتے رہے۔ تاہم وہ ماضی تھا، اب موجودہ عدلیہ سے اس رعایت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ ماضی کے ججوں کی مثال نہیں، اور شوگر ملز کیس شاہ صاحب کی عدالت میں ہی ہے۔ آپ حکمران طبقے کو زیر لب آزاد عدلیہ کو کوستے سنیں گے۔ ہنری دوئم نے کہا....’’کیا کوئی مجھے اس پریشان کن پادری سے نجات نہیں دلائے گا‘‘، اور اُن کے مصاحب تلواریں لے کر تھامس بیکٹ کی طرف لپکے۔ اب یہاں ان پریشان کن جج حضرات کا کیا کیا جائے ؟آج کی پکار تو یہی ہے، لیکن اب وقت آگے بڑھ چکا، آپشن تحلیل ہوچکے، اور حالات کی ستم ظریفی دیکھیں اب 1997 ء جیسا دھاوا بولنا بھی ممکن نہیں جب پی ایم ایل (ن) نے سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر دوججوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا۔
پی ایم ایل (ن) کے بلند آہنگ وزرااب کھوکھلی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بے گناہی کانیا ڈاکٹرائن ارزاں کررہے ہیں کہ چونکہ نواز شریف عوام کے ووٹوںسے وزیر ِاعظم بنے ہیں، اس لئے صرف ووٹ ہی اُنہیں گھر بھیج سکتے ہیں۔ اگر امریکہ میں بھی یہی ڈاکٹرائن مستعمل ہوتا تو واٹر گیٹ اسکینڈل کاکوئی وجود نہ ہوتا کیونکہ صدر نکسن کہہ سکتے تھے کہ چونکہ اُنہیں عوام نے ووٹ دئیے ہیں، اس لئے وہ کسی کو جواب دہ نہیں۔ چنانچہ کون ہے جو اُنہیں مورد ِ الزام ٹھہرائے ؟
چنانچہ یہ حیرانی کے شگوفوں کی بہار کا موسم ہے، معجزوں کی فصل اُگ رہی ہے، افسانوی واقعات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ ایک طرف قطری الف لیلہ کے تازہ ایڈیشنز کا تانتا بندھا ہو ا ہے تو دوسری طرف فرض شناس صاحبزادگان بتاتے ہیں کہ اُن کی تمام گمشدہ اشیاء ابا جی مرحوم کے مزار کے آس پاس کہیں کھو چکی ہیں۔ جج حضرات کے ہر سوال کے جواب میںیا تو قطری سندباد کی سند رکھی جاتی ہے یا میاں شریف مرحوم کا نام لیا جاتا ہے۔ جس دوران نیکی اور پرہیز گاری کی نمود کی مضحکہ خیز کوشش جاری، پچھتاوے یا شرمندگی کا ان میں سے کسی کے چہرے پر شائبہ تک نہیں۔ صورت ِحال یہ ہے کہ ان کے وکلا، جن میں سے کچھ نہایت فصیح البیان قانونی ماہر ہیں، کے توشہ خانے میں ان کے لندن فلیٹس یا سمندر پار اکائونٹس کے دفاع کے لئے ایک ٹھوس دلیل بھی نہیں۔ اس کی بجائے ان کی کہانیاں سن کر لوگ ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہورہے ہیں۔ یقیناً جج حضرات سنجیدگی کے مظہر ہوتے ہیں، عدالت میں قہقہہ لگانا اُنہیں زیب نہیں دیتا۔
محترم صدر ِ مملکت ایک دانا شخص ہیں، لیکن پتہ نہیں کہ یہ بات اُنھوںنے سوچ سمجھ کر کی تھی یا بلا ارادہ منہ سے نکل گئی تھی (اور اس موضوع پر اس سے زیادہ سچے الفاظ ممکن نہیں)کہ پاناما لیکس آسمان سے نازل ہونے والی بلائے ناگہانی ہیں۔پاکستانی سیاست میں طویل عرصہ گزارنے والے موجودہ حکمرانوں نے کبھی ایسی آزمائش کا سامنا نہیں کیا ہوگا۔ کئی برسوںسے اُن پر الزامات لگائے جاتے رہے لیکن بطخ اپنے پروں پر بھلا پانی کب ٹھہرنے دیتی ہے....اصغر خان کیس، جس میں 1990 کے انتخابات میں آئی ایس آئی سے رقم لینے کا الزام تھا، اور پھر ماڈل ٹائون قتل ِعام کا بھی کچھ نہیں بنا۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی انسان نے نہیں، بیرونی خلا سے آنے والی کسی نادیدہ مخلوق نے ہلاکتیں کی تھیں۔ کسی بھی ملک، چاہے شام جیسا شورش زدہ ملک کیوں نہ ہوتا، میں پیش آنے والا ایسا واقعہ عالمی اشتعال کو دعوت دیتا، اور اس میں ہمارے امریکی دوست پیش پیش ہوتے۔ اس حملے کے تمام واقعات کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے لیکن پھر کسی بلیک ہول میں غائب ہوگئے۔ جسٹس باقر نجفی صاحب کی رپورٹ کہاں ہے ؟ اس کا کیا بنا؟ اسے عوام کے سامنے پیش نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟کون سا خوف دامن گیر ہے؟
چنانچہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب ان کی کشتی پاناما کی چٹانوں میں اس طرح پھنس گئی ہے کہ نکلنے کی کوئی تدبیر دکھائی نہیں دیتی، اور ستم یہ کہ عوام کے ذہن پر ان کی کسی دلیل کا مطلق اثر نہیں ہورہا، چاہے وہ داستان ِقطر ہویا مرحوم کی یاد میں کی گئیں گزارشات۔ جیسا کہ یہ مصائب کچھ کم تھے، اب ایک اور مصیبت سر پر نازل ہوگئی ہے۔ بے شک ان کے دسترخوان پر نعمتوںکی کمی نہیں، اور اگر حکمران خاندان ان دوسری جگہ منتقل کردہ شوگرملز کے بغیر ہی کام چلالیتا تو بھی کافی تھالیکن ان کی لامتناہی بزنس مفاد پرستی سے ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ انسان کوکتنی دولت درکار ہوتی ہے ؟ ضمنی، لیکن اہم سوال، ایک انسان کوآخری کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے؟پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ2006 ء کے ایک نوٹی فکیشن میں ترمیم کرتے ہیں جو شوگر ملوں کی ایک مقام سے دوسرے پر منتقلی پر پابندی لگاتا ہے۔ اس ترمیم کی وجہ اپنا کاروباری مفاد ہے۔ اس کو جواز بنا تے ہوئے اپنے خاندان کی تین شوگر ملوں کو جنوبی پنجاب منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جنوبی پنجاب کپاس کی پیداوار کے لئے مشہور ہے۔ یہ اختیار کا انتہائی ناروا مظاہرہ ہے، لیکن پھر حکمرانوں میں اختیار کے درست استعمال کی مثال کہاں ہے ؟اسلام کے اس قلعے کے لئے ایک زرداری ہی کافی تھے،اور یہاں شریف برادران اُن کی ہنر مندی کو بازیچہ اطفال بناتے ہوئے۔ پی پی پی کے بارے میں فرض کیا گیا تھا کہ وہ ہاتھ مارنے میں کسی رورعایت کی قائل نہیں، جبکہ شریف برادران قدرے محتاط اور وضع دار ہیں۔ پی پی پی کی بدعنوانی تو ایک کھلی کتاب،لیکن شریف برادران کی ہنرمندی علم بیان کی نزاکتوں میں پنہاں، لیکن پاناما اسکینڈل کی ’’اک جست نے طے کردیاقصہ تمام‘‘۔
یہاں کم از کم آصف زرداری کو ایک کریڈٹ دینا پڑیگا کہ وہ اس طرح آہ وزاری کبھی نہیں کرتے۔ جب اُنہیں بے پناہ آزمائش کا سامنا تھا، اُنہوں نے کوئی ’’قطری پراکسی ‘‘ استعمال نہ کیا،نہ ہی الزامات کا رخ اپنے مرحومین کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔
حالات جو بھی تھے، اُن کے چہرے پر مسکراہٹ بدستور کھیلتی رہی، لیکن یہاں تو گلا رندھ گیا ہے۔ اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعدبھی مشرف اپنے قدموں پر کھڑے رہے۔اُنھوںنے کبھی اُن افراد کے بارے میں کوئی سخت بات نہیں کی جنہوںنے اُنہیں اقتدار کے دنوں میں نوازا تھا اور اب وہ اُن کے آس پاس، کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ لیکن موجودہ حکمرانوں کو اﷲ نظر ِ بد سے بچائے، وہ بے چینی سے پہلو بدل بدل کر ایسی ایسی کہانیاں سنارہے ہیں کہ بڑے بڑے لکھاری دم بخود ہیں۔



.


مکمل خبر پڑھیں