تبدیلی یا الیکشن؟

March 27, 2018
 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چند روز قبل لاہورکا دورہ کیا جو میڈیا کی زینت نہ بن سکا۔پی ٹی آئی ورکرز اور عہدیداران کیلئے کپتان کا یہ دورہ انتہائی حیران کن تھا کپتان نے اپنے دورے سے قبل لاہور اور پنجاب کے اہم رہنما علیم خان، چوہدری سرور اور اعجاز چوہدری کو خصوصی پیغام دیا تھا کہ لاہور کے پرانے ورکرز سے ملاقات کرائی جائے۔ مجھے یاد ہے کہ جب عمران خان تحریک انصاف کے نام سے سیاسی جماعت بنا رہے تھے تو اس وقت ہر شعبہ اور طبقہ کے لوگ جوق در جوق پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے تھے اورپارٹی میں شامل ہونے والے افراد سمجھتے تھے کہ حقیقی معنوں میں ایک نئی قیادت آرہی ہے جو پاکستان کی سیاست کیلئے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول جماعت بنتی گئی لیکن پارٹی کے مخلص اور نظریاتی ورکرز اپنے چیئرمین سے دور ہوتے چلے گئے اور انکی جگہ پارٹی میں شامل ہونیوالے نئے ورکروںنے لے لی۔لاہور سے تحریک انصاف کے سابق صدر شبیر سیال نے مجھے بتایا کہ ہمیں پیغام ملا کہ کپتان اپنے پرانے جانثار ورکروں سے ملنا چاہتا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات حیران کن اور خوشی کی تھی لیکن آپ بتائیں اس حوالے سے کیا خبر ہے تو اس پر میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’میں پارٹی کا ورکر ہوں نہ ہی حصہ، اس بارے میں کیا بتا سکتا ہوں کہ کپتان کو آپ کی یاد کیوں آئی‘‘۔ بہرحال تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور کے چیئرمین سیکریٹریٹ میں اپنے تمام گمنام سپاہیوں اور دیرینہ کارکنوں کو مدعو کیا اور کئی گھنٹوں پر محیط نشست کی۔
شبیر سیال جو لاہور سے تحریک انصاف کے سابق صدر ہیں ،لاہور سے ہی ایم پی اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑےاور آئندہ بھی امیدوار ہیں، کو ملاقات کے دوران کپتان نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے اصل ہیرو ہو اور تم نے تب پارٹی کی لاہور سے صدارت کی جب ہمارے ساتھ چند درجن لوگ ہوا کرتے تھے اور مجھے آج بھی یاد ہے کہ تم نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا تھا جس میں لوگوں کی تعداد کم تھی لیکن یہ اچھی کاوش تھی۔ اسی طرح چکوال سے تعلق رکھنے والے ایک اور ورکر اشتیاق جو پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں،نےپارٹی کی خدمت کیلئے اپنے علاقہ سے تعلق توڑا اور لاہورآکرکئی سال پارٹی کے آفس میں ہی رہے اور بغیر کسی فائدے کے پارٹی کی خدمت کی۔ ایک اور ساتھی رانا اختر بھی پارٹی کے پرانے ورکر ہیں اور پہلے دن سے ہی پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں اسی طرح ڈاکٹر شاہد نے 1997ء اور 2002ء میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور 20ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے جوپارٹی کیلئے حیران کن تھا ان کے بھی پارٹی سے گلے شکوے رہے ہیں۔ڈاکٹر شاہد کا بھی پارٹی میں وہ مقام نہیں جس کی وہ توقع کرتے ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ملاقات کے بعد ڈاکٹر شاہد کے دل میں بھی حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوا ہے ایسے ہی سینکڑوں کارکن جن میں ایک اور ورکرعمرچیمہ جو عمران خان کے ترجمان بھی رہے کافی عرصہ سے نظرانداز تھے ۔ عمران خان نے تعریفی کلمات کہتے ہوئے عمرچیمہ کو اپنا جانثار ساتھی قرار دیا۔یہ نشست اس حوالہ سے خوش آئند ہے کہ کپتان کو اپنے پرانے ورکروں کی یاد آئی اس نشست کے بعد عمران خان نے اپنے ورکروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کبھی یہ نہ سوچیں کہ میں آپ سب کو بھول گیا ہوں یا آپ کا پارٹی میں کوئی مقام نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ سب پارٹی کا اثاثہ تھے ، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ حالیہ ہونیوالی نشست سے پارٹی ورکرز بہت خوش تو ہیں لیکن ساتھ ہی حیران بھی ہیں کہ اچانک کپتان کو انکی یاد کیوں آئی۔ اس حوالےسے دلچسپ تبصرے بھی کیے جارہے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے عمران خان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پرانے ورکرز ہی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انکو فعال کیے بغیر پارٹی آگے نہیں بڑھ سکتی جبکہ کچھ ورکرز کا کہنا ہے کہ ہمارے کپتان کو آئندہ عام انتخابات سے قبل ہماری ضرورت ہے اسلئے ہمیںبلا کر کوشش کی گئی کہ ہم پارٹی کو فعال کرکے بہتر نتائج حاصل کریں۔ کپتان کی اس ملاقات کے بارے میں قیاس آرائی قبل از وقت ہوگی لیکن اگرکپتان کو واقعی اپنے ورکر زیاد ہیں تو آنیوالے دنوں میں پتا چل جائے گا کہ کپتان کیساتھ صرف’’اسٹیٹس کو‘‘ کے حامی صف اول میں کھڑے ہوں گے یا پھر دیرینہ ورکرز کو بھی کوئی جگہ ملے گی۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے چند مخلص ورکرز کے مطابق پنجاب کا ٹھیکہ علیم خان کے پاس ہے اور علیم خان کے منظور نظر لوگ ہی اہم تنظیمی عہدوں پر ہیںجس کے کندھے پر علیم خان ہاتھ رکھے گا اسے کم از کم وسطی پنجاب کی حد تک ٹکٹ ضرور ملے گا۔ کپتان کو چاہیے کہ دیرینہ ورکرز سے ملاقات کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر ونی معاملات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے اگر حالات یہی رہے تو جن نتائج کی توقع عمران خان کررہے ہیں وہ حاصل کرناتقریباً ناممکن ہے۔


مکمل خبر پڑھیں