جمہوریت آخر جیت گئی

May 05, 2018
 

گزشتہ کالم "کائنات اور نظم کا اصول" پر قارئین کا ردعمل توقع کے عین مطابق تھا۔ سب سے دلچسپ دو حرفی میسج "بہت حیران کُن" برادرم فاروق عالم انصاری نے لاہور سے بھیجا۔ انصاری صاحب خود صاحبِ قلم ہیں اس لئے میں یہ ہر گز نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے دو حرف بھیجے ہیں لیکن مجھے احساس ہے کہ میرے کالم کے کچھ مثالیت پسند قارئین نے ضرور ایسا ہی سوچا ہو گا۔ وجہ اسکی بڑی سادہ ہے، میرے مستقل قارئین جانتے ہیں کہ میں اپنے کالم کی نیو ہمیشہ آئیڈیلزم پر اُٹھاتا ہوں۔ یعنی میرا زور "کیا ہونا چاہئے" پر ہوتا ہے نہ کہ "کیا ہو رہا ہے" یا پھر موجودہ حالات میں "کیا ہو سکتا ہے" پر۔ اسی لئے کچھ دوستوں کو روایتی طرزِ تحریر سے بغاوت کچھ گراں گزری۔
مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میرا اندازِ فکر وقت اور حالات کےساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ علامہ اقبال کہہ گئے
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
علامہ اقبال کے اس شعر کا ماخذ بابائے بیالوجی چارلس ڈارون کا ارتقا کا نظریہ تھا، جس نے سائنس حتی کہ سوشل سائنسز اور آرٹس کے میدانوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ پچھلے ڈیڑھ دو سو سال میں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو ہوشربا ترقی کی ہے (اور جس میں ہمارا بحیثیت قوم حصہ صفر ہے) ارتقا کا نظریہ اس کے بنیادی تصورات میں شامل ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جو لا علمی اور تنگ نظری شدت سے مستعمل ہے، اس ماحول میں ارتقا کے نظریے کی الف ب سمجھے بغیر اس پر جانے کون کون سی تنقید کر دی جاتی ہے۔
خیر، آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان کی جمہوریت کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں جنہیں بوجوہ بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوریت نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ آمریت اور جمہوریت کی جنگ میں جمہوریت نے ایک قابلِ فخر کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ اور وہ کامیابی یہ ہے کہ دوسری سویلین جمہوری حکومت چند روز میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے کو ہے۔ غالب امکان یہ ہی ہے کہ اگلے انتخابات وقت پر ہوں گے اور عنقریب انکی تاریخ کا اعلان بھی ہو جائے گا۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں یہ دوسری سویلین حکومت ہے جس نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس حکومت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اقتدار ایک آئینی اور جمہوری طور پر منتخب ایسی حکومت سے لیا تھا جس نے اپنی آئینی مدت پوری کی تھی ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اگلی حکومت بنانے کیلئے کس قدر دھاندلی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اور اس بات سے بھی قطع نظر کہ اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی بنتی ہے، تحریک انصاف کی، پیپلز پارٹی کی یا پھر بلوچستان فارمولےکے تحت آزاد نشستوں پر منتخب ہونے والی کوئی حکومت،پاکستان کی جمہوریت کیلئے یہ بہر حال ایک نیک شگون ہو گا۔ جمہوریت جڑیں پکڑے گی تو ہی شاخیں اور تنے، پتے اور پھل پھول لگیں گے۔ دوسرا پُر امن سویلین انتقالِ اقتدار اور تیسری منتخب سویلین حکومت کا قیام کم از کم ہمیں اس مرحلے سے آگے لے جائے گا جس میں وقفے وقفے سے جمہوری پودے کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا تھا۔ اگلے مرحلے میں ہمارے بحث کے موضوعات بھی تبدیل ہو جائیں گے۔ پہلے ہم یہ بحث کرتے تھے کہ آمریت اچھی ہے یا جمہوریت۔ اب ہم یہ بحث کر رہے ہیں کہ جمہوریت میں کنٹرولڈ جمہوریت کا کوئی تصور ہے یا نہیں۔ اور اگر ان شااللہ تیسری منتخب حکومت قائم ہو جاتی ہے تو ہماری بحث ارتقا کی ایک اور سیڑھی چڑھ چکی ہو گی۔ پھر ہم بحث کیا کریں گے کہ جمہوریت کا معیار حالات و واقعات کی روشنی میں اچھا ہے یا نہیں اور اس کا معیار مزید کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ باخبر لوگ اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگلے انتخابات کے خلاف شایدکوئی سازش ہورہی ہے لیکن آج کے دن ہم انگریزی محاورے کے مصداق یہی کہہ سکتے ہیں کہ "ہم پُل اس وقت عبور کریں گے جب ہم اس پر پہنچیں گے" اور آج کے حالات کے مطابق مجھے قوی امید ہے اب ہمارے جمہوری سفر کے راستے میں کوئی "پُل" نہیں آئےگا۔
جمہوریت کی اس جیت کے موقع پر ہمیں ان اہم کرداروں کو اسکا کریڈٹ دینا نہیں بھولنا چاہئے جن کے درست فیصلوں کی بدولت جمہوریت کو یہ فتح نصیب ہوئی۔ اس کامیابی کا سب سے زیادہ کریڈٹ افتخار چوہدری، آصف زرداری اور جنرل کیانی کو جاتا ہے۔ پہلی سویلین حکومت جس نے اپنی آئینی مدت پوری کر کے تاریخ رقم کی، یہ تین اصحاب اسکے اہم کردار تھے۔ ایسا نہیں کہ اس حکومت نے اپنی مدت جس طریقے سے پوری کی اس میں کوئی قابلِ فخر بات تھی لیکن اس حکومت کا مدت پوری کر لینا بذاتِ خود ہی ایک قابلِ فخر کارنامہ تھا۔ افتخار چوہدری کی عدالتِ عظمیٰ میں موجودگی طالع آزمائی کی راہ میں رکاوٹ تھی، تو جنرل کیانی کی بحیثیت مجموعی گریز کی پالیسی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اور سب سے زیادہ کریڈٹ آصف زرداری کا ہے کہ جنہوں نے بہادری کے ساتھ میدان بھی نہیں چھوڑا اور مصلحت کے ساتھ اپنا وقت بھی پورا کر لیا۔ کل عمران خان نے اپنے انٹرویو میں جو دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے انتخابات میں نواز شریف فوج کی مدد سے جیتے۔ لیکن بہت سے با خبر اور قابلِ بھروسہ صحافیوں اور رپورٹرز، جنہوں نے پچھلے انتخابات کی کوریج کی، کا ماننا ہے کہ پچھلے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ جنرل کیانی کو ملے گا۔ خیر موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے کا کریڈٹ بھی تین اہم کرداروں کو جاتا ہے۔ نواز شریف، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر باجوہ۔ دوبارہ کہہ دیتا ہوں کہ موجودہ حکومت کے دوران بھی جمہوریت کے ساتھ بہت کچھ ایسا ہوا جس کو مثالی نہیں کہا جا سکتا لیکن بحیثیت مجموعی اس حکومت کا آئینی مدت پوری کر لینا اور بہت سے اہم منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دینا بذاتِ خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ سب سے زیادہ کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے جو نہ صرف بہادری سے میدان میں کھڑے ہیں بلکہ مصلحت کے ساتھ اپنی حکومت کو تکمیل تک بھی لے آئے ہیں۔ اس حکومت نے پچھلی حکومت سے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور گورننس اور ڈویلپمنٹ کے میدانوں میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں آئی۔ لیکن اگر اس حکومت نے مدت پوری کی ہے تواس میں بھی جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کی گریز کی پالیسی کا اہم کردار ہے۔ ان دس سالوں میں اگر کسی قومی لیڈر کا کردار کریڈٹ سے محروم رہا تو وہ عمران خان ہیں۔ اگرچہ مشرف کی آمریت کے خاتمے میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا، لیکن اسکے بعد انکے پے در پے غلط فیصلے پاکستان کی جمہوریت کیلئے دردِ سر بنے رہے۔ امید ہے کہ وہ آئندہ اپنی دس سالہ غلطیوں کی تلافی کریں گے۔
آگے کیا ہوگا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن موجودہ حالات کی سنگینی کے باوجود امید کی شمع ابھی بھی روشن ہے۔ اگلے چند ماہ میں کیا فیصلے ہوتے ہیں، وہ نہ صرف پاکستان کی جمہوریت بلکہ پاکستان کی بقا کیلئے بھی بہت اہم ہوں گے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں