صرف سات برس بعد اور قبضے کی تیاری

June 24, 2018
 

گزشتہ ہفتے ہمیں Cape Town (سائوتھ افریقہ) میں پانی کے حوالے سے فیس بک پر ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ بڑے بڑے سفید کین لے کر پانی لینے کیلئے کھڑے ہیں۔ یہ بڑی طویل قطار ہے۔ دنیا بھرمیں پانی کی جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ وہ بہت خوفناک ہے۔ Cape Town میں رہنے والے لوگوں کو ایک دن میں صرف 50لیٹر پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ قارئین کیلئے یہ بات بڑی دلچسپ ہو گی کہ Cape Town میں باتھ ٹب میں نہانے کی اجازت نہیں۔ وہاں پر لوگ جس پانی سے نہاتے ہیں۔ اس کو محفوظ کر کے اسی سے دانتوں کو برش کرتے اور ہاتھ دھوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایلیٹ کلاس کے علاقوں میں گاڑیوں کو گھنٹوں دھویا جاتا ہے۔ پانی کا ضیاع اتنا زیادہ ہے کہ بیان سے باہر۔
بقول ماہرین کے اگر انسان دو منٹ تک نہائے تو تیس لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔ Cape Town میں جگہ جگہ لکھا ہوا ہے کہ آپ کتنا پانی کس مقصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہاں پر لوگ کھانا کھانے کیلئے ڈسپوزیبل پلیٹیں استعمال کرتے ہیں تاکہ کھانا کھانے کے بعد پلیٹیں دھونے کیلئے پانی استعمال نہ کرنا پڑے، وہاں پر بارش کا پانی بھی محفوظ کیا جاتا ہے۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں پینے والے پانی کا بحران ہونے والا ہے اور آئندہ جنگیں بھی پانی پر ہوا کریں گی۔
جن ممالک میں پانی کا شدید بحران پیدا ہونے والا ہے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔
اگر پاکستان میں ڈیم نہ بنائےگئے تو یہاں پر صورتحال Cape Town سے بھی بری ہو جائے گی۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ کراچی اور سائوتھ پنجاب میں پانی کی صورتحال Cape Town جیسی ہی ہے۔ کراچی اور پنجاب کے کئی شہروں میں پچھلے دنوں پانی نہ ملنے پر مظاہرے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تھر پارکر میں لوگ پیاس سے مر رہے ہیں اور پیپلزپارٹی خاموش ہے۔ بلاول بھٹو پاکستان کا حکمران بننے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن کوئی اس سے یہ تو پوچھے کہ تھرپارکر میں آج بھی غذائی قلت و آلودہ پانی اور بیماریوں سے بچے مر رہے ہیں لیکن مجال ہے اس نے اس بارے میں کوئی بیان بھی دیا ہو۔
تمام سیاسی جماعتوں کے منشور اٹھا کر دیکھ لیں شاید ہی کسی پارٹی کے منشور میں ڈیم بنانا شامل ہو۔ سندھ کی تو بات ہی چھوڑیں۔ کراچی میں سینکڑوں ایسی بستیاں ہیں جہاںلوگ جانوروں سے بھی بد تر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو عالم یہ ہے ۔لوگ پینے کیلئے صاف پانی کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ اسی وطن عزیز میں لوگ اپنے کتوں اور بلیوں کومنرل واٹر پلا رہے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ منرل واٹر بنانے والی کمپنیاں ناقص پانی مہیا کر کے چاندی بنا رہی ہیں اور ہائی کورٹ بھی بیشمار کمپنیوں کے پانی کو غیر معیاری قرار دے چکی ہے لیکن کون پوچھے۔ اب ایلیٹ کلاس تو فرانس اور دبئی سے پانی منگوا کر پیتی ہے۔ ویسے تو ذوالفقار علی بھٹو بھی فرانس کا پانی پیا کرتا تھا۔ یعنی وہ اس زمانے میں بھی اپنے وطن کے پانی کو پینے کے قابل نہیں سمجھتا تھا۔ سیاسی جلسوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ مجال ہے کوئی پانی کی اس خوفناک صورتحال پر بات کر رہا ہو۔ ایک طرف ڈیم نہیں بن رہے۔ دوسری طرف عالمی بنک نے کرش گنگا ڈیم کی تعمیر کے بارے میں پانی کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ کرش گنگا ڈیم اس وقت شروع ہوا۔ جب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور ن لیگ مضبوط اپوزیشن تھی لیکن دونوں جماعتوں نے اس پر کوئی آواز نہ اٹھائی۔ اب بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی اجازت مل چکی ہے۔ بھارت اس وقت دھڑا دھڑا ڈیم بنا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔ نواز شریف کے پسندیدہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آج سے دو سال قبل یہ بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کیلئے محتاج کر دے گا اور حال ہی میں اس نے یہ بیان دیا ہے کہ اگر پاکستان نے کوئی ڈیم بنایا تو وہ حملہ کر دے گا۔ بھارت پچھلے چند برسوںمیں ستر کے قریب مختلف چھوٹے بڑے ڈیم بنا چکا ہے جبکہ ہمارے سیاستدان اور حکمران آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ووٹ کو عزت دو اور دوسری طرف ووٹر کو جوتیاں ماری جا رہی ہیں۔
یہ بات زراعت کے ماہرین بھی کہہ رہے ہیں اور دیگر لوگ بھی کہہ رہے ہیںکہ2025ء میں فصلوں اور پینے تک کیلئے پانی نہیں ملے گا۔ یقینی بات ہے جب کھیت خشک ہو جائیں گے تو قحط سالی پیدا ہو جائے گی۔ پانی نہیں ملے گا اور لوگ پیاس سے مرنا شروع ہو جائیں گے۔ پاکستان ویسے بھی بحرانوں کی سرزمین ہے اور صرف سات سال بعد ایک اور خوفناک بحران سامنے کھڑا ہو گا۔ اگر ہم نے آج فوری طور پر اس حوالےسے کوئی منصوبہ بندی نہ کی تو حالات انتہائی بدترین ہو جائیں گے۔ لوجی مینٹل اسپتال کی سرزمین پر قبضہ کرنے کیلئے سروسز اسپتال نے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل اسپتال (قدیم نام پاگل خانہ) کی زمین کبھی 169ایکڑ تھی۔ جس پر 1980ء میں پی آئی سی نے شب خون مارا۔ کچھ حصے پر سروسز اسپتال نے قبضہ کیا۔ شادمان کی بیشمار کوٹھیاں اسی زمین پر قائم کی گئیں۔ قبضہ مافیا اس زمین کے چھوٹے چھوٹے پلاٹ بنا کر بیچتا رہا۔ آج اس کے پاس صرف باون ایکڑ جگہ رہ گئی ہے۔ اس کے اندر بھی نرسنگ ہاسٹل کی عمارت پر ادارہ انتقال خون نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ادارہ انتقال خون نے آج سے چند برس قبل مینٹل اسپتال والوں سے یہ عمارت صرف چند دن کیلئے ادھار مانگی تھی اور اس کے بعد اس پر قبضہ کر لیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ ایک مرتبہ پھر سروسز اسپتال والوں کی نظریں اس کی زمین پر لگی ہوئی ہیں اور یہاں وہ ڈاکٹرز کا ہاسٹل بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ دونوں سرکاری ادارے ہیں۔
دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار یہاں پر دو مرتبہ وزٹ کر چکے ہیں اور اس اسپتال کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے چکے ہیں اور وہ اس اسپتال میں مریضوں کی بہتری کیلئے مختلف ہدایات بھی دے چکے ہیں لیکن اگر اس اسپتال کی زمین سروسز اسپتال کو دی جائے گی تو 1400ذہنی مریضوں کی حق تلفی ہو گی۔ اسی طرح ایم ایس کی ریزیڈنس پر کسی سابق ایم ایس(مرحوم) کی اہلیہ نے برس ہا برس سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہونا تو چاہئے کہ مینٹل اسپتال کے ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کی رہائش گاہیں اسپتال کے اندر ہونی چاہئیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ مینٹل اسپتال ایک سرکاری ادارہ ہے اور سروسز اسپتال بھی ایک سرکاری ادارہ ہے اور سروسز اسپتال کے ڈاکٹرز کے ہاسٹل کیلئے حکومت کو کہیں اور جگہ مہیا کرنی چاہئے۔ ماضی میں بھی جن لوگوں نے مینٹل اسپتال کی زمین پی آئی سی اور کوٹھیاں بنانے کیلئے دی ان سے پوچھنا چاہئے کہ یہ زمین کس بنیاد پر ان کو دی گئی۔
مینٹل اسپتال میں اس وقت 1400مریض ہیں اور روزانہ سات سو مریض آئوٹ ڈور میں آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مینٹل اسپتال کی آئوٹ ڈور کی عمارت سےٹین کی چھتوں کو ہٹا کر ایک باقاعدہ عمارت میں منتقل کیا جائے۔ آئوٹ ڈور میں آنے والے مریض اس شدید موسم میں کھلی جگہ پر بیٹھتے ہیں۔ جہاں ٹین کی چھت ہے۔ اسپتال کے اندر بے شمار نئی عمارات بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو سہولتیں مل سکیں۔ یہاں پر پنجاب بھر سے آنے والے ذہنی مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کی اسامیاں ایک مدت سے خالی پڑی ہیں۔ ان کو پر کیا جائے تاکہ موجودہ ڈاکٹرز پر مریضوں کا لوڈ کم ہو اور وہ بہتر انداز میں خدمات انجام دے سکیں۔ آئوٹ ڈور میں ایک ڈاکٹر روزانہ ایک سو مریضوں کو دیکھ رہا ہے جو کہ طبی نقطہ نگاہ سے ہر طرح سے غلط ہے۔ اب آپ خود ہی سوچیں ایک سو مریضوں کو روزانہ دیکھنے والا ڈاکٹر کیا اپنے پروفیشن سے انصاف کر سکتا ہے؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں