مسلمان، مودی اور ٹرمپ

July 02, 2018
 

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور محدود کردیا ہے اور دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی ہے، اُنکی معیشت کو تباہ کردیا ہے، گوشت کا کاروبار بند، چمڑے کی اشیا پر پابندی اور دیگر معاملات میں اُن کیساتھ انتہائی جابرانہ اور متعصبانہ سلوک روا رکھاجارہا ہے، اُن کی معاشی طور پر کمر توڑ دی ہے اور اُن پر بھارت کی زمین تنگ کردی ہے، اس پر عالمی شہرت یافتہ صحافی و دانشور اندروتی رائے سے بی بی سی نے ایک انٹرویو کیا اور مودی اور ٹرمپ کے مسلمانوں سے رویئےکےبارے میں تقابلی جائزہ لیا، اس پر اُن کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ خراب ہے مگر امریکہ کے ادارے ٹرمپ کے خلاف متحرک ہیں، اخبارات اُن کے مخالف ہیں، کئی کانگریس مین بھی اُن کے خلاف باتیں کررہے ہیں اور جج حضرات نے باقاعدہ اُن کے فیصلوں کے خلاف پریس کانفرنس تک کر ڈالی ہے۔ مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیخلاف ایسا نہیں ہے، بھارت کے تمام طاقتور ادارے ان کیساتھ ہیں، میڈیا مسلمان مخالفت میں حد سے بڑھا ہوا ہے، یہاں کوئی ایسا جج نہیں ہے جو مسلمانوں کی حمایت میں اُٹھے، پارلیمنٹ میں اکادکا مسلمان ممبر آواز اٹھا لیتا ہے مگر ان کی آواز نخارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے، اسلئے بھارت کا معاملہ بہت بگڑا ہوا ہے، پھر بھارت جو ظلم و ستم کشمیر میں کررہا ہے وہ اسکے سوا ہے، وہاں ایک 8 سالہ کمسن بچی کیساتھ زیادتی ہوئی اور احتجاج پر زیادتی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی شروع ہوئی تھی کہ جواباً زیادتی کرنیوالوں کی حمایت میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔ اندروتی رائے کے مطابق یہ ایک بدترین مثال ہے کہ اگر مسلمان بچی کے ساتھ زیادتی ہوجائے تو یہ لوگ ظلم کرنے والے کی حمایت میں صرف اس وجہ سے کوئی کارروائی نہ کرنے دیں کہ مسلمان ہے، تو پھر انسانیت ختم ہوگئی، کہاں کا انصاف اور کہاں کی انسانیت؟ اندروتی رائے کم از کم ایک ایسی خاتون ہیں جو بھارت میں رہتے ہوئے انصاف کی بات کرتی ہیں، سچ بولتی ہیں، وہ بھی عالمی میڈیا میں مودی کے ظلم و ستم اور مودی مسلمان دشمنی کو سامنے لا رہی ہیں جو انسانیت کے حوالے سے قابل تعریف بات ہے۔ نریندر مودی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ وہ شخص ہے جس نے احمد آباد میں منظم طریقے سے مسلمانوں کا قتل عام کرایا اور مسلمانوں کا قاتل قرار پایا، امریکہ نے اس کو ویزا دینے سے انکار کیا مگر پھر بھی اس کو بھارتیوں نے وزیراعظم بنا ڈالا اور امریکہ کا لاڈلہ بن گیا ہے، جس نے اب پورے بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، شیوسینا اور آر ایس ایس کو آزادی ہے کہ مسلمانوں کو ایذا پہنچائے، ابھی کل ہی کی بات ہے کہ دلی سے 20 میل دور یو پی کے علاقے میں وسیم الدین نامی کسان نے اپنے کھیتوں سے ایک گائے کو باہر کیا نکالا ہندو بلوائی اس پر ٹوٹ پڑے، لکڑی کے بڑے بڑے ڈنڈوں سے اُسکو مارتے ہوئے دکھائی دیئے اور الزام لگایا کہ اس نے گائے کو ذبح کیا ہے، اس کے علاوہ ایک لڑکے کو راجستھان میں گلے میں رسی ڈال کر پکڑا ہوا ہے اور اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے گائے کو ذبح کیا، اس کو مارے چلے جارہے ہیں اور اُس پردبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ زبان سے جے کرشنا کہے، پھر مسلمانوں کو گائے کے ذبح پر مارنا بھارت میں روزمرہ کا معمول ہے، اس کے علاوہ اُن کی زمینوں پر قبضہ اور جہاں کوئی اکادکا مسلمان نظر آجائے اُسے پکڑ لیتے ہیں اور جے کرشنا اور مسلمانوں کیخلاف نعرہ لگواتے ہیں، فوٹو کلپس دیکھنے کو ملتی ہیں، وہ بے چارے معصوم سے مسلمان ہوتے ہیں ۔ گو مودی سرکار کو اس کی معاشی پالیسی میں ناکامی کے بعد کئی جگہوں پر جھٹکا لگنے جارہا ہے، کرناٹکا میں اُن کی نشستیں کم ہوئی ہیں، وہ راجستھان میں ہارنے جارہے ہیں، اس کے علاوہ ناگالینڈ میں بغاوت پھیل گئی ہے وہاں پر بی جے پی کے رہنمائوں کو دھکے دے کر نکالا جارہا ہے، نریندر مودی بھارت کی معیشت بہتر کرنے کے ارادے سے آئے تھے، اس میں وہ بُری طرح ناکام ہوئے ہیں، ڈالر کے مقابلے میں اُن کا روپیہ پاکستان کی طرح بُری طرح گرا ہے اور گرتا چلا جارہا ہے، اُس کو خارجہ پالیسی میں بھی دبائو کا سامنا ہے، شنگھائی کارپوریشن تنظیم میں شمولیت کے بعد 10 جون 2018ء کے حالیہ اجلاس میں ان کو کافی دبائو کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ پاکستان سے تعلقات اتنے خراب نہ کرے کہ جنگ کی نوبت آجائے ،دوسری طرف امریکہ کی طرف سے دبائو ہے کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدے، بھارت ایران سے تیل ادھار لیتا ہے اور 2014ء میں اس پر 6بلین ڈالرز کی ادائیگی کا معاملہ بھارت میں ایران کے سفیر رضا انصاری نے اٹھایا تھا، اب امریکہ نے ایران پر جو پابندی عائد کی ہے اُس کے بعد وہ ایران سے تیل خریدنے کے معاملے میں پیچھے ہٹا ہے۔ اگرچہ ایران اس سے چاہ بہار کی بندرگاہ میں جٹیاں بنوا کر اپنے قرض کی وصولی چاہتا تھا مگر وہ شاید جیٹی بنانے سے بھی تائب ہوجائے، امریکہ نے بھارت کے ساتھ مذاکرات بھی موخر کردیئے ہیں، اس طرح وہ ایک وقت میں کئی کشتیوں میں سوار نہیں ہوسکتا ، بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اُس کے مفاد میں کیا ہے، اُس کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ پاکستان سے راہ و رسم بڑھائے، چین سے تعلقات بہتر کرے اور روس کا مشورہ مانے کہ پاکستان کے خلاف ایک حد سے آگے نہ جائے۔ یوں وہ امریکہ کے دبائو کا مقابلہ اچھی طرح کرسکتا ہے اور شاید الیکشن میں بھی جیت جائے تاہم نریندر مودی نے الیکشن میں جیتنے کے لئے بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا اعلان کرکے اپنی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کرلیا ہے، اب کانگریس، مسلمان، کمیونسٹ اور دیگر جماعتیں اس کے خلاف صف آرا ہوجائیں گی اور عین ممکن ہے کہ بھارت خانہ جنگی کی زد میں آجائے کہ یہ وہ نکتہ ہے جس پر مسلمان شاید کٹ مرنے کو تیار ہوجائیں اور ایک ایسی فضا پیدا کردیں جو مودی کا جینا دوبھر کردے۔ تاہم اگر وہ دانائی کا مظاہرہ کریں تو بھارت کے عوام اور خطے دونوں کو بچا سکتے ہیں اور امریکہ کی عالمی جنگ کی پالیسی کو ناکام بنا کر ایک بڑے مقام پر فائز ہوسکتے ہیں جو خطے کے لوگ اُن کو عطا کردیں گے ورنہ جس راہ پر وہ چلتے آرہے ہیں وہ تباہی و بربادی اور آگ و خون کا کھیل ہے۔ ہر صاحب الرائے شخص یا انسانیت دوست مرد و عورت اُن کو اس سے بچنے کا مشورہ دے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں