قرضہ ، تلوار اور الیکشن !

July 15, 2018
 

سری لنکا کی بندرگاہ ’’ہیمبن ٹوٹا‘‘ (Hambantota) کی تعمیر و ترقی کے لیے جب بھی سری لنکا کی حکومت نے ارادہ کیا یا کوشش کی تو اسے ماہرین کی طرف سے ہمیشہ یہ بتایا گیا کہ یہ بندرگاہ کامیاب نہیں ہو گی ۔ اس کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ ناقابل عمل ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں اور کئی ممالک بشمول بھارت نے اس منصوبے کے لیے قرضہ دینے سے انکار کیا کیونکہ اس بندرگاہ کے قریب دنیا کی مصروف ترین آبی گزر گاہ ہے ، جہاں سے ہزاروں بحری جہاز گزرتے ہیں لیکن اس بندرگاہ کی طرف کوئی نہیں آتا ۔ سری لنکا کے سابق صدر مہندرا راجاپاسکا نے بندرگاہ کی تعمیر کے لیے چین سے رجوع کیا ۔ چین نے انہیں قرضوں اور مالی معاونت کے لیے کبھی انکار نہیں کیا ۔ چین کی حکومت کے زیر انتظام چلنے والی ایک فرم ’’ چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی ‘‘ نے اس بندرگاہ کی تعمیر و ترقی پر کام شروع کیا اور بالآخر کام مکمل ہو گیا لیکن یہ بندرگاہ کامیاب نہ ہو سکی ، جیسا کہ پیش گوئی کی گئی تھی ۔ 2012 ء میں دنیا کی قریبی مصروف ترین آبی گزرگاہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بحری جہاز گزرے لیکن اس بندرگاہ پر صرف 34 جہاز لنگر اندا ز ہوئے ۔
2015 ء میں راجا پاسکا کو انتخابات میں شکست ہوئی لیکن سری لنکا کی نئی حکومت پر چین کے اس قرضے کی ادائیگی کا بوجھ آن پڑا ۔ زبردست دباؤ اور کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد سری لنکا کی حکومت نے بندرگاہ اور اس کے ارد گرد کی 15000 ایکڑ اراضی چین کے حوالے کر دی۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک تجزیاتی رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع کی ، جس میں یہ کہا گیا کہ ہیمبن ٹوٹا بندرگاہ ایک مثال ہے ، جو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنا اثرو رسوخ حاصل کرنے کیلئے کس طرح اپنے قرضوں اور امداد کو استعمال کرتا ہے۔ بندرگاہ کی منتقلی سے اس علاقے پر چین کا کنٹرول ہو گیا ہے اور اپنے حریف بھارت سے چند سو میل کی دوری پر ہے ۔ یہ بندرگاہ چین کیلئے تجارتی نہیں بلکہ عسکری آبی گزر گاہ ہے ۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چین اپنی یہ سرمایہ کاری نو زائیدہ جمہوری ممالک اور قرضوں کے بھوکے ممالک میں کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا میں اپنے پنجے گاڑرہا ہے ۔ ’’’ ون بیلٹ ون روڈ ‘‘ کا منصوبہ چین کے اپنے عزائم کو ظاہر کرتا ہے ۔ نیو یارک ٹائمز کی یہ رپورٹ اگرچہ مغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈہ کا حصہ ہے ، جو وہ ابھرتی ہوئی ’’ غیر مغربی ‘‘ طاقتوں کے خلاف کر رہا ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک انتباہ بھی ہے ، جہاں چین کی سرمایہ کاری بہت زیادہ ہو رہی ہے ۔ پاکستان کو صرف چین کے ’’ عالمی ایجنڈے ‘‘ سے درپیش چیلنجز کا سامنا نہیں ہے بلکہ چین کے مخالف دنیا پر صدیوں تک راج کرنے والے امریکا اور دیگر مغربی سامراجی ممالک کے ’’ گریٹر گیم ‘‘ کا بھی سامنا ہے ، جو وہ اس خطے میں اپنے مفادات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے شروع کیے ہوئے ہیں ۔ اسی رپورٹ میں ایک جگہ امریکا کے دوسرے صدر جان ایڈمز کا ایک قول درج کیا گیا ہے ’’ کسی ملک کو اپنا غلام بنانے کے لیے دو طریقے ہیں ، ’’ تلوار یا قرضہ ‘‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے ۔ مغربی میڈیا اگرچہ اس بات کا اعتراف نہیں کر رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلا راستہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اختیار کیا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کا عہد ختم ہونے کے بعد دنیا دہشت گردی اور خونریزی کی لپیٹ میں ہے ۔ ایسی دہشت گردی اور خونریزی ، جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ اس دہشت گردی اور خونریزی کا نشانہ بنا ہے۔ پاکستان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور ان کی مالی معاونت کرتا ہے ۔ اسی لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) کے ذریعہ پاکستان کو ’’ گرے لسٹ ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ تباہ پاکستان ہوا ہے ۔ مغربی میڈیا کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردوں کی ’’ اصل معیشت ‘‘ کا ماخذ کون ہے اور دہشت گردی پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کون کر رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت صرف اور صرف مغرب سے ہو رہی ہے ۔ یہ دہشت گردی دراصل ’’ تلوار ‘‘ ہے ، جو سامراجی ممالک کے ہاتھ میں ہے ۔ پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دوسری طرف سے دہشت گردی پر سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تلوار کہیں حملے اور کہیں دفاع کے لیے استعمال ہو رہی ہے ۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے قرضوں اور تلوار والوں کے درمیان ٹکراؤ کا ایک بار پھر میدان بننے جا رہا ہے ۔ پاکستان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے ، جس کا انحصار قرضوں پر ہے اور یہاں وہ قوتیں بھی پنجے گاڑ چکی ہیں ، جن کا دہشت گردی سے معاشی مفاد پیدا کر دیا گیا ہے ۔ پاکستان بالکل اسی طرح میدان جنگ بن سکتا ہے ، جس طرح سرمایہ دار اور اشتراکی ممالک کے ٹکراؤ کے لیے بنا تھا ۔
ان حالات میں عام انتخابات کا انعقاد ہو رہاہے ۔ تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورت حال میں پاکستان کی داخلی صورت حال کی تعبیر اس وقت صرف سیاسی عدم استحکام اور تصادم سے ہو رہی ہے ۔ پشاور ، بنوں اور مستونگ میں دہشت گردی کے واقعات ، بڑے سیاست دانوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے متعلق حکومت کے جاری کردہ ’’ الرٹس ‘‘ اور ’’ احتساب کے عمل ‘‘ سے اس داخلی صورت حال کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ دعا کرتے ہیں کہ عام انتخابات تک کوئی اور ناخوشگوار واقعہ نہ ہو اور انتخابات کے بعد سیاسی استحکام پیدا ہو۔ قرضوں والوں کی پیش رفت جاری ہے اور تلوار والے اس خطے میں ایک نیا گریٹر گیم شروع کر چکے ہیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں