تاریخ کے چند معروف کرکٹرز

August 01, 2018
 

کرکٹ کا آغازسولہویں صدی میں جنوب مشرقی لندن سے ہوا اور 1844میںاس کا دائرہ وسیع ہوکر آسٹریلیا تک پھیل گیا اسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوگئی جس کے بعد 1877ء میں انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ 1877ء سےمختلف ممالک کے درمیان بین الاقوامی میچوں کے انعقاد کے بعد بے شمار کرکٹرز نے اس کھیل میںمختلف النوع کارنامے انجام دیئے۔ ان میں سے چند کرکٹرز کا تذکرہ نذو قارئین ہے۔

اینڈریو سینڈہم

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنےوالے انگلش بلے باز اینڈ ریوسینڈہم کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ’’ٹرپل سنچری‘‘ بنانے کا اعزاز حاصل ہے ۔ 1911میں انہوں نے سرے کائونٹی کے ساتھ کھیلتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔1921ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے ٹیسٹ ڈبیو کیا۔ 1923میں ان کا نام’’ وزڈن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ میں سال کے بہترین کھلاڑی کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ 1926تک کائونٹی کرکٹ میں تین منفرد ریکارڈ قائم کیے۔1930ء میں برج ٹائون کےپہلے ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں 152اور 51 رنز اسکور کیے،جب کہ اگلے دو میچوں میں جو جارج ٹائون اور پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے ان کی بیٹنگ ناکام رہی۔ چوتھا ٹیسٹ میچ جو کنگٹسن میں کھیلا گیا، اس میں انہوں نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں’’ ٹرپل سنچری ‘‘اسکو رکر کے پہلا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل اینڈریو نے ایک اننگز میں سب سے زیادہ 292رنز بنانے کا ریکارڈ نارتھنٹس کے خلاف 1924 میں قائم کیا ۔

سرڈان بریڈ مین

کرکٹ کی تاریخ کی دوسری ٹرپل سنچری بنانےوالے ڈونلڈ جارج بریڈ مین نے صرف 12 سال کی عمر میں پہلی ناٹ آئوٹ سنچری بنائی۔ 1926 میں آسٹریلین ٹیم کی انگلینڈ میں کھیلی جانےوالی ایشز سیریز میں شکست کے بعد کئی کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے، اس خلاء کو پُرکرنے کے لئے نیو سائوتھ ویلز کرکٹ ایسوسی ایشن نے بہترین صلاحیتوں کے حامل کرکٹرز کی تلاش شروع کی۔ کرکٹ آسٹریلیا کے حکام کی نظروں سے بریڈ مین کے کارنامے بھی گزر چکے تھے، انہوں نے بریڈ مین کو سڈنی میں پریکٹس سیشن میں شرکت کی دعوت دی۔

بریڈ مین نے سینٹ جارج کی جانب سے پریکٹس میچ میں پہلی سنچری بنائی۔ بریڈ مین نے شیفلڈ شیلڈ ٹرافی میں وکٹوریہ کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی ’’ناٹ آؤٹ ٹرپل سنچری ‘‘اسکور کی۔1930 کی ایشز سیریز میں جو انگلینڈ میں کھیلی گئی، ڈان بریڈ مین نے 11جولائی کو حیران کن کارنامہ انجام دیا۔ تیسرے ٹیسٹ میچ میں،کھیل کے اختتام سے قبل تیسری سنچری بنانےکا اعزاز حاصل کیا ۔ اس کے صرف پونے تین سال بعد انہوں نےہیڈنگلے کے گرائونڈ پرانگلش ٹیم کے خلاف ہی دوسری ٹرپل سنچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ 1932 میں وہ جنوبی افریقہ کے خلاف صرف ایک رنز کی کمی سے چوتھی ٹرپل سنچری بنانے سے محروم رہے۔

بریڈمین کوکرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی مانا جاتا ہے۔وہ 1931ء میں’’ وزڈن کرکٹرآف دی ایئر‘‘کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ 1949ء میںآسٹریلوی حکومت کی جانب سے انہیں "سر" کا اور 1979ء میں آسٹریلیا کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز’’ کمپینین آف دی آرڈر آف آسٹریلیا ‘‘سے نوازا گیا۔ 2000ء میں بریڈمین کو ماہرین نے صدی کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا۔2002ء میں، بعد از مرگ، وزڈن کرکٹر المیناک نے بریڈمین کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین بلے باز قرار دیا۔بریڈ مین کی تصاویر، ڈاک ٹکٹوں پر چھپ چکی ہیں جب کہ وہ آسٹریلیا کی پہلی شخصیت تھے جن کی زندگی ہی میں ان کے نام سے موسوم ایک عجائب گھر قائم کیا گیاتھا۔ان کے انتقال کے بعد آسٹریلیا کی حکومت نے 20 سینٹ کے یادگاری سکے جاری کیے۔

برائن لارا

سابق کیربین بلے باز برائن لارا کو آل ٹائم کا عظیم کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے،۔انہوں نے صرف 18 سال کی عمر میں انہوں نے ویسٹ انڈیز یوتھ چیمپئن شپ میں 498 رنز بناکر ہم وطن کرکٹر کارل ہوپر کا 480 رنز کا ریکارڈ توڑا تھا۔1988 میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی طرف سے’’ لیوارڈ آئی لینڈ‘‘ کی ٹیم کے خلاف ’’ریڈ اسٹرپ کپ‘‘ میں حصہ لے کر فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔1990 میں انہیں پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔1993 میں دورہ آسٹریلیا کے دوران سڈنی ٹیسٹ میں لارا نے پہلی ڈبل سنچری اسکور کی ۔

1994 میں انہوں نے واروکشائر کی جانب سے درہم کائونٹی کے خلاف فرسٹ کلاس میچ میں 501 رنزبنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو آج بھی ناقابل شکست ہے۔انہوں نے ففتھ سنچری بنانے کا کارنامہ 474 منٹ میں 427 گیندوں پر انجام دیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی کرکٹر حنیف محمد کا 499رنز کاریکارڈ بھی توڑ دیا جو انہوں نے 1959 میں قائم کیا تھا۔اپنی اس اننگز میں انہوں نے 308 بائونڈریز ماریں، جن میں 10 چھکے اور 62 چوکے شامل تھے۔انہوں نے واروکشائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے سات میچوں میں لگاتار 6 سنچریاں اسکور کیں۔1994 میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی برطانوی ٹیم کے خلاف پانچویں ٹیسٹ میچ میں 375 رنز اسکورکیے ،جب کہ اپریل 2004 میں بارباڈوس ٹیسٹ میں 400 رنز ناٹ آئوٹ کی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ قائم کیا، جو آج تک ناقابل شکست ہے۔وہ ڈان بریڈمین کے بعد دوسرے بلے باز ہیں جنہوں نے دو مرتبہ ٹرپل سنچری بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔انہیںایک مرتبہ ’’فورتھ اور ایک مرتبہ ففتھ سنچری‘‘ بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔لارا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 9 ڈبل سنچریاں اسکور کیں۔

بریڈمین 12 ڈبل سنچریوں کے ساتھ پہلے، کمارسنگاکارا 11 ڈبل سنچریوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر جب کہ لارا تیسرے نمبر پر فائز ہیں۔1995 میں برطانیہ کے خلاف تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں لگاتار تین سنچریاں اسکور کرکے مین آف دی سیریز کا ایوارڈ حاصل کیا۔انہوں نے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز دسمبر 1990 میں پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا تھا جب کہ اس کا اختتام بھی نومبر 2006 میں پاکستان کے خلاف میچ میںکیا۔2007 کے ورلڈکپ کے بعد انہوں نے کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔لارا نے 63 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں سب سے زیادہ 11953 رنز کے ریکارڈ کے مالک ہیں۔37سال کی عمر میںاپنے عروج کے زمانے میں انہوں نے کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

گیری سوبرز

’’سرگیرالڈ آبرن سوبرز ‘‘جو گیری سوبرز کے نام سے معروف ہیں، ویسٹ انڈیز کے عظیم آل رائونڈر تھے۔ انہیں بچپن سے ہی کھیلوں سے دل چسپی تھی۔فٹ بال، باسکٹ بال اور کرکٹ سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ 12سال کے تھے جب انہوں نے محلے کے لڑکوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم بنائی۔ پرائمری انٹر اسکول کرکٹ چیمپئن شپ لگا تار تین مرتبہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 13سال کی عمر میں وہ بارباڈوس کرکٹ لیگ کی ٹیم ، کینٹ سینٹ فلپ کلب اور بے لینڈ کی ٹیم وانڈررز کرکٹ کلب کی جانب سےکھیلنے لگے۔ 16 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا اور اسی سال وہ ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے۔

شروع میں وہ بالر کے طور پر میچ میں حصہ لیتے رہے لیکن بعد میں بیٹس مین کی حیثیت سے معروف ہوئے۔1954ء میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا، کنگسٹن کے پانچویں ٹیسٹ میچ میں کیربین بالر ’’الف ویلنٹائن‘‘ بیمار ہوگئے، گیری سوبرز کو ان کے متبادل بالرکے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا، اس وقت ان کی عمر17سال تھی۔1955ء میں دورہ آسٹریلیا کے دوران انہیں لوئر آرڈر بیٹس مین کی ذمہ داری دی گئی۔ 1958 میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے خلاف میڈن سنچری بنائی۔اس میچ میں انہوں نے 365 رنز ناٹ آئوٹ بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔ان کا یہ ریکارڈ 36 سال تک ناقابل شکست رہا۔1994 میں انہی کے ہم وطن بلے باز برائن لارا نے 375 رنز کی اننگز کھیل کر ان کا ریکارڈتوڑا۔گیری سوبرز نے اسی سیزن میں پاکستان کے خلاف لگاتار تین سنچریاں اسکور کیں۔1968 میں سینٹ ہیلن سوان سی میں ناٹنگھم شائر کی جانب سے گلیمورگن کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے لگاتار چھ چھکے لگاکر ایک ہی اوور میں 36 رنز بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔1975 میں انہیں کرکٹ میں نمایاں خدمات انجام دینے پر ملکہ برطانیہ نے ’’نائٹ بیچلر‘‘ کا ایوارڈ دیا۔1998 میں بارباڈوس کی کیبنٹ نے گیری سوبرز کو ’’قومی ہیرو‘‘ کے رتبے سے نوازا۔2000 میں ان کا نام ’’وزڈن کرکٹر آف سنچری‘‘ کے پانچ کرکٹرز کے ساتھ شامل کیا گیا۔2004 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ’’سرگارفیلڈ سوبرز ٹرافی‘‘ کا اجراء کیا گیا جس کا انعقاد ہر سال کیا جاتا ہے۔سرگیری سوبرز نے اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران 93 ٹیسٹ میچوں میں 8032 رنز اور 235 وکٹ لئے۔383 فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے 28000 رنز اسکور کیے جب کہ 1000 وکٹیں لینے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

حنیف محمد

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد کا شمار بھی دنیا کے ریکارڈ ساز کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، ان کے بعض کارنامے آج تک ناقابل تسخیر ہیں۔وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دور کے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے صرف 13سال کی عمر میں اس کھیل کا پہلا انفرادی ریکارڈ بنایا۔ حنیف محمد نےکرکٹ کیرئیر کا آغاز سندھ مدرسۃ الاسلام اسکول کراچی سے کیااور میٹنگ وکٹوں پر بیٹنگ کرتے ہوئے 305 رنز کی ناقابل شکست اننگزکھیل کر ٹرپل سنچری کا ریکارڈ بنایا۔ ان کی یہ منفرد اننگز ساڑھے سات گھنٹے جاری رہی۔ برطانیہ کی اے ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی اور کراچی جیم خانہ کرکٹ گراؤنڈ پرایک میچ منعقدہوا،جس میںحنیف نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔

1952ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلا بین الاقوامی دورہ بھارت کا کیا، جس میں حنیف محمد بھی پاکستانی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی ٹیسٹ سنچری اسی دورے کے دوران اسکور کی۔بھارت کے ساتھ پانچ میچوں کی سیریز کے دوران حنیف نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ کمنٹری باکس میں بیٹھ کر دنیاکے دو مشہور کمنٹیٹرز،مہاراجہ ہزیانگرم اور ڈاکٹر وجے آنند اس کم سن بیٹسمین کی بیٹنگ کے جوہر دیکھ رہے تھے، ساڑھے پانچ فٹ قامت کے حنیف محمد گراؤنڈ میں موجود تمام کھلاڑیوں میں سب سے چھوٹے لگ رہےتھے ۔ اس موقع پر ان د ونوں کمنٹیٹرز نے حنیف محمد کو ’’لٹل ماسٹر‘‘ کا خطاب عطا کیا، جو بعد میں ان کے نام کا ایک جزو بن گیا۔

1958پاکستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا،حنیف محمد نے ٹرپل سنچری اسکور کیاور وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے والے دنیا کے چھٹےاور پاکستان کے پہلے بلے باز بن گئے۔اس میچ میں 970منٹ تک کریز پر ٹھہر کر بیٹنگ کرنے کا ان کاعالمی ریکارڈ آج بھی ناقابل تسخیر ہے۔ 1959میںکراچی کی جانب سے بہاولپور کی ٹیم کے خلاف فرسٹ کلاس میچ میں وہ صرف ایک رن کی کمی سے’’فتھ سنچری ‘‘ کا ریکارڈ قائم کرنے سے محروم رہ گئے ،لیکن انہوں نے اس میچ میں499رنز بنا کر ڈان بریڈ مین کا 458رنزریکارڈ توڑدیا۔1955 میں شائع ہونے والے پہلےگینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کےپہلے ایڈیشن میں ان کا نام سست ترین سنچری اسکورکرنے والے بلےباز کے طور پردرج کیا گیا ۔ 1968ء میں ان کے نام کا اندراج ’’وزڈن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ میں کیا گیا، جب کہ 2009ء میں ان کا نام آئی سی سی ہال آف فیم میں آویزاں کیا گیا۔ 1958ء میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

شعیب اختر

وکٹ لینے کے بعد اڑنے والے پرندے کی طرح خوشی کا اظہار کرنے والےشعیب اختر کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین بالر کی حیثیت سے ہوتا ہے۔شعیب اختر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا 1994 کے سیزن میںایک نجی بنک کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ سے کی جب کہ انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز1997میںویسٹ انڈیزکے خلاف اہم سیریز میں کھیل کر کیا ۔فاسٹ بالر کے طور پرشعیب کی مقبولیت کا آغاز 1999میں شارجہ میں پری ورلڈ کپ سیریز میں بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی سے ہوا۔ اسی سال انہوں نے کلکتہ میں کھیلی جانے والی ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچ کی ایک اننگ میں آٹھ بھارتی بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا۔ اس میچ میں صرف دو گیندوں پر راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکرجیسے معروف بلے بازوں کی وکٹیں لے کرمنفرد کارنامہ انجام دیا۔

2003کے عالمی کپ کے دوران انہوں نے کرکٹ کی تاریخ کی تیزرفتار بالنگ کا مظاہرہ کیا اوربرطانیہ کے خلاف میچ میں بالنگ کراتے ہوئے انہوں نے ایک گیند 100.2 میل فی گھنٹہ (161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے کرائی جو آج تک کرائی جانے والی کرکٹ کی تاریخ کی سب سے تیز رفتار گیند ہے۔اس کے علاوہ بھی ان کی تیز رفتار بالنگ کے متعدد ریکارڈ ، آئی سی سی کی ریکارڈ بک میں محفوظ ہیں، جو 2002میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جب کہ تین مرتبہ سری لنکا کے خلاف ایک ہی میچ میں قائم کیے۔

انہیں کرکٹ کے ناقدین نے ’’فائرنگ بلٹس ‘‘ کا خطاب دیا تھا کیوں کہ ان کی طرف سے پھینکی جانے والی گیند، بندوق کی گولی کی رفتار سے بیٹسمین کی جانب آتی تھی۔ ایک میچ کے دورا ن جب جنوبی افریقن بیٹس مین گیری کرسٹن بیٹنگ کررہے تھے،شعیب نے تیر رفتار گیند کراتے ہوئے ایک سپر فاسٹ باؤنسر ان کی طرف پھینکاجو ان کے چہرے پر جاکر لگاجس سے کرسٹن زمین پر گر گئے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیاجہاں ان کے چہرے پر دس ٹانکےلگے۔ گیند لگنے سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جب کہ آنکھ کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ یہ میچ گیری کرسٹن کے کرکٹ کیرئیر کا آخری میچ ثابت ہوا اور انہوں نے اس کے بعد ہمیشہ کے لیے کھیل سے ریٹائرمنٹ لے لی۔۔2004میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا دوسرا سیمی فائنل میں شعیب اختر کی بالنگ کی ایک تیز گیند برائن لارا کی گردن پر لگی جس سے وہ زخمی ہوکرزمین پر گر گئے۔ گیری کرسٹن نے ایک موقع پر شعیب کی بالنگ پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’وہ درحقیقت کرکٹ کے افسانوی بالرہیں‘‘۔

یونس خان

یونس خان کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے جو ٹرپل سنچری بنانے والے قومی ٹیم کے تیسرے اور دنیا کے 23ویں بلے باز ہیں۔ وہ 2017میںدس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی اور دنیا کے 13ویں بلے باز ہیں۔وہ پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہیں ٹیسٹ میچز میں چھ ڈبل سینچریاں بنانےاور ٹیسٹ میچز میں 100کیچز پکڑنے کا اعزاز حاصلہے۔ وہ ٹیسٹ میچوںمیں سب سےزیادہ سینچریاں اسکور کرنے والے بیٹسمینوں کی فہرست میں چھٹی پوزیشن پرفائز ہیں۔

مئی 2017میں برطانیہ میں لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں پاکستان کے سابق لیجنڈ کرکٹر کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا،جس میں کرکٹ کے سب سے معتبر جریدے’’ وزڈن‘‘ کے نمائندے نے سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان کو وزڈن کی خصوصی کتاب پیش کی جس میں یونس خان اور مصباح الحق کو وزڈن کرکٹر آف دی ایئر میں پانچ دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔تقریب کےاختتامی سیشن میں یونس خان نے لارڈز میوزیم کےمہتمم کو اپنا کرکٹ بیٹ اوردستانے پیش کیے، جویادگار کے طور پر میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں