پاکستان کا اولین جشنِ آزادی

August 12, 2018
 

سال 2018 ء میں ہم اپنی آزادی کا ستّرواں جشن منا رہے ہیں۔’’جشنِ آزادی‘‘ یقیناً مسرّت بھرا دن ہے۔ اسے’’ عیدِ آزادی‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسے’’ جشنِ آزادی کہا جائے یا’’عیدِ آزادی‘‘، دونوں صورتیں ہی خوشیوں سے عبارت ہیں۔ نیز،ہم سب اہلِ وطن کو یہ جشن ضرور منانا چاہیے، تاہم اس جشن میں خود احتسابی کا پہلو بھی بہر صُورت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیوں کہ زندہ، باشعور اور سمجھ دار قومیں گزشتہ کل اور آیندہ کل، دونوں ہی کو یاد رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ اور آیندہ کے درمیان’’ آج‘‘ ہے۔ اس عنوان سے اگر ہم اپنے آپ پر نظر ڈالیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم گزشتہ کل سے بھی بڑی حد تک ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہیں اور آیندہ کل سے بھی اُس حد تک سنجیدہ نظر نہیں آتے کہ جو پُرجوش قوموں کا شعارہے۔ گزشتہ کل سے واقفیت کی ایک صُورت یہ ہے کہ ہم اپنی کام یابیوں کے ساتھ، ناکامیوں کو خاص طور پر ملحوظِ خاطر رکھیں اور اُن غلطیوں سے ہر قیمت پر بچنے کی کوشش کریں، جو وطن کی ترقّی کی راہ میں مزاحم ہوئیں۔

پھر آیندہ کل سے ہماری سنجیدگی اس طرح آشکار ہو گی کہ ہم وہ سارے کام کریں، جن سے آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو۔ اگر تعلیم کی کمی ہے، تو مُلک کے طول و عرض میں تعلیمی اداروں کاجال بچھا دیا جائے۔ یہ کام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو مل کر کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے مُلک کا ہر شہری تعلیم یافتہ ہو گا، تو اس کا فائدہ ہمیں ہی ہو گا۔ اگر مُلک میں پانی کی قلّت ہے، تو فوری طور پر زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے کا آغاز کرنا چاہیے۔ اگر ہمیں بجلی کے بحران کا سامنا ہے، تو اسے دُور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع حکمتِ عملی مرتّب کرنے کی ضرورت ہے۔ مُلک میں شفاخانے ضرورت سے کم ہیں، تو اس کا فوری طور پر تدارُک کرنا ضروری ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیتی ہے اور مایوس افراد مُلک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے، چناں چہ، نوجوانوں کو بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرنا بھی ریاست کے بنیادی فرائض میں سے ایک ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے ہم یومِ آزادی کچھ اس انداز سے مناتے ہیں کہ سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر صبح سے رات گئے تک، آزادی کی’’اسپیشل ٹرانسمیشن‘‘ دِکھائی جاتی ہیں۔ زرق برق ملبوسات، قومی و ملّی نغموں کی برسات، میٹھے پکوانوں کی سوغات، نِت نئے مقابلے اور انعامات، غرض ایک سے بڑھ کر ایک دیکھنے کی چیز۔ ٹی وی چینلز آنے سے قبل یومِ آزادی کا دھوم دھڑکّا تو تھا، تاہم اس حد تک کہ اخبارات کے خصوصی ایڈیشنز شایع ہوتے، جن میں اُس دن کی مناسبت سے مضامین اور تصاویر وغیرہ شامل کی جاتیں۔ اس کے علاوہ، ریڈیو سُننے والوں کے لیے بھی خصوصی پروگرامز ترتیب دیے جاتے تھے۔ پاکستان کا اوّلین یومِ آزادی،14 اگست 1948 ء کو منایا گیا۔ اُس پہلے یومِ آزادی کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ بابائے قوم، قائدِ اعظم، محمّد علی جناح حیات تھے اور قوم میں بہت جوش و ولولہ پایا جاتا تھا۔ جس طرح وہ پہلا یومِ آزادی قوم کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا، اُسی طرح روزنامہ’’ جنگ‘‘ کراچی کے لیے بھی اتنا ہی اہم تھا۔ روزنامہ’’ جنگ ‘‘نے بھی آزادی کی جنگ میں قوم اور قوم کے بلاشرکتِ غیرے مالک، محمّد علی جناح کے دوش بہ دوش حصّہ لیا تھا، جس کی پاداش میں اخبار کے مالک، میر خلیل الرحمٰن کو دہلی میں پابندِ سلاسل بھی رہنا پڑا۔ ذیل میں روزنامہ’’ جنگ‘‘ کی یکم اگست 1948 ء تا 14 اگست 1948 ء کے عرصے میں شایع ہونے والی خبروں پر ایک نظر ڈالی جا رہی ہے، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس اخبار نے مملکتِ خداداد کے اوّلین یومِ آزادی کے سلسلے میں کیا کچھ پیش کیا۔

پاکستان کے اوّلین یومِ آزادی کی، اوّلین خبرکچھ یوں تھی۔2اگست 1948 ء کے ادارتی صفحے پر ایک کالمی خبر’’ یومِ آزادی کی تقریبات۔ مشرقی بنگال کا پروگرام‘‘ کی سُرخی کے تحت شایع کی گئی۔’’ڈھاکہ‘‘(اب ڈھاکا)سے آنے والی خبر کے مطابق تقریبات دو دن جاری رہیں گی۔ ’’پروگرام میں پریڈ، ضلع دار کَشتی کی دَوڑ، غریبوں کو مفت راشن کی تقسیم اور ادبی اجتماع شامل ہیں۔ ادبی اجتماع میں اُردو اور بنگالی کے مصّنف اپنی نظمیں اور پاکستان کے متعلق اپنے مقالے پڑھیں گے۔‘‘

3 اگست1948 ء کو صفحۂ اوّل پر ایک کالمی خبر کے مطابق’’حکومتِ سندھ قیامِ پاکستان کی سال گرہ کا جشن حیدرآباد، سندھ میں منائے گی۔‘‘خبر کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ ’’حکومتِ سندھ 14 اگست قیامِ پاکستان کی پہلی سال گرہ کی سرکاری تقریب حیدرآباد، سندھ میں منائے گی۔ وزیرِ اعظم، (اُس زمانے میں صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو وزیراعظم کہا جاتا تھا)پیر الٰہی بخش، سندھ پولیس اور سندھ پولیس رینجرز کے دستوں کے مارچ پاسٹ کی سلامی لیں گے۔‘‘ 4 اگست 1948 ء کو اخبار کی سُرخی تین کالمی اور خبر دو کالمی لگائی گئی۔ سُرخی کے مطابق’’26 رمضان المبارک کو استحکامِ پاکستان اور قائدِ اعظم کی درازیٔ عُمر کی دُعائیں مانگی جائیں۔ مسلمانانِ پاکستان سے وزیرِ اعظم، پاکستان، مسٹر لیاقت علی خاں کی اپیل۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق آج ہماری آزادی کا ایک سال پورا ہو گیا۔‘‘5 اگست کو ہجری تاریخ کے مطابق رمضان المبارک کی اٹھائیس تاریخ تھی اور اخبار نے صفحۂ اوّل پر ایک کالمی خبر میں بتایا تھا’’ قاہرہ میں پاکستان کی سال گرہ کا اجتماع۔ گزشتہ روز لیلۃ القدر کی مناسبت سے قیامِ پاکستان کی پہلی سال گرہ پاکستان کالونی میں پاکستانی سفیر، حاجی اسحٰق سیٹھ کے زیرِ اہتمام منائی گئی۔‘‘

8 اگست 1948 ء کو صفحہ 4 پر ایک کالمی خبر میں بتایا گیا’’ ریڈیو پاکستان کا کراچی اسٹیشن 14 اگست سے نشریات شروع کرے گا۔‘‘مزید تفصیل کچھ یوں تھی’’14 اگست کو پاکستان اپنی آزادی کی پہلی سال گرہ منا رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ 14 اگست کو جو مقرّر قوم سے خطاب کریں گے، اُن میں پاکستان کے گورنر جنرل، قائدِ اعظم، محمّد علی جناح، پاکستان کے وزیرِ اعظم، مسٹر لیاقت علی خاں، پاکستان کے وزیرِ داخلہ، خواجہ شہاب الدّین، سندھ کے وزیرِ اعظم، پیر الٰہی بخش اور سندھ ریونیو منسٹر، میر غلام علی تالپور شامل ہوں گے۔ یومِ آزادی کے موقعے پر مغربی پنجاب، مشرقی بنگال اور صوبہ سرحد کے وزرائے اعظم کی آوازیں بھی ریڈیو پاکستان پر سُنی جائیں گی۔‘‘مذکورہ تاریخ ہی کو صفحہ 8 پر ایک کالمی خبر کی سُرخی ہے ’’جشنِ سال گرہ فنڈ‘‘۔ خبر کی تفصیل کے مطابق’’مسٹر عبدالعزیز ایڈووکیٹ، آفس سیکرٹری پاکستان انڈیپنڈنٹس سیلیبریشن کمیٹی اطلاع دیتے ہیں کہ فراہمیٔ جشن فنڈ کا کام نہایت تیزی سے ہو رہا ہے۔ مسٹر محمّد شعیب، مشیرِ مالیات حکومتِ پاکستان و آنریری خازن پاکستان جشن کمیٹی کو حسبِ ذیل حضرات کا چندہ (رقم روپے میں)وصول ہو چکا ہے۔۱۔مسٹر یوسف ہارون 2500/ ۔۲۔مسٹر اے ایم قریشی1000/۔۳۔مسٹر ایس ایم توفیق آصف جاہ اینڈ کو1000/ ۔۴۔احمد برادرس1000/۔۵۔ مسٹر عبدالرزاق عبدالقادر1000/ ۔۶۔مسٹر کیول رام دیارام750/ ۔۷۔ٹی مورتم داس500/ ۔۸۔ایم ایچ گزدر500/ ۔۹۔رانجی چھیر چندر اینڈ کو250/۔۱۰۔گھنیش کھوپرا مل500/ ۔۱۱۔پرس رام دیباری اینڈ کو100/ ‘‘۔ اس فہرست پتا چلتا ہے کہ اُس زمانے میں دارالحکومت، کراچی میں ہندوؤں کی بڑی تعداد آباد تھی اور وہ بھی مُلک کے پہلے یومِ آزادی کو منانے کے لیے دامے، درمے، قدمے، سخنے حصّہ لے رہے تھے۔

11 اگست کی اشاعت میں اوّلین یومِ آزادی کی مناسبت سے دو خبریں شایع کی گئیں۔ صفحہ اوّل پر شایع ہونے والی ایک کالمی خبر کی سُرخی یہ ہے’’ قیامِ پاکستان کی پہلی سال گرہ پر سندھ میں قیدی رہا کیے جائیں گے۔‘‘دوسری خبر بھی یک کالمی ہے اور قائدِ اعظم کی علالت کے بارے میں ہے۔ پہلے خبر کی سُرخی اور پھر اُس کی تفصیل۔’’ قائدِ اعظم کی طبیعت ناساز ہے۔ کراچی میں سخت پریشانی۔ مساجد میں دُعائیں۔‘‘خبر کے مطابق’’یہاں سرکاری طور پر یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ قائدِ اعظم محمّد علی جناح گورنر جنرل پاکستان کی طبیعت ناساز ہے۔

قائدِ اعظم کی ناسازیٔ طبع کی اطلاع سے کراچی میں سخت پریشانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف مساجد میں قائداعظم کی درازیٔ عُمر و صحت کے لیے دُعائیں کی گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ کثرتِ کار نے قائداعظم کی صحت پر بُرا اثر ڈالا ہے۔ ناظرین بھی بانیٔ پاکستان حضرت قائد اعظم کی درازیٔ صحت کے لیے دُعا کریں۔‘‘مذکورہ تاریخ ہی کو ادارتی صفحے پر اسی سلسلے کی ایک اور خبر کی سُرخی یہ ہے’’یومِ پاکستان کے جشن مسرّت پر قائد اعظم کراچی تشریف نہیں لا سکیں گے۔‘‘ خبر کی تفصیل سے یہ صورت سامنے آتی ہے’’سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ بانیٔ پاکستان، قائداعظم محمّد علی جناح پاکستان کی پہلی سال گرہ کے موقعے پر دارالحکومت، کراچی کے جشنِ مسرّت میں شرکت کرنے کے لیے زیارت سے کراچی نہیں آ سکیں گے۔‘‘ اخبار میں یومِ آزدی کی مناسبت سے چند ایک خبریں اور بھی شامل ہیں۔

12 اگست کو صفحہ اوّل پر ایک کالمی خبر کی سُرخی یہ ہے’’ کراچی میں جشنِ استقلالِ پاکستان۔ وزیر اعظم اہم ترین تقریر کریں گے۔‘‘خبر میں منجملہ اور باتوں کے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم، لیاقت علی خاں کی تقریر سننے کے لیے دو لاکھ کا مجمع متوقّع ہے۔ اُن دنوں کراچی کی آبادی محض چند لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، مگر قائدین کی مقبولیت اس درجہ تھی کہ لوگ اُنہیں دیکھنے اور سُننے کے لیے اُمڈے چلے آتے تھے۔ دوسری خبر کی اہمیت کے پیشِ نظر اُسے باکس میں دو کالمی شایع کیا گیا۔ سُرخی کہتی ہے’’ قائد اعظم کی صحت کے متعلق تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا اہم اعلان۔‘‘ اب خبر کا متن پیش کیا جاتا ہے’’ وزارتِ داخلہ کے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ قائد اعظم کی صحت کے متعلق آج کل طرح طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، جس سے پاکستانی عوام میں خاصی گھبراہٹ اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ جشنِ استقلالِ پاکستان میں قائد اعظم کی عدم شرکت سے مخالفین کو اور بھی اس قسم کی افواہیں پھیلانے کا موقع مل گیا۔ تاہم حکومتِ پاکستان واضح طور پر بتا دینا چاہتی ہے کہ قائد اعظم خدا کے فضل سے بالکل تندرست ہیں۔

آپ کو اس ماہ کے آخر تک اس لیے آرام کی ہدایت کی گئی ہے کہ آپ پر خواہ مخواہ زیادہ نقل و حرکت کرنے کا بار نہ پڑے۔ قائد اعظم کے طبیبِ خاص، کرنل رحمان نے بھی قائد اعظم کی بیماری کی خبر کی تردید کی ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر قائداعظم بیمار ہوتے، تو مجھے سب سے پہلے زیارت جانا چاہیے تھا۔‘‘ 12 اگست کی یہ خبر، دراصل11 اگست کی خبر کا ایک طرح سے تسلسل یا ردّعمل ہے، جس میں قائداعظم کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار تھا۔ رئیسؔ امروہوی کا انتہائی پُراثر قطعہ اگلے دن، یعنی 12 اگست کی اشاعت میں شایع ہوا۔ قطعہ رئیسؔ کی قائد اعظم سے غیر متزلزل وفاداری کی لفظی تصویر تھا۔’’دُعائے صحت‘‘ کے عنوان سے کہے گئے قطعے کا رنگ کچھ یوں ہے’’ الٰہی !قائد اعظم کو بخش عُمرِ دراز…ہماری زیست کے لمحوں کو مختصر کر دے…ہماری عُمر سے اِک ایک روز کم کر کے…حیاتِ قائداعظم طویل تر کر دے۔‘‘ اسی خبر کے تسلسل میں اخبار نے اپنا ادارتی شذرہ’’ قائداعظم کے لیے دُعائیں کی جائیں‘‘ بھی تحریر کیا۔13 اگست کو بھی اخبار میں قائد اعظم کی طبیعت کی ناسازی کا چرچا رہا۔ رئیسؔ امروہوی کا قطعہ’’برات اور دولہا‘‘ کے عنوان سے سامنے آیا، جو رئیسؔ کے مخصوص لب و لہجے کا آئینہ دار ہے’’ حضورِ قائداعظم تو ہیں زیارت میں…یہاں بنائے گئے ہیں جلوس کے خاکے…ذرا بتائیں تو اربابِ جشنِ آزادی…کوئی برات چڑھی ہے، بغیر دولہا کے۔‘‘ مذکورہ اشاعت میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں چھے سات خبریں بھی شایع کی گئی ہیں۔

14 اگست کی اشاعت میں صفحہ اوّل پر باکس میں ایک اعلان کی سُرخی بتاتی ہے’’جنگ کا خاص اڈیشن‘‘۔ اعلان کی تفصیل کچھ یوں ہے’’ کل بروز جمعہ 14 اگست کو روزنامہ’’ جنگ‘‘ کراچی یومِ آزادی کے موقعے پر بارہ صفحات پر شایع ہو رہا ہے۔ اس خاص اڈیشن کی قیمت تین آنہ ہوگی۔ ناظرین نوٹ فرما لیں اور آج ہی اپنی کاپی محفوظ کر لیں۔‘‘ اخبار میں یومِ آزادی کی تیاریوں کی نسبت سے بہت سی خبریں شامل ہیں۔15 اگست 1948 ء کو اخبار کا اوّلین یومِ آزادی ایڈیشن شایع کیا گیا۔ اخبار کی لوح عام دنوں سے مختلف تھی اور اُس پر روزنامہ’’ جنگ‘‘ خاص آزادی اڈیشن کراچی‘‘ دائیں طرف اور یہی عبارت انگریزی میں بائیں طرف تحریر تھی۔ ہجری سال کے مطابق تاریخ’’۹ شوال المکرم۱۳۶۷‘‘ درج ہے۔اخبار کا صفحہ اوّل ’’۱۴ اگست ۱۹۴۷ تا ۱۴ اگست ۱۹۴۸ تک‘‘ کی سُرخی کے تحت ایک سال کے اندر ہونے والے اہم واقعات کی سُرخیوں پر مشتمل ہے۔ صفحہ دو ’’محمّد علی جناح:ماضی اور حال پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے تحریر کیے گئے پورے صفحے پر مشتمل مضمون پر محیط ہے، تاہم مضمون نگار کا نام درج نہیں ہے۔

صفحہ تین، جو ادارتی صفحہ ہے، ’’نذرِ عقیدت‘‘ کے عنوان سے تحریر کیے گئے اداریے پر مشتمل ہے۔ اگرچہ اخبار کا پورا اداریہ گزشتہ ایک برس کی قومی صُورتِ حال کا بہت عُمدہ تجزیہ ہے اور اخبار کی وطن سے محبّت کی سچّی عکّاسی پر مشتمل ہے، تاہم اس اداریے کا محض وہ اقتباس پیش کیا جارہا ہے، جو ایک برس کے انتہائی مختصر بیان اور قائداعظم کی شخصیت کے شایانِ شان ہے۔’’ گزشتہ ایک سال میں ہم کو نت نئے مسائل اور تجربات سے دوچار ہونا پڑا۔ ہم سے ان کے حل کرنے اور عہدہ برا ہونے میں بہت سی فروگزاشتیں بھی ہوئیں۔ ہمارے ذمّہ دار وزراء اور حکّام نے اکثر اوقات اپنے فرائض منصبی سے چشمِ پوشی بھی کی، مگر ہم بحیثیت مجموعی آگے بڑھتے رہے۔ ہم نے اپنے وسائل میں معتد بہ اضافہ کیا۔ اپنے دفاع کے لیے مزید استحکامات کیے۔ اپنے مستقبل کے لیے مزید صلاحیتیں حاصل کیں، لیکن ہمیں اس کا مکمل احساس ہے کہ اگر قائداعظم ہماری کشتی کے ناخدا نہ ہوتے تو شاید ہم اس مقام تک نہ پہنچ سکتے۔

ہمیں اعتراف ہے کہ اگر یہ نحیف و ناتواں انسان، دن میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اپنی میز پر سر جھکا کر نہ بیٹھتا، تو ہم وہ منازل نہ طے کر سکتے، جو ہم نے طے کیے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ عشقِ ملّت کا یہ امین ،شمعِ قوم کا یہ پروانہ جو آج زیارت میں اپنی کثرتِ کار سے ضرر رسیدہ زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ لمحات جمع کر رہا ہے، ہمارا مدار المہام نہ ہوتا تو ہم ساحلِ عافیت سے اس قدر قریب نہ ہوتے‘‘۔ ادارتی صفحے ہی پر’’ ہند اور پاکستان کے تعلقات کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے سر فرینک براؤن کا مضمون بھی شاملِ اشاعت ہے۔ ادارتی صفحے کے بعد صفحہ’’ا‘‘ پر دائیں، بائیں قائدِ اعظم اور لیاقت علی خان کی تصاویر ہیں۔ درمیان میں جشنِ آزادی سے متعلق کئی خبریں ہیں، جن میں’’ فوجوں کے نام لیاقت کا پیغام‘‘ بھی شامل ہے۔ صفحہ ’’ب‘‘ پر’’پاکستان کی پہلی سال گرہ پر پاکستان اور بیرونی دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کے پیغامات‘‘ کے تحت کئی مُمالک کے تہنیتی پیغامات بھی شایع کیے گئے ہیں۔‘‘ صفحہ چار پر’’یہ ستارہ ‘‘ کے عنوان سے افسانہ ہے، جو آزادی کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ افسانہ نگار، رئیس امروہوی ہیں۔

صفحہ پانچ پر رئیس امروہوی کی نظم’’ پاکستان ہمارا ہے‘‘ شایع ہوئی ہے۔ رئیس نے اس نظم میں اپنی شاعرانہ خلّاقی کے جوہر دِکھائے ہیں۔’’ پاکستانی پرچم اپنا چرخ پہ جلوہ آرا ہے…ملّت کی عظمت کا نمونہ جس کا چاند ستارا ہے…سبز ہلالی اس کا پھریرا کیسا پیارا پیارا ہے…دنیا والے اٹھ کر دیکھیں کیا دِل کش نظارا ہے…پاکستان ہمارا ہے…سرمایہ تعمیرِ نَو کا تخریب و بربادی…ہم نے اپنا خون بہا کر لی ہے رئیسؔ آزادی…زندہ باد اے قائد اعظم، اے ملّت کے ہادی…تیرے مقابل باطل جب بھی رَن میں آیا، ہارا ہے…پاکستان ہمارا ہے۔‘‘ صفحہ آٹھ پر’’ ہمارا پاکستان‘‘کے عنوان سے مضمون ہے اور مضمون نگار کے نام کی جگہ ’’ادارہ‘‘ تحریر ہے۔ مضمون کی ذیلی سُرخی’’ پاکستان کی معاشی، تعمیری، انتظامی اور عام سرگرمیوں پر ایک نظر‘‘ ہے اور اس میں ایک سال کے عرصے میں پاکستان کی مختلف میدانوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا احوال درج کیا گیا ہے۔’’دکن کے سیاسی مدارجِ ارتقاء اور اساسِ آزادی‘‘ کے عنوان سے سلیم صدیقی کا یہ مضمون، حیدرآباد دکن کی سیاسی تاریخ کے نشیب و فراز کی داستان سُناتا ہے۔

پاکستان لگ بھگ پون صدی کا سفر طے کر چکا ہے۔ اس طویل سفر میں بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا، تو کام یابیوں کی راہ پر بھی قدم رکھا۔ تاہم ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی ہمارے سامنے امکانات کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ خدا نے اس مُلک کی صُورت میں ہمیں دنیا کی شاید تمام نعمتیں دے رکھی ہیں، ضرورت صرف عزم و ہمّت کی ہے۔ اس سال قوم نے نئے لوگوں کو منتخب کیا ہے۔ دُعا ہے کہ وہ قوم کے اعتماد پر پورے اُتریں۔


مکمل خبر پڑھیں