یادگار جشن آزادی!

August 12, 2018
 

پاکستان کے 71ویں یوم آزادی کا جشن ایسے حالات میں منایا جا رہا ہے ، جب ہم بحیثیت قوم ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں اور اس پر مسرت موقع پر ایک اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہے ہیں ، جس پر بلا شبہ ہم فخر کر سکتے ہیں ۔ 25 جولائی 2018 ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں مرکز اور صوبوں میں نئی جمہوری حکومتیں قائم ہو رہی ہیں ۔ جمہوری عمل کے ذریعہ پر امن انداز میں انتقال اقتدار کا مرحلہ 14 اگست سے پہلے شروع ہو رہا ہے اور 14 اگست کے بعد چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا ۔ اس حوالے سے یہ جشن آزادی تاریخ میں یادگار رہے گا ۔ صرف یہی نہیں کہ اس موقع پر نئی جمہوری حکومتیں تشکیل پا رہی ہیں بلکہ ہم ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کررہے ہیں ۔ کسی وقفے کے بغیر مسلسل تیسری مدت کے لیے منتخب جمہوری حکومتیں بننے جا رہی ہیں ۔ یہ ہمارے لیے دہری خوشی اور افتخار کا موقع ہے ۔


اس موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا چاہئے کہ ہم بحیثیت قوم جمہوری عمل کو جاری رکھیں گے اور ہر وہ اقدام کریں گے ، جو جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہو ۔ مملکت خداد ادپاکستان ووٹ کے ذریعہ وجود میں آئی ہے ۔ جمہوریت ہماری بنیاد اور ہمارا جوہر ہے ۔ مسلسل تیسری آئینی مدت کے لیے جمہوری حکومتوں کی تشکیل سے ہم عالمی برادری میں سربلند کرکے اور فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور پاکستانی قوم کئی نشیب و فراز کے بعد جمہوری راستے پر گامزن ہو چکی ہے ۔ یہ وہ پیغام ہے ، جو ہر یوم آزادی کے موقع پر ہماری طرف سے دنیا کو جانا چاہئے ۔ جمہوری تسلسل اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ہمیں جو بنیادی کام کرنا ہے ، وہ یہ ہے کہ ہم پارلیمنٹ اور دیگر جمہوری اداروں کو مضبوط بنائیں ۔


پاکستان کے نئے وزیر اعظم ( نامزد ) عمران خان نے جس مقصد کے لیے سیاست کا آغاز کیا تھا ، جمہوریت اور ووٹ کے ذریعہ انہیں یہ مقصد پورا کرنے کا موقع ملا ہے ۔ انہوں نے کسی غیر جمہوری طریقے سے یہ موقع حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور اگر انہیں کبھی پیشکش بھی ہوئی تو انہوںنے اسے مسترد کر دیا ۔ عمران خان اپنا مشن پارلیمنٹ کے ذریعہ مکمل کر سکتے ہیں ۔ لہذا ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں ۔ پارلیمنٹ کسی بھی جمہوری ملک کا سپریم ( بالا دست ) ادارہ ہوتی ہے ۔ اس کا کام صرف آئین یا قانون سازی ہی نہیں بلکہ ریاست اور عوام کو درپیش تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ کے پاس موجود ہوتا ہے ۔ پارلیمنٹ ( بشمول سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں ) کے پاس ہر بحران سے نمٹنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے ۔ منتخب جمہوری ادارے بہتر طرز حکمرانی فراہم کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ یہی ادارے عوام کے بنیادی حقوق کے محافظ ہوتے ہیں ۔ دنیا میں جہاں بھی احتساب کا شفاف اور غیر جانبدارانہ نظام قائم ہے، وہ جمہوری اور پارلیمانی احتساب کا نظام ہے ۔ سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیز اور اسٹینڈنگ کمیٹیز اگر صحیح طریقے سے کام کرنا شروع کر دیں تو نہ صرف منتخب جمہوری نمائندوں کا موثر احتساب ہوتا رہے گا بلکہ کسی بھی سرکاری ادارے میں کرپشن کا فوری سدباب کیا جا سکے گا ۔ معاملات قومی احتساب بیورو ، اینٹی کرپشن کے اداروں اور احتساب کے دیگر اداروں تک پہنچیں گے ہی نہیں ۔ عمران خان احتساب کے نعرے پر عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں ۔ انہوں نے پوری دنیا دیکھی ہے اور دنیا میں احتساب اور جمہوریت کے حقیقی تعلق کا بھی انہیں یقیناََ ادراک ہو گا ۔ ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو زیادہ مضبوط بنائیں اور یہ تب ممکن ہو گا ، جب وہ پارلیمنٹ کو زیادہ اہمیت دیں گے ۔


عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد زیادہ تر منتخب عوامی نمائندے نہ صرف عوام سے دور ہو جاتے ہیں بلکہ اسمبلیوں میں اپنی ذمہ داریوں کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ کہا یہ جاتا ہے کہ حکومتی امور میں ان کی مصروفیات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ ان کے پاس وقت نہیں ہے اور ان کی سیکورٹی کے مسائل کی وجہ سے بھی وہ پہلے کی طرح لوگوں سے رابطہ نہیں کر سکتے ۔ ماضی میں پارلیمنٹ کو بہت نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ نے اپنے منتخب اداروں کو وہ وقت نہیں دیا ، جس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان کے وفاقی اور صوبائی وزراء بھی اسمبلیوں سے غائب رہنے کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے ہیں ۔ عمران خان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس روش کو تبدیل کریں گے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ انہوں نے ہفتے میں ایک گھنٹہ عوام کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس’’ پیپلز آور ‘‘ میں وہ عوام کے سوالوں کا جواب دیں گے ۔ اگر وہ ایک گھنٹہ واقعتا اس مقصد کے لیے مختص کریں گے تو یہ ایک قابل تقلید مثال ہو گی ۔ ماضی میں بھی کئی حکمرانوں نے اس طرح کے اعلانات کیے تھے لیکن یہ اعلانات صرف میڈیا کی خبر یا پروپیگنڈا ثابت ہوئے ۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نے کبھی براہ راست عوامی سوالات کے جوابات نہیں دیئے بلکہ بیورو کریسی کو ان سوالات پر رسمی کارروائیوں کے لیے لگا دیا گیا اور لوگوں کا کوئی مسئلہ حل نہ ہوا ۔ عمران خان کے لیے یہ ’’ پیپلز آور ‘‘ عوامی رابطہ ہر برقرار رکھنے کا بہترین موقع ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں پارلیمنٹ کو بھی اتنا ہی وقت دینا ہو گا ، جتنا پارلیمنٹ کا استحقاق ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے عمران خان نے پارلیمنٹ کو بہت کم وقت دیا ۔ اب انہیں یہ تاثر ختم کرنا ہو گا ۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کو ماضی کے کسی بھی سیاست دان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ اگر عمران خان ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ ( قومی اسمبلی اور سینیٹ ) کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کو لازمی بنانا ہو گا ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو بہت کم وقت دیا۔ یہاں تک کہ ان کے وزراء بھی پارلیمنٹ سے غائب رہتے تھے ۔ صرف یوسف رضا گیلانی ایسے وزیر اعظم تھے ، جنہوں نے سب سے زیادہ وقت دیا لیکن پارلیمنٹ کی ورکنگ کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ 72 ویں یوم آزادی پر تشکیل پانے والی نئی جمہوری حکومت کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جمہوری اداروں پر باقی سیاسی جماعتوں سے زیادہ یقین رکھتی ہے اور ان اداروں کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنا رہی ہے ۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں