تبدیلی کا مطلب خواتین کو آگے بڑھانا ہے

August 21, 2018
 

شکر ہے الیکشن کمیشن کو بھی ہوش آیا کہ دیامیر میں خواتین کے کم ٍووٹ پڑنے کے باعث منتخبہ رکن کی رکنیت منسوخ کر دی ہے۔ وہاں اب دوبارہ انتخاب اس لئے ہو گا کہ الیکشن سے پہلے ہی جرگہ میں اعلان کیا گیا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مذکورہ ممبر کو جرگے کی مخالفت مول لینے کی ہمّت نہیں ہوئی۔ صرف الیکشن کمیشن کیا، پلٹ کر دیکھیں اسپیکر قومی اسمبلی خواتین خاص کر شیریں مزاری کے حوالے سے، وہ بھی اور دیگر وزراء بھی ناشائستہ گفتگو کرتے رہے ہیں۔ ویسے ہر صوبے میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں بھی مجھے عمران خان میں ذہنی تبدیلی نظر نہیں آئی ورنہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کسی بھی صوبے یا قومی سطح پر کسی خاتون کو نامزد کر سکتے تھے۔ ایک دم انتہاپسندی کی بو آنے لگتی ہے۔ ویسے ہماری اسمبلی میں خواتین ممبران کی تربیت کیلئے پہلے تو یواین ڈی پی ورکشاپس کیا کرتی تھی، اب بھی اس لئے ضروری ہے کہ آئین پاکستان کی شقوں کو سمجھنے کیلئے تمام خواتین و حضرات ممبران کی باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔

گزشتہ اسمبلی میں بھی صرف 20فیصد خواتین نے پارلیمانی بحث میں حصّہ لیا، باقی خواتین حاضری لگا کر 5000روپے روزانہ لے کر شاید شاپنگ کرتی رہیں کہ جب دیکھو بیشتر ممبران ایسے سج کر آتی ہیں لگتا ہے کسی شادی یا تقریب میں جا رہی ہیں۔ ہمیں ان خواتین کے علاوہ اپنے اسپیکر صاحب کو بھی سکھانا ہے جو کچھ شازیہ مری نے کہا ہے کہ صرف مردوں کے احترام میں نہ کھڑے ہوں عورتوں کا احترام ان پر پہلے واجب ہے۔ پی کے قبیلوں میں تو عورت کی جگہ چاردیواری ہے مگر یہ تو اسمبلی ہے کہ جہاں اسپیکر صاحب آپ سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کے پی کے اسپیکر منتخب ہونے سے پہلے آپ چاروں بھائی 14مرلے کے گھر میں رہتے تھے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ اب ماشاء اللہ آپ کے پاس 5کنال کا گھر ہے۔ اس طرح کی باتیں پوچھنا لوگوں کا حق ہے اور جواب دینا آپ کی ذمہ داری۔ حکومت کرتے ہوئے کسی کو کچھ نہ کہا گیا تو دیکھ لیا کہ کسی کے اومنی اکائونٹ ہیں تو کس کے کروڑوں کے فلیٹ۔ یہاں تو یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ ’’اب پچھتاوے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ اب تو سودا نقد و نقد ہو گا۔ تبدیلی کے نعرے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ممبر اسمبلی ہیں تو جب چاہیں، جس کو چاہیں تھپڑ ماریں، بے عزت کریں اور ہر حکومت کی طرح آپ بھی لوٹ مار، قرضے اور بے نام بینکوں کے اکائونٹ کھولیں۔ کوئی پوچھے تو اس کو اغواکروا دیں، اخباروں پہ سنسرشپ لگا دیں۔ فواد چوہدری ہو کہ زلفی بخاری آپ کی قربت کا زعم رکھ کر جو چاہیں کھل کھیلیں۔ پیمرا کو بھی کہیں کہ وہ خبروں پہ زبردستی پابندی نہ لگائیں اور جیسا کہ وعدہ کیا ہے کہ جتنے رشوت خور افسران ہیں ان کو گھر کا رستہ دکھائیں۔

اس مرتبہ پی ٹی آئی میں خواتین بھی کافی تعداد میں ہیں۔ حکومت اگر سادگی کا وعدہ کرتی ہے تو ہماری ممبر خواتین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے علاقے میں خواتین اور نوجوانوں کیلئے ایسے پروجیکٹ بنائیں کہ سب لوگ برسرروزگار ہو جائیں۔ یہاں ایک غلط فہمی کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ سرکاری نوکری کیلئے سب بے قرار ہوتے ہیں۔ سرکار کل آبادی کا صرف 20فیصد کھپا سکتی ہے، ضرورت ہے چین، ملیشیا، ویتنام اور تھائی لینڈ کی طرح خود روزگار اسکیمیں بنائی جائیں۔ پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی لگائی جائے۔ ہر گائوں میں مڈوائف نہیں تو دائی کی ٹریننگ کی جائے۔ ہنزہ میں جس طرح خواتین کو لکڑی کا کام کرنے کی تربیت گزشتہ کئی سالوں سے آغا خان فائونڈیشن دے رہی ہے اسی طرح کمپیوٹر، موبائل اور بجلی کا کنکشن ٹھیک کرنے کی بنیادی تربیت گائوں کی سطح پر دی جائے۔ اس وقت بازار میں خاص کر بچّوں کے کپڑے تھائی لینڈ سے منگوا کر فروخت کرتے ہیں۔ گھروں میں کپڑے تیار کرنے والیوں کی بھی کھال اتاری جاتی ہے۔ ان سب مجبوریوں کو ختم کر کے خواتین بازار جیسے پشاور اور کراچی میں ہیں، کھلوائے جائیں۔ خواتین کیلئے بلاسود قرضوں کا اہتمام کر کے باقاعدہ صنعتوں کو قائم کیا جائے۔ شادی کے اخراجات پر پابندی اور لاہور کی طرح سب جگہوں، گھروں اور ہوٹلوں میں ون ڈش کا اہتمام کیا جائے، اس قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔ عید، تہوار کی خوشیوں میں اسپتالوں اور یتیم خانوں میں جا کر، ایدھی سینٹروں میں موجود بزرگ مرد اور عورتوں کو خوش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اس ملک کی اچھائی یہ ہے کہ یہاں ہر گائوں میں عورتیں خاص کر کام بہت کرتی ہیں۔ ہر علاقے کی کڑاھیاں مشہور ہیں، ہر علاقے کے کھانے مشہور ہیں، ان کو وسعت دینے کیلئے ہر پارٹی کے لوگ کام کریں۔ ہر گائوں میں چھوٹا ہی سہی، اسکول اور ڈسپنسری لازمی قائم ہونا چاہئے پھر تفریحی پروگرام جیسے پرانے زمانے میں چوپال ہوتی تھی اسی طرح ہر علاقے کے لوگ گیت، رقص اور تہواروں پہ پورے علاقے میں خوشی اور قہقہے بکھیرے جائیں۔ یہ نہ ہو کہ جیسے اس دفعہ ووٹ مانگنے والوں کے ساتھ سلوک ہوا۔ یہ کہانی صرف دہرائی ہی نہیں، بڑھ بھی سکتی ہے۔ کسی بھی کامیابی پہ کھلم کھلا ہوائی فائر کرے اور ہر ایک کے ہاتھ میں گن، خدا کیلئے یہ روایت بدل ڈالیے۔ اس میں پہل خواتین ممبران کو کرنی پڑے گی۔


مکمل خبر پڑھیں