Kishwar Naheed - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
پیر 28 ذیقعدہ 1438ھ 21 اگست 2017ء
کشور ناہید
August 18, 2017
ہماری سیاست میں لفظوں کا بدشکل ہونا

کچھ لفظ بے پناہ استعمال سے پہلے بوسیدہ اور پھر غلیظ ہوجاتے ہیں بلکہ دوسروں کا مذاق اڑانے کے لئے ان لفظوں کا استعمال ہوتاہے۔قائداعظم کے زمانے میں جمہوریت کا لفظ، سب چھوٹے بڑوں نے سنا۔پسند بھی آیا اور جس سے جتنا ہوسکا، جمہوریت کو پاکستان میں رائج کرنے کے لئےجدوجہد بھی کی۔بہت سے اپنوں کی قربانیاں دے کر پاکستان اور جمہوریت کو...
August 11, 2017
یہ سانحہ بھی ہماری زندگی میں ہونا تھا

یہ بھی سننے کے لئے ہم زندہ ہیں کہ پرویز مشرف دھڑلے سے کہےکہ جمہوریت کا زمانہ خراب اور آمریت کا زمانہ اچھا تھا۔ یوں تو سننے کوبہت کچھ مل رہا ہے، دیکھنے کوبھی وہ کچھ ہے کہ اس پر صبر کرنا اور جواب نہ دینا بھی عبرت کا مقام ہے۔ یہ نتیجہ اس فیصلے کا ہے کہ جب سیاست دانوں نے ( معاف کیجئے شاید ہوں) یہ فیصلہ کیا کہ جوبنچوں کافیصلہ، اسے ہی سر...
August 04, 2017
ستر سال کے بعد۔ ہم نے کہاں جانا ہے

شرمین عبید نے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے موضوع پر فلم بنائی تھی جس کو کہ وزیراعظم نے مخصوص لوگوں کے ساتھ دیکھا۔ کہا بھی کہ اس کے خلاف قانون اور مستحکم کیا جائے گا مگر ہر روز ایک نہ ایک یہ قبیح واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ قانون حرکت میں اتنا آتا ہے کہ مقدمہ درج کرکے، زیادتی کرنے والے شخص کو مفرور قرار دے کر، انتظار کا وعدہ کرکے فائل بند...
July 28, 2017
پاکستانی دوست امریکہ میں

ابھی امریکہ سے جہاز سے اترے چند گھنٹے ہوئے تھے کہ بوگھیو صاحب کا فون آیا کہ فوراً اکیڈمی آئیں، ہم نور الہدیٰ شاہ کے ساتھ شام منارہےہیں۔ اصل میں اکیڈمی نے اگلے بورڈ میں نور کو تازہ تازہ شامل کیا ہے۔ میں نے کہا بھی کہ جیسے سپریم کورٹ میں شیخ رشید خراٹے لے رہے تھے، میں بھی وہاں شامل ہو کر خراٹے ہی لوں گی، مگر نور کی محبت اور بوگھیو...
July 21, 2017
لاعلمی میں ہندوستان، پاکستان ایک ہیں

پرانے زمانے کا قول ہے کہ دانش کہاں سے سیکھیں۔ فرمایا بےوقوفوں سے۔ اسے ہم الٹا کر استعمال کرسکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں، سی این این نے ایف بی آئی سے نکالے گئے چیف کومےکا ڈیڑھ گھنٹے کا انٹرویو پیش کیا۔ جس میں پندرہ منٹ، کومے نے اپنی وضاحت پیش کی۔ باقی سوا گھنٹہ سینیٹ کے اراکین نے باری باری سوالات کئے۔ کئی سینیٹرز تو اپنے علاقے کے لوگوں کے...
July 14, 2017
بلوچستان میں ترقی پسند لوگ کون تھے

ہم لوگ جو خود کو پڑھا لکھا سمجھتے تھے۔ ترقی پسند تحریک کو پنجاب، یوپی اور حیدر آباد دکن تک محدود سمجھتے تھے۔ خدا بھلا کرے ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہ جنھوں نے ’’لٹ خانہ‘‘ کے عنوان سے عبداللہ جمال دینی کے تاریخی کالموں کو مرتب کرتے ہوئے، ہم جیسے جاہلوں کو بتایا کہ 1935ء ہی سے دیہاتوں سے نکلنے والے نوجوان کیسے چھوٹے سے کمرے میں اکٹھے...
July 07, 2017
سید وقار عظیم، گرامچی اور اشفاق سلیم مرزا

اگر آج انتظار حسین زندہ ہوتے اور انڈین جج کا موروں کے بارے بیان سنتے تو وہ ہنستے ہنستے بے حال ہوجاتے ، بیان کیا ہے لطیفہ ہے کہ مور، مورنی کے ساتھ جفتی نہیں کرتا ، مور کے پر پھیلانے کے بعد جو آنسو گرتے ہیں، مورنی انکو پی جاتی ہے اور اسکو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ ایسے لطیفے ، انڈیا میں خاص کر گائے کے حوالے سے بہت ہورہے ہیں۔ کوئی گائے سے فال...
June 30, 2017
بودونابود کا آشوب

سخت گرمی کے باوجود کچھ تحریروں اور کچھ کتابوں کی سرشاری مجھے اپنے ساتھ لئے پھر رہی ہے۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے سید سبط حسن کے لعل وگوہر جگہ جگہ سے نکالے ہیں، حالیہ کتاب میں میری پہلی کتاب لب گویا پر مضمون بھی شامل ہے۔ یہ مضمون1990کالکھا ہوا ہے۔ اتنے عرصے بعد پڑھ کر بہت لطف آیا۔ پھر مجھے ہر مہینے میں مکالمہ مظہر جمیل کے ترجمہ کردہ ، ایلس...
June 23, 2017
غیر ممالک میں ہماری لیبر کی مانگ کم کیوں ؟

اس سال کے بجٹ کوبیان کرتے ہوئے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک زمانے میں مشرق وسطیٰ میں ملازمت کرنے والے لوگوں کی تعداد اور آمدنی، باقی ممالک سے بہت زیادہ تھی ۔ اس سال وہ تعداد اور آمدنی خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے۔ وجوہات میں اول درجے پریہ ہے کہ ہمارے مقابلے میں انڈیا، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سے لیبر ، ہماری لیبر سے سستی مل رہی ہے۔...
June 16, 2017
رضا ربانی کو بھی پارٹی ہائوس کی تلاش ہے

چند روز ہوئے،ادیبوں کے دوست رضاربانی صاحب نے کہاکہ معاشرے کی بربادی کا سبب کیاہے،اول تو تمام ترقی پسند طلبا کی تنظیمیں مارشل لا کے زمانے سے اب تک بند کردی گئیں اور رجعت پسند تنظیموں کو نہ صرف کھلی چھٹی دی گئی بلکہ سرکاری طور پر بھی ان کو لاقانونیت اور وحشیانہ حرکات پر ہلا شیری دی گئی۔میراجی کرتا تھا کہ پوچھوں آپ کی بھی دو دفعہ...
June 09, 2017
مصور صادقین کے ساتھ کیا ہورہا ہے

گزشتہ دنوں صادقین کی ایک پینٹنگ ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی ۔ صادقین دل کے فقیر اور بادشاہ تھے ۔ جس نے بھی کبھی اپنی تصویر ، کبھی غالب کا کوئی شعر یا کچھ اوربنوانا چاہا۔ اس درویش نےنانہ کہا۔ بخوشی آدھے گھنٹے میں بناکر دیدیا۔ میرے جیسے لوگوں سے جب وہ اور شاکر علی کہتے کہ تمہیں کونسی پینٹنگ لینی ہے۔ تو میں ہنس کر کہتی ’’ آپ کے...
June 02, 2017
بی بی کی بیٹیو! پوری قوم تم سے مخاطب ہے

ہماری بے نظیر کی بیٹیاں قلابازی سیکھ رہی ہیں۔ پاکستان میں رہنے کیلئے اپنی مدافعت کیلئے ایسے کام ضرور آنے چاہئیں۔ یہ بھی اچھاہے کہ انتہا پسندی چاہے مذہب کے حوالے سے ہو کہ عورتوں کے حوالے سے، ان موضوعات پر ٹویٹ بھی بھیج دیتی ہیں۔ مگر میری جیسی ان کی اماں کی دوستوں کی خواہش ہے کہ وہ ابھی پڑھیں خوب پڑھیں۔ اپنے خیالات کو ٹویٹ پر ہی...
May 26, 2017
قربِ قیامت کی نشانیاں

اماں جب ہم کو قربِ قیامت کی نشانیاں بتاتی تھیں تو اس میں سورج کے سوا نیزے پر آنے سے پہلے ساری دنیا میں مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔ بچپنے سے لے کر اس ادھیڑ عمری تک زندگی گزارتے ہوئے یہی سوچتی رہی کہ ابھی تو دنیا میں پچاس کے قریب مسلمان ممالک ہیں، قیامت ہمارے سامنے تو آنے سے رہی۔ ویسے بھی مکہ مدینہ پر کسی غیر کی حکومت تو کبھی ہو ہی نہیں...
May 19, 2017
ڈیورنڈ لائن معاہدہ1993 ءمیں ختم پھر اس کے بعد

ہماری لاعلمی یا جہالت یا غفلت ہمیں بڑے مسائل میں پھنسادیتی ہے۔ آپ کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ انگریزوں نے پاکستان اور افغانستان کی زمینی حدود مقرر کرنے کے لئے 1893میں ڈیورنڈ لائن بنائی۔ یہ لائن بلوچستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ معاہدہ یہ ہوا کہ ڈیورنڈ لائن سو برس تک قائم رہے گی۔ یہ100برس1993میں پورے ہوگئے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب پاکستان اور...