100 روز میری جان، سو روز ابھی اَور

September 02, 2018
 

”تبدیلی“ کا جو مژدہ کئی برسوں سے ہمارے کانوں میں رس گھولتا رہا ہے، وہ ابھی کہیں نوکر شاہی کے نہاں خانوں میں ترتیب پا رہا ہے۔ آخری اطلاع کے مطابق بس ابھی 100 روز اَور ”انتظار کیجیے“ کا بورڈ وزیراعظم کے دفتر پہ آویزاں کر دیا گیا ہے۔ متاثرینِ ”انصاف انقلاب“ کی بے چینیاں دیدنی ہیں جو ہر پل انقلابی تجلیوں کے لئے بے چین تھے۔ لے دے کے کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب تھا جو پہلے ہی خوب بیچا جا چکا ہے اور کر و فر سے ”قانون کی حکمرانی“ کے نام پہ جاری و ساری ہے۔ رہی سہی کسر ”انتظار کیجیے“ کے وقفہ میں ہمارے بوالعزم وزیراعظم اور طاقتور وزیرِ داخلہ جناب عمران خان کے ہاتھوں پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب 100 روز کا انقلابی رزمیہ ”ٹاسک فورسز“ کے حوالے ہے، دیکھتے ہیں کہ ہمارے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (DMG) کے ہر فن مولا کیا گل کھلاتے ہیں۔ لوگ بھی کیا سادہ ہیں، اُمید کا دامن پھر بھی تھامے خوشخبری کے منتظر۔ بھلا خوش فہمیوں میں مبتلا رہنے پہ کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ جہاں ستر سال وعدوں پہ ٹرخانے میں گزر گئے، 100 روز انتظار اور سہی۔ ہمارے انصافیان نے دس برس نعرے بازی میں گزار دیئے یا پھر مخالفین کی پگڑیاں اُچھالنے میں۔ کوئی ایسا نہ تھا کہ گورنر ہاؤسز کی دیواروں اور دیگر نوآبادیاتی زمانے کی یادگاروں کو ڈھا کر دس صفحہ کا متبادل منصوبہ ہی تیار کر رکھتا کہ ہمیں تحریکِ انصاف والے کپتان کے حکومت میں آتے ہی ان پُرشکوہ نوآبادیاتی ورثوں کی دیواریں گراتے نظر آتے۔ کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ جو مبینہ چوری کے 200 ارب ڈالرز مغربی بنکوں کی کمیں گاہوں میں چھپائے گئے تھے، بس پلک جھپکتے برآمد کر لئے جائیں گے، جن میں سے 100 ارب سے قرضہ واپس اور 100 ارب ڈالرز سے عوام کے لئے راحت کا بندوبست ہو جائے گا۔ لوٹی ہوئی دولت تو جانے کب واپس آئے گی، ابھی تو جو دولت لوٹی جا رہی ہے اور جو دہشت گردوں کے بھی کام آ رہی ہے اُسے روکنے کا بندوبست بھی نہیں ہو رہا۔ اور تو اور جو اقدامات منی لانڈرنگ کو روکنے کے لئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اُس پر ابھی بھی وہ کچھ نہیں کیا جا رہا جو پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ پہ آنے سے بچا پائے۔ لیکن خواتین و حضرات! ذرا صبر! بس 100 روز اور!

یادش بخیر! ایک انقلاب 1970ءکے انتخابات کے بعد بھی آیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تباہ حال اور ٹوٹے ہوئے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ پہلے 100 روز میں کیا تھا کہ جو نہیں ہو گیا۔ جنرل یحییٰ اور اس کے ٹولے کو برخاست کر دیا گیا، حمود الرحمان کمیشن قائم کر دیا گیا، 22 سرمایہ دار خاندانوں کی اجارہ داریاں ختم اور تمام بنک، انشورنس کمپنیاں اور بڑے بڑے کارخانے قومیا لئے گئے، زرعی اصلاحات کا اعلان کر دیا گیا، لیبر اصلاحات متعارف کر دی گئیں، نجی مشنری تعلیمی ادارے قومیا لئے گئے، آئین سازی کا آغاز کر دیا گیا، دولتِ مشترکہ کا طوق اُتار پھینکا گیا اور عالمی سامراجی فوجی معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر لی گئی، آزاد خارجہ پالیسی اور تیسری دُنیا اور مسلم دُنیا کے اتحاد کے لئے کوششوں کا آغاز کر دیا گیا۔ بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی کے لئے سفارت کاری کو متحرک کیا گیا، مارشل لاءکی جگہ عبوری آئین کی تیاری شروع کر دی گئی۔ نوکرشاہی کی تطہیر کی گئی۔ مزدوروں نے فیکٹریوں کا کنٹرول سنبھال لیا، بے شمار مقامات پر کسانوں نے جاگیرداروں کو بیگار دینا بند کر دیا، جیالوں نے ڈپٹی کمشنروں، ایس پی آفسز اور دیگر دفاتر پر عوامی کنٹرول قائم کر دیا۔ عوام کی اقتدار میں شراکت کے کیا کیا مناظر تھے جو ہر لمحے ظہور پذیر نہ ہو رہے تھے۔ پہلی بار عوام کے منتخب نمائندوں کا راج قائم ہوا اور ایک حقیقی عوامی اور بااختیار وزیراعظم نے ملک کو ایک بالکل نئی سمت میں ڈال دیا۔ (پھر کیا ہوا؟ کیا غلطیاں ہوئیں؟ قومی اتحاد کا ردِّانقلاب کیوں آیا؟ اور عوامی انقلاب کا کیوں اور کیسے اسقاط ہوا؟ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ البتہ اُس کے خونین انجام سے ہم بخوبی واقف ہیں جب ایک بوٹ پالشیئے کے ایما پر ایک مقبول وزیراعظم کا عدالتی قتل کر دیا گیا)۔

وزیراعظم عمران خان بھی بے نظیر بھٹو کے بعد ایک پاپولر وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہیں نواز شریف کی طرح دو تہائی اکثریت تو حاصل نہیں لیکن انہیں ریکارڈ ووٹ ضرور ملے ہیں اور اُن کی عوامی حمایت اپنے عروج پر ہے۔ جنرل ہیڈکوارٹر میں اُن کا پُرتپاک اور حسبِ عہدہ شایانِ شان استقبال کیا گیا ہے۔ ہمارے دوست فواد چوہدری سپہ سالار کی اس یقین دہانی پہ کہ فوج بھی انتظامیہ ہی کا حصہ ہے جس کے آئینی و انتظامی سربراہ وزیراعظم عمران خان ہیں اتنے مسرور ہیں کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ تمام ادارے ایک صفحے پہ ہی نہیں بلکہ ایک کتاب پر متحد ہیں۔ یہ بات سننے اور دیکھنے کو ہمارے کان اور آنکھیں پتھرا سی گئی تھیں۔ کاش جس کتاب کا ذکر کیا گیا ہے وہ 1973 کے آئین ہی کی ہو۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وزیراعظم عمران خان کو یہ تکریم نصیب ہو رہی ہے۔ نیب کے چیئرمین بھی حاضرِ دفتر (PMO) ہو چکے ہیں اور خود وزیراعظم قانونی و عدالتی اصلاحات پہ گزارشات پیش کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اداروں میں ایسی ہم آہنگی دیکھنے کو یہ آنکھیں ترستی رہی ہیں۔ غالباً مقتدرہ (جس میں تمام غیرمنتخب ادارے شامل ہیں) اور ایک پاپولر وزیراعظم کے درمیان یہ یگانگت گزشتہ 40 برس میں پہلے یوں کبھی نظر نہیں آئی۔ اوپر سے بابا فرید شکر گنج کی درگاہ سے کیا کیا سوغاتیں اور برکتیں ہیں کہ خاتونِ اوّل کے طفیل برس رہی ہیں۔ بابا فرید نے کیا خوب کہا تھا:

یا فریدا، جو تو میرا ہو رہیں

سب جگ تیرا ہوئے

بس اب اگر تبدیلی آئی بھی ہے تو یہ کہ اب عمران خان اپوزیشن میں نہیںرہے، حکومت میں ہیں۔ اُن کے اقوالِ زرّیں، وعدے، دعوے، پیمانے، معیار اور نئے پاکستان کے خد و خال، اب اُن کا امتحان بن گئے ہیں۔ ہر روز اک نیا انقلاب تو کیا آنا تھا، نت نئے تماشے لگ رہے ہیں۔ ابھی تک وزیراعظم کی رہائش اور سفر کے معاملات بھی طے نہیں ہو پا رہے۔ بیچارہ وزیراعظم سڑک سے سفر کرے تو سلامتی اور پروٹوکول کے مسائل اور اگر وہ 55 روپے فی ایئروناٹیکل میل ہیلی کاپٹر پہ سفر کرے تو تمسخر کا نشانہ، کابینہ بنائے تو صاف ستھرے لوگ کہاں سے لائے، وہی مشرف دور کے آزمائے گئے جغادری اکٹھے کرے یا پھر اتحادیوں کے بدنام لوگوں کو شامل کرے تو مصیبت۔ افسر شاہی میں اکھاڑ پچھاڑ کرے تو وہی ڈی ایم جی گروپ کی شاہی، قومی وقار کو بچائے تو امریکی ٹیپ موجود، پاکپتن میں ایک عیاش ڈی پی او فارغ ہو تو وزیراعلیٰ معتوب، سرائیکی علاقے سے ایک غریب سردار چُنے یا سوات سے پہلی بار کسی خان کو وزیراعلیٰ بنائے تو حسنِ انتخاب پر اعتراض۔ سادگی اختیار کرے تو پھر طرح طرح کے شگوفے۔ بھئی وزیراعظم کو کام بھی کرنے دو، ابھی تو اُنہوں نے روڈ میپ بھی نہیں بنایا تو آپ خاک تنقید کریں گے۔ لے دے کے ہیلی کاپٹر، مانیکا کیس اور اسی طرح کی دوسری مضحکہ خیز درفنطنیاں رہ جاتی ہیں۔ سو میڈیا اسی میںمصروف رہے اور ہمارے افسرانِ اعلیٰ ”اسٹیٹس کو“ کو توڑنے اور تبدیلی کا روڈ میپ تیار کرنے میں مگن رہیں۔ پھر دیکھیں گے کہ تبدیلی کی ٹوکری سے کیا برآمد ہوتا ہے۔ 100 روز میری جان، 100 روز اَور سہی!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں