ہمارے عہد کا دانشور اور فکری آزادی

September 05, 2018
 

احسن سلیم

آج کا فرد، وقت کے مختصر ترین یونٹ کے ناقابلِ گرفت دورانیے میں بھی ’’تفکرات‘‘ سے آزاد نہیں ہے۔ خاص طور پر بر ِ صغیر پاک و ہند کی وسیع تر سرحدوں میں آباد، ہمارا موجودہ معاشرہ، جابجا سربریدہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے عہد کا دانشور بھی ’’فکری آزادی‘‘ سے اتناہی دور ہے،جتنا کہ زمین سے آسمان، ہمارے حسّی ادراکات اور ہمارا تخلیقی وفود، ادب کی قتل گاہوں میں نمود و نمائش کی بھینٹ چڑھادیا گیا ہے۔ زر پرستی اور شہرت کی خواہش ، ہمارے علم و ادب کے جسد میں اس طرح سلگ رہی ہے، جیسے خون کا کینسر شریانوں میں دہکتا ہے۔ سیاست میں اور با اختیار حکومتی اداروں میں کرپشن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، ظلم، نا انصافی، آئینی حقوق کی پامالی ، ہر قدم پر مجبوروں اور بےکسوں کی نہ ختم ہونے والی اذیتیں۔ اب کوئی نئی بات نہیں رہی، زندگی کے سادہ اور شفاف اوراق پر گزشتہ دو تین دہائیوں سے انسان کا خون ہی چمکتا نظر آتا ہے۔ فرائض کی ادائی اور فرض پر عائد’’ذمے داری‘‘ کے عنوان، دل کے قبرستانوں میں آسودہ ہوچکے ہیں۔ سوسائٹی کا ہر فرد ’’خوف کے شکنجے میں جکڑا ہے‘‘ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں یا خواتین کی علمبردار تنظیمیں، اخباروں کی سُرخیوں یا الیکٹرونک میڈیاپر یوں دکھائی دیتی ہیں، جیسے شام کے ملگجی اندھیرے میں زخمی پرندوں کی پرچھائیاں۔ ایسی صورت ِ حال پیدا ہو گئی کہ معاشرےکے تمام طبقے(ماسوائے اشرافیہ) چیخ اٹھے ہیں۔ وکلاء، تاجر، عام دکان دار، صنعت کار، مزدور، ہاری، کسان، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور سی این جی پمس کے مالکان، سب نے اپنی اپنی ایسوسی ایشنز بنارکھی ہیں۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کی طلباء تنظیمیں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنظیمیں بھی سرگرم ِ عمل ہیں۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کی عدم دستیابی کے خلاف مظاہر ے اور احتجاج بھی ہورہے ہیں اور تو اور مذہبی اسکالرز اور مدرسوں کے ڈنڈا بردار طالب علم بھی اکثر و بیش تر سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امن و امان کی صورتِ حال تاریخ کی سب سے خراب، بلکہ بدترین دور سے گزرہی ہے۔بے روزگاری نے بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے، یہ سب کچھ ہورہا ہے، یہاں تک کہ اب بڑے شہروں میں’’سول سوسائٹی‘‘ بھی تخلیق ہوچکی ہے، جس کی کوئی باقاعدہ نمائندہ تنظیم نہیں، کوئی سربراہ نہیں، کسی بھی شخص سے ٹی وی چینل انٹرویو کرلے، وہی ’’سول سوسائٹی‘‘ کا معتبر نمائندہ بن جاتا ہے ۔ ایک راہ گیر بھی سول سوسائٹی کی طرف سے گفتگو کرنے کا اعزاز حاصل کرلیتا ہے۔

اس پورے منظر نامے میں اگر کوئی نظر نہیں آتا ہے تو وہ قلم کار، جس کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، جسے کوئی منہ نہیں لگاتا۔ غزلیں، نظمیں، افسانے، ناول وغیرہ دھڑا دھڑچھپ رہے ہیں۔ اخبارات میں کچھ ادیبوں کے کالم بھی شائع ہوتے ہیں، مشاعرے ہوتے ہیں، ادبی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں، بلکہ عالمی اُردو کانفرنسیں، سیمینار، ورکشاپ وغیرہ ملکوں کے بڑے شہروں میں ہر سال منعقد ہوتی ہیں۔ پھر بھی ادیب و شاعرکہیں دکھائی نہیں دیتے۔

ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی کہیں کوئی ’’آواز‘‘ سنائی نہیں دیتی، ایک طرف، فرسٹ رینک کے تخلیق کاروں کی ایک بڑی تعداد،دنیا سے منہ موڑکراس جہانِ فانی سے دارالبقا کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ تو دوسری طرف قلم کاروں کی کھیپ کی کھیپ تیار ہورہی ہے، بلکہ ہوچکی ہے۔ مشاعروں، عالمی کانفرنسوں ، سیمیناروں اور دیگر ادبی تقریبات میں نو آموز قلم کاروں کی بہتات نظر آتی ہے،لیکن سنجیدگی اور متانت کا فقدان ہے۔

کرپشن صرف حکومتی اداروں میں ہی نہیں ہے،ادیب اوربلکہ شاعر بھی کرپشن کی خوب صورتی اور دل کشی پر جان دیتے ہیں۔ ادب میں بھی گلیمر کے ساتھ ساتھ، سیاست کی طرح زبردست گروہ بندی اور تفرقہ بازی کا شاندار کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس ہڑا ہُڑی میں کسی ادبی تحریک اور وہ بھی ’’ادب برائے تبدیلی‘‘ کے سلوگن کے ساتھ! چہ معنی دارد!۔ یہ وہ تقریریں اور باتیں ، جو میں نے اوپر درج کی ہیں، جن سے میرا سابقہ آئے دن پڑتا رہتا ہے۔

ایک ادیب دوست تو ہر روز یہی سوال دہراتا رہتا ہے’’ادب برائے تبدیلی‘‘ کیا ہے؟ اس سے تمہاری مراد کیا ہے؟آخر تم چاہتے کیا ہو؟ میں ہر بار اُسے بتاتا ہوں کہ ہم ادب سے، کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، ادب میں گروہ بندی اور گروپ بازی کا چلن عام ہوگیا ہے، اسے ختم کرکے تمام لکھنے والوں کو ،خواہ وہ کسی زبان میں لکھتے ہوں، یکجا کرکے ایک بڑی اکائی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کی ’’اجتماعی آواز‘‘ سرحدوں کے دونوں طرف بلند ہوسکے۔ ادیبوں کے درپیش مسائل کا حل نکل سکے ۔ جینوئن تخلیق کاروں، مصوروں ، موسیقاروں، گلوکاروں اور مخلص دانشوروں کو آگے لایا جاسکے۔ اُردوکے شاہکار فن پاروں کو دُنیا کی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرایا جاسکے۔ بوقت ِ ضرورت ادیبوں اور فن کاروں کی آواز پارلیمنٹ تک پہنچائی جاسکے یا زیادہ سنگین معاملہ ہو تو بین الاقوامی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکے۔ امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کی جاسکے۔ لسانی، صوبائی، مذہبی، مسلکی فرقہ واریت، تعصّبات اور نسلی تفاخرات کے خلاف جدوجہد کی جاسکے، مثبت اخلاقی اقدار کا احیاء کیا جاسکے۔ تمام بنی نوع انسان(خواہ وہ کسی بھی مذہب، دین یا نظریے کا پیروکار ہو) کے لیے بہترمستقبل کی ضمانت مُہیّا ہوسکے۔ میرا ادیب دوست کہتا ہے کہ’’یہ دیوانے کا خواب ہے، ایساکچھ نہیں ہوسکتا۔ منہ دھورکھواور ایک طرف بیٹھ جائو، یہاں بڑے بڑے صاحب اختیاراور بااثر ادیب و شاعر کچھ نہیں کرسکے، سوائے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے۔میں کہتا ہوں کہ اس بات کا فیصلہ تم مت کرو، سارے ادیبوں،شاعروں اور فن کاروں کو انفرادی سطح پر سوچنے دو، وہ اپنا فیصلہ خود کریں گے۔ آزادیِ اظہار، ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، جسے دنیا کی تمام قومیں مانتی ہیں۔ تعلیم ، صحت، سازگار اور پُرامن ماحول اور روزگار کی فراہمی حکومتوں کی ذمّے داری ہے،اگر حکومتیں اپنی ذمے داریوں سے اغماض برتتی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ انہیں یادداشتیں پیش کی جائیں، تمام اہلِ ادب کی طرف سے قراردادوں کے ذریعے اپنے موقف اور اپنی ’’تشویش‘‘ سے آگاہ کیا جائے اور تمام ادیب و شاعر، فن کار اور صحافی، مشترکہ طور پر اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں الفاظ اور آواز میں کائنات کی سب سے بڑی قوت پوشیدہ ہے۔ الفاظ اور آواز ہی کائنات پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ادیب و شاعر سے زیادہ بہتر الفاظ و آواز اور کس کی ہوسکتی ہے۔ احساسات، تخّیل، تد ّبر اور وسیع تر وژن ادیب و شاعر کے قلب میں تمام تر تخلیقی قوت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور الفاظ و آواز میں ڈھل کر اظہار پاتے ہیں، اس لئے ہمارا حق ہے اور ہماری ’’ذمے داری‘‘ ہےکہ اپنی اور آئندہ نسلوں کی خوشگوار زندگی کے لئے پوری اجتماعی قو ّت کے ساتھ جدوجہد کریں۔


مکمل خبر پڑھیں