کراچی پولیس چیف کا نظام میں تبدیلی کا اعلان

September 09, 2018
 

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے پولیس افسران کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب میں کراچی پولیس کے سیٹ اپ میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ اہم اجلاس میں کراچی کے تمام ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے تفتیشی افسران سے شکایات سنیں، مشورے لئے، موقع پر احکامات جاری کئےانہوں نے تمام تھانوں کے ایس آئی اوز کو بااختیار کرنے کے لئے اقدامات کا اعلان کیا۔

انہوں نے ہر تھانہ کے شعبہ تفتیشی کیلئے فوری طور پر کمپیوٹرز، پرنٹرز اور فوٹو اسٹیٹ مشین فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے اور کہا کہ تمام تھانوں کے ایس آئی اوز کو ایک نئی سمیت دو گاڑیاں، دو موٹر سائیکل اور دیگر سہولتیں فوری فراہم کی جارہی ہیں۔

تفتیشی عمل بہتر کرنے کیلئے اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل پر مشتمل تفتیشی یونٹس بنانے کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں، تفتیشی افسران پر مقدمات کی بھرمار کی بجائے ایک ماہ میں 3 سے 4 کیسز دیے جائیں گے۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ تفتیشی افسران پر مالی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا، کیس فائل کے ساتھ کاسٹ آف انویسٹی گیشن کا کچھ حصہ ایڈوانس دینے کے فارمولے پر کام شروع جاری ہے۔

انہوں نے تھانوں کی حوالات اور مال خانے ایس آئی اوز کے ماتحت کئے جارہے ہیں، تمام حراستیوں کا ذمہ دار تفتیشی انچارج ہوگا، چھاپہ مار کاروائیوں کیلئے ہر تھانے میں 8 سے 10 پولیس ملازمین پر مشتمل "ریڈ پارٹی" ہوگی۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے اعلان کیا کہ تھانوں کے ریکارڈ کیپنگ کے معاملات اور سی آر ایم ایس ایس آئی اوز کی ذمہ داری ہوگی،3 ماہ میں ہر ضلع کی سطح پر بین الاقوامی میعار کے مطابق انٹروگیشن روم قائم کئے جائیں گے۔

کراچی پولیس چیف نے تھانوں کی سطح پر تفتیشی عملے کے لیے مناسب جگہ کا بندوبست اور بہترین فرنیچر فراہم کا حکم دے دیااور کہا کہ تھانے کے ڈیوٹی افسر کی طرح شعبہ تفتیش کا ڈیوٹی افسر اور منشی بھی 24 گھنٹے موجود ہوگا۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے یہا کہ پولیس کے شعبہ تفتیش کو مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، 36 ہزار کی پولیس فورس میں 100 سے زائد لوگ بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ انہوں نے جرائم پیشہ کے ساتھ ملی ہوئی بعض کالی بھیڑوں کو سنبھلنے کا بہت موقع دیا، اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔

امیر شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس میں آپریشن اور انویسٹی گیشن ایک یونٹ ہیں، ایک دوسرے کو کامیاب کریں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھا نہیں، کم ہوا ہے، موٹر سائیکل چوری روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ پولیس میں اچھے کام پر ملازمین کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے، بری کارکردگی پر کسی کو نہیں چھوڑوں گا، افسران تفتیش میرٹ پر کام کریں، کسی کے بھی کہنے پر تفتیش خراب کرنے والوں کو وارننگ دیتا ہوں۔

انہوں نے اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور اہلکاروں کو انعامات اور تعریفی دیں۔


مکمل خبر پڑھیں