پسند کی شادی کرنے والےجوڑےکی ہراساں کرنے کے خلاف درخواست

September 12, 2018
 

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ نے سحرش نگر قاسم آباد کی رہائشی پسند کی شادی کرنے والی نوجوان لڑکی اور اس کے شوہر کی جانب سے رشتہ داروں کی طرف سے ہراساں کرنے اور کاروکاری قرار دیکر قتل کی دھمکیاں دینے کے خلاف دائر درخواست پر 18 سالہ طاہرہ بنت منٹھار علی کو دارالامان حیدرآباد بھیجنے اور والدہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی آفیسر تھانہ سرجانی ٹاؤن کراچی کو کیس کے ریکارڈ سمیت 9 اکتوبر کو طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں سحرش نگر قاسم آباد کی رہائشی مسماۃ طاہرہ بنت منٹھار علی اور اس کے شوہر ساگر علی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کا اصل تعلق تعلقہ وارہ ضلع قمبر شہداد کوٹ سے ہے، وہ عاقل و بالغ ہیں، 24 جولائی 2018 کو اس نے اپنی مرضی اور پسند سے ساگر علی سے شادی کی تھی جس کے بعد طاہرہ کے بھائی، ماموں اور دیگر رشتہ داروں نے ہراساں کرنا شروع کردیا ہے، اغوا کا مقدمہ درج کرادیاہے اور کاروکاری قرار دیکر میری تلاش شروع کردی کہ مجھے قتل کردیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ ان کی جانوں کو سخت خطرہ ہے، تحفظ دیا جائے اور شوہر کے ساتھ پسند کی زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت میں منگل کو مسماۃ طاہرہ کی والدہ ریشماں بھی پیش ہوئی اور عدالت کو بتایا کہ اس نے سرکٹ بینچ لاڑکانہ میں بیٹی کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی ہوئی ہے، اس کی بیٹی کو بازیاب کراکے اس کے حوالے کیا جائے اور ملاقات کرائی جائے۔ منگل کو عدالت نے وکلا کے دلائل کے بعد مسماۃ طاہرہ کی خواہش پر اسے دارالامان بھیجنے اور والدہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی آفیسر تھانہ سرجانی ٹاؤن کراچی کو ریکارڈ سمیت 9 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں