کلثوم نواز ایک بہادر اور باشعور خاتون

September 12, 2018
 

طارق حمید

موت ایک تلخ حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ اس لئے بھی کہ یہ خالق ارض و سما کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ پاکستان میں 11ستمبر کا سورج ڈھل رہا تھا کہ ایک خبر میڈیا پر چھا گئی، ہر سو اداسی پھیل گئی اور شریف خاندان کے لئے تو یہ 11تاریخ ستم بر بن گئی۔ یہ خبر لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک سے آئی۔ بیگم کلثوم نواز موت سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئیں۔

رستم زماں غلام محمد بٹ المعروف گاما پہلوان کی نواسی اور پاکستان کی سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر لاہور میں تولد ہوئیں۔ انہوںنے اسلامیہ کالج فار ویمن لاہور، ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب کی تعلیم پائی۔ 1971میں وہ معروف صنعت کار میاں شریف کے صاحبزادے میاں محمد نواز شریف سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں، ان کے چار بچے مریم، اسما، حسن اور حسین ہیں۔ بیگم کلثوم نواز اپنے شوہر کے سیاستدان ہونے کے باوصف سیاست میں عملی طور پر متحرک تو نہ ہوئیں البتہ انہیں سیاسی پیچیدگیوں کا بہت حد تک ادراک تھا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں تک ہی محدود رہا کرتی تھیں اور شاید ایسے ہی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتیں لیکن ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانےمیں‘‘۔ 12اکتوبر کو پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو معزول کرکے زمام کار ہاتھوں میں لے لی۔ شریف خاندان کے مردوں کو جیل بھیج دیا گیا اور خواتین کو گھر میں ہی قید کردیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بیگم کلثوم نواز تمام تر بندشوں کو توڑ کر میدان عمل میں آئیں، پارٹی کے بچے کھچے افراد کو ساتھ لیا اور مارشل لا کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کر ابھریں۔ ان کے ایک جلوس میں ان کی گاڑی کو روکنے کے لئے کار کو لفٹرکے ذریعے اٹھا لیا گیا، جو کئی گھنٹے ہوا میں معلق رہی لیکن ان کے عزم کو متزلزل کرنے کے خواہاں نامراد ہی رہے۔ آمریت سے نبرد آزمائی کے اس دورانیے میں ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور دور اندیشی نمایاں ہو کر سامنے آئی، انہوں نے ملک بھر کے دورے کئے، اگرچہ اس دوران ان کی جماعت کے بہت سے لوگ مخالفین کی صفوں میں چلے گئےلیکن وہ اپنے مخلص کارکنوں کے ساتھ اپنے خاندان کا مقدمہ لڑتی رہیں۔ اسی دوران یعنی 1999 سے لے کر 2002 تک وہ مسلم لیگ کی صدارت کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ شریف فیملی پر قائم کئے گئے مقدمات کی بھی پیروی کرتی رہیں۔ معاملات اگرچہ پیچیدہ اور حالات کٹھن تھے لیکن پہلوانوں کے خاندان کی اس دلیر بیٹی نے اپنے خون کاحق ادا کردیا۔ شریف فیملی کو سزائیں سنائی جارہی تھیں اور دیگر خطرات بھی موجود تھے۔پرویز مشرف پوری طرح ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے تھے اور خدشات یہی تھے کہ بھٹو اور جنرل ضیا الحق والا کھیل ایک بار پھر کھیلا جائےگا۔ یہ بیگم کلثوم نواز کی سیاسی بصیرت تھی جس نے درمیانی راستہ نکالنے پر توجہ دی۔ مشرف بھی جانتے تھے کہ ماضی کا کھیل دہرانا ان کے لئے بھی درست نتائج نہ لائے گا۔ عجب کشمکش کا عالم تھا کہ ایک بردار اسلامی ملک کی مداخلت پر معاملات طے پائے اور شریف خاندان کے سبھی اسیر عازم حجاز ہوگئے۔ شریف خاندان کی سیاست کا نیا آغاز 2006 میں میثاق جمہوریت لندن سے ہوا۔ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس معاہدے پر فوجی حکومت کے خاتمے کا عزم کیا۔ 23اگست 2007 کو عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو محترمہ کلثوم نواز اپنے شوہر کی بہترین سیاسی مشیر ثابت ہوئیں۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی کے اپنی میعاد پوری کرنے میں مسلم لیگ ن کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ عدلیہ بحالی کے معاملے پر ملک کی دو بڑی جماعتوں میں دوریاں بڑھ گئی تھیں لیکن جمہوری عمل چلتا رہا۔ 2013 کے انتخابات میں میاں نواز شریف کی جماعت کامیاب ٹھہری اور بیگم کلثوم نواز پھر سے خاتون اول بن گئیں لیکن شاید ایک طویل جدوجہد نے انہیں مضمحل کردیا تھا چنانچہ وہ کم کم ہی دکھائی دیتیں۔ پاناما کا قصہ چھڑا تو شریف خاندان پھر مصیبت میں آگیا، پے در پے ایسی غلطیاں ہوئیں کہ صاف محسوس ہوا اب میاں صاحب کے مشیر تبدیل ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ خبر بھی سامنے آئی کہ بیگم کلثوم نواز علیل ہیں اور علاج کے لئے لندن روانہ ہو رہی ہیں۔ 17اگست 2017 کو بیگم کلثوم نواز لندن گئیں، 22اگست کو دوران علاج تشخیص ہوئی کہ وہ گلے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ اس دوران کی متعدد مرتبہ کیموتھراپی کی گئی۔ متعدد مرتبہ وہ وینٹی لیٹر پر بھی ڈالی گئیں جس کو سیاسی رنگ دینے والوں نے بے شرمی کی حد تک اچھالا کہ یہ سب کچھ ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ اسی دوران انہوں نے حلقہ 120 کاالیکشن بھی لڑا اورفاتح رہیں۔ الیکشن میں تو جیت گئیں لیکن زندگی ہار گئیں۔ وہ بلاشبہ ایک بہادر، تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون تھیں۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ اردو ادب کی اس طالبہ کی موت پر مرزا شوق لکھنوی کا یہ شعر ہی کہا جاسکتا ہے۔

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے


مکمل خبر پڑھیں