Advertisement

لائن آف کنٹرول کے متاثرین حکومتی امداد کے منتظر

April 25, 2019
 

راجہ حبیب اللہ خان، آزاد جموں کشمیر

آزاد کشمیر کے سیاسی حالات اور مجموعی سرگرمیوں کا اگر سرسری جائیزہ لیں تو مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی میں اکثر کچھ گلے شکوئوں کی چنگاریاں سر اٹھاتی اور بھجتی رہتی ہیں۔ جمہوریت میں حکومت اور اختلاف رائے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں اور انفرادی رائے پر اکثریتی رائے کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن اگر اندرونی طور پر متحد رہے تو اسے دور دور تک اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں دوسری جانب وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کے نیب کے دائرہ کار کو آزاد کشمیر تک بڑھانے، آزاد کشمیر میں کرپشن کے الزامات اور آزاد کشمیر میں قائم احتساب بیورو کی کارکردگی پر تنقید سے وزارت امور کشمیر اور حکومت آزاد کشمیر کے درمیان تلخیاں جنم لے رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فارو ق حیدر خان کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کی حیثیت سے حکومت پاکستان اور ہر ایک وزیر کا احترام کرتے ہیں۔ غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ حکومت پاکستان کیساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ اس وقت بنیادی توجہ قومی یکجہتی پر ہونی چاہیے۔آزاد کشمیر میں احتساب کا ادارہ کام کر رہا ہے۔ بہت احتساب کی باتیں کرنے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے احتساب شروع کیا تو ان کی پارٹی کا کوئی بندہ باہر نہیں رہے گا۔ آزاد کشمیر کی جیلوں مین اتنی جگہ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں ماضی میں سیاسی طور پر مختلف مخالف حکومتیں رہی ہیں لیکن ایسی صورتحال کبھی نہیں رہی جیسی اب ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان کو بھی خط لکھ رہا ہوں۔ آزاد کشمیر کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کونسل اور حکومت آزاد کشمیر کے مابین سرد جنگ کا آغاز کسی کے بھی مفاد میں نہیں یہ حساس خطہ ہے۔ اس وقت پاکستان اور کشمیر کیخلاف جاری بیرونی سازشوں کے تناظر میں ہر دو جانب سے تعلقات معمول پر رکھنا قومی مفاد میں ہے۔ صدر PTI کشمیر و سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی دعوت پر وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کے حالیہ دورہ میرپور کے دوران رواں سال دسمبر تک رٹھوعہ ہریام پل کی تکمیل۔ میرپور میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر۔ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کیلئے بڑا پیکج۔ انصاف صحت کارڈ کی فراہمی۔ ساڑھے سات لاکھ روپے تک علاج معالجہ کی سہولیات۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع۔ مانسہرہ۔ مظفرآباد تا میرپور موٹر وے کی تعمیر۔ میرپور میں انڈسٹریل زون کا قیام۔ سوئی گیس کی فراہمی۔ آزاد کشمیر میں میگا ترقیاتی پراجیکٹس کیلئے وافر فنڈز کی فراہمی۔ متاثرین منگلا ڈیم کے مسائل کے حل اور بلین ٹریز منصوبے کے تحت آزاد کشمیر کو سرسبز بنانے جیسے خوش آئیند اعلانات کیے جبکہ آزاد کشمیر میں پارٹی میں تبدیلی کے حوالے سے وزیر امور کشمیر کا کہنا ہے کہ یہ خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ PTIکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی قیادت میں PTI کشمیر بہترین انداز میں کام کر رہی ہے۔ وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اعلانات پر اگر سو فیصد علمدرآمد ہوا تو اس سے آزاد کشمیر کے عوام کو بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 70سال سے میرپور کیلئے ائیرپورٹ کے اعلانات ہر دور میں ہوائی ثابت ہوئے جبکہ مانسہرہ۔ مظفرآباد اور میرپور تک موٹر وے اور انڈسٹریل زون کے قیام کے منصوبہ جات’’سی پیک پراجیکٹ‘‘ کا حصہ تھے جنہیں موجودہ وفاقی حکومت نے ڈراپ کر دیا۔ اگر انھیں بحال کیا جائے تو آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی اور بالخصوص ٹوارزم کے فروغ میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ LOCکے متاثرین بے یار و مددگار حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت گزشتہ اڑھائی سالوں میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کر سکی۔ اس حکومت کی گورننس کا یہ حال ہے کہ پورے سال میں ترقیاتی بجٹ کے 22ارب روپے میں سے اس وقت تک محض 11ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس مالی سال کو ختم ہونے میں 2ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے اور نصف رقم خرچ کرنا ابھی باقی ہے۔ PPPنے شدید مالی بحران کے باوجود میگا ترقیاتی پراجیکٹس دیئے یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام پیپلز پارٹی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے بجٹ کی مالی سال کے اندر ترقیاتی پراجیکٹس کیلئے مختلف فنڈز کی بروقت استعمال کی جانب حکومت آزاد کشمیر کی توجہ مبذول کروائی ہے لیکن ہماری بیور و کریسی میں اکثر مالی سال ختم ہونے کے قریب کام میں تیزی لانے کا غیر اعلانیہ رواج ایک پختہ عمارت بن چکا ہے۔ منصوبوں کے یقینی معیار۔کرپشن سے پاک اور ان کی بروقت تکمیل سے ہی قومی احداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں