Advertisement

تاریخی درس گاہ ’’سندھ مدرستہ الاسلام‘‘

May 28, 2019
 

پروفیسرشاداب اختر صدیقی

تعلیم کا حصول کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کا ضامن ہوتاہے، یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور عروج کا سبب بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان کبھی بھی جدید تعلیم سے ناآشنا نہیں رہے بلکہ دور جدید کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت کی معراج پر پہنچ کر دین و دنیا میںعزت و توقیر حاصل کی۔ کسی بھی ملک کی ترقی کادارومداراس کےعوام کی شرح تعلیم پر ہوتا ہے۔کسی بھی نئے تعلیمی ادارے کے قیام اور اس کی ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات بلاشبہ نیک شگون ہوتے ہیں۔ ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ کا قیام بھی علم دوستی اور ملک سے جہالت کے اندھیرے دور کرکے، اسے دنیا میں نمایاں مقام دلانا تھا۔ اس کا شمار کراچی کی قدیم درس گاہوں میں ہوتا ہے۔

یہ ادارہ مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کی غرض سے یکم ستمبر 1885ء میں قائم کیا گیا۔ اس وقت خطے کے مسلمان نہ صرف تعلیمی میدان میں بہت پیچھے تھے بلکہ وسائل اور ذرائع کی کمی کے ساتھ اس میں ان کی دلچسپی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بمبئی یونیورسٹی نے1870ء میں پہلی مرتبہ میٹرک کے امتحان کا انعقاد کیا تو اس میں ایک بھی مسلمان طالبعلم کامیاب نہ ہو سکا۔ اگرچہ اس وقت سندھ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 75فیصد تھا۔ ایسے وقت میںمسلمانوں میں شعور اور آگاہی بیدار کرنے اور انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنے کیلئے باقاعدہ تحریک چلانے کی اشد ضرورت تھی۔ سر سید احمد خان نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علی گڑھ تحریک کا آ ٓغاز کیا اور 1875ء میں علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا۔سرسید احمد خان کی تعلیمی خدمات سے متاثر ہوتے ہوئے اس دور کی ایک جید شخصیت اور ممتاز دانشور،حسن علی آفندی نے بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کا اعادہ کیا۔ اس مشن میں انہیں کلکتہ کے تعلیمی ماہر سید امیر علی سمیت متعدد ہم خیال لوگوں کا تعاون بھی حاصل رہا۔ سید امیر علی نے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کے نام سے ایک سماجی ورفاہی تنظیم قائم کی تھی اور سندھ میں بھی اس کی شاخ کھولنے کا فیصلہ ہوا،جس کے صدر حسن علی آفندی نامزدکیےگئے۔ اس وقت سندھ میں ایک اچھے اسکول کے قیام کے لئے درکار وسائل کی شدید کمی تھی مگر جن کے ارادے پختہ ہوں، مشکلات اور مصائب ان کی راہ نہیں روک سکتے اور منزل ہر صورت ان کا مقدر بنتی ہے۔ تعلیمی ادارے کے قیام کے لئے فنڈز کی ضرورت تھی، انہوں نے چندہ لے کر وسائل کی اس کمی کو پورا کیا لیکن ادارے کے لیےجگہ کا مسئلہ برقرار رہا۔ اس وقت تک برصغیر میں ریلوے نظام متعارف نہیں ہوا تھا اور کراچی شہر میں افغانستان، ایران، عرب ممالک سمیت برصغیر کے دیگر حصوں تک تجارت اونٹوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ کراچی میونسپلٹی نے قافلوں کی سہولت کے لئے مسافر خانے تعمیر کئے تھےجنہیں ’’قافلہ سرائے‘‘ کہا جاتا تھا۔ انگریزوں نے جب ریل کی پٹڑیاں بچھائیں اور ٹرینوں کی آمدورفت شروع ہوئی تو مسافر خانوں کی ضرورت باقی نہ رہی۔ حسن علی آفندی کی سربراہی میں ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے نے میونسپلٹی کو راضی کیا کہ یہ جگہ تعلیمی ادارے کے لئے وقف کر دی جائے۔کچھ عرصے انتظار کے بعدانہیں اس مقصدمیں کامیابی حاصل ہوئی اور یوں یکم ستمبر 1885ء کو سندھ مدرسۃ الاسلام کا قیام عمل میں آ گیا۔ جو آج بھی اسی جگہ پر قائم و دائم ہے۔2011ء میں اسے یونیورسٹی بنانے کا بل منظور ہوا اور 2012میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا چارٹر شیخ الجامعہ محمد علی شیخ کے حوالے کردیا گیا۔

سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی سندھ کے ایک غریب گھرانے میں 14 اگست 1830ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اخوندخاندان سے تھا اوران کے آبائو اجداد ترکی سے ہجرت کر کے حیدر آبادمیں آباد ہوئے تھے۔انہوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ حسن علی آفندی کے فلاحی کارناموں کے اعتراف میں برطانوی سرکار نے انہیں ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب دیا۔ آپ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ اور 1934ء سے 1938تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ ان کا انتقال 20اگست 1895ء میں ہوا۔

سندھ مدرسۃ الاسلام کے قیام کے وقت 1885ء اس کے پہلے مینجمنٹ بورڈ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے مسٹر علی محمد نے اپنے والد حسن علی آفندی کی جگہ سنبھالی۔ انہوں نے اس وقت محسوس کیا کہ مدرسہ کے انتظامات درست نہیں چل رہے لہٰذا انہوں نے ادارے میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اس وقت برٹش حکومت سندھ میں سرگرم عمل تھی۔ ان کی کوششوں سےاز سر نو سندھ مدرسۃ الاسلام کا مینجمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا۔30 نومبر 1896کو مسٹر ایچ ای یو جیمز کمشنر سندھ کو صدرجب کہ آرجائلز،کلکٹرکراچی کو نائب صدرمنتخب کیا گیا۔ Mr. HS. Lawrence خان بہادر شیخ صادق علی، شیر علی، سیٹھ غلام حسین چھاگلہ، خان بہادر خداداد خان، سیٹھ معیز الدین جے عبدالعلی، مسٹر محمد حسین، میاں خیر محمد ابدالی اور ڈاکٹر جے ایف مرزا، مرزا لطف علی بیگ، پرنسپل مسٹر ولی محمد نے بطور سیکرٹری بورڈ میٹنگ میں شامل تھے۔ مگر کچھ عرصے بعد ہی ولی محمد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ پرنسپل کی رخصتی کے بعد ،وائس پرنسپل مسٹر ڈی پی کوٹلہ کوپرنسپل کا چارج دیا گیا جوکہ ایک سال اپنے عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران خیر پور ریاست نے پیشکش کی کہ اگر یورپین پرنسپل سندھ مدرسۃ الاسلام میں مقرر کیا گیا تو ریاست سالانہ 12ہزار روپے ماہوار گرانٹ دے گی۔ لہٰذا پیشکش کو قبول کرتے ہوئے یورپین پرنسپل کی تلاش شروع کر دی گئی اور مسٹر پیری ہائیڈکو پرنسپل نامزد کر دیا گیا۔ انہوں نے چھ سال 1897-1903ء تک اپنی خدمات انجام دیں۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کے دیگر پرنسپلز میںاے ایم میتھیواینگلو انڈین اسکالر لاہور، ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ،1930ء تک پرنسپل رہے۔ ان کے بعد مسٹر ہیمیسن پرنسپل مقرہوئے۔

سندھ مدرسے کی134سال پر محیط تاریخ میں یہاں سے کئی تاریخی شخصیات فارغ التحصیل ہونے کے بعد مسلم امہ کے لیے فقیدالمثال کارہائے نمایاں انجام دیتی رہیں۔ 1887ء میں سندھ مدرستہ الاسلام کے قیام کے دو سال بعد قائداعظم ؒمحمد علی جناح نے اس مادر علمی میں داخلہ لیا۔ آپ 1887ء سے 1897ء تقریباً ساڑھے چار سال اس ادارے سے وابستہ رہے۔ قائداعظم کو اپنی مادر علمی سے اس قدر محبت تھی کہ انہوں نے اپنی وصیت میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ اس ادارے کے نام کر دیا تھا۔ ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے21 جون 1943ء کو سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کا قیام عمل میں آیا، جس کا افتتاح قائداعظم نے اپنے دست مبارک سے کیا۔ اس تاریخی موقع پر انہوں نے اس ادارے سے اپنی وابستگی کوان الفاظ میں بیان فرمایا کہ ’’میں اس ادارے کے میدانوں کی ایک ایک انچ سے اچھی طرح واقف ہوں۔ جہاں میں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا اور پڑھا ہوں۔ آج مجھے خوشی ہے کہ میں اسے کالج کا درجہ دے رہا ہوں۔‘‘

سندھ مدرسے نامور طلباء میں سرعبداللہ ہارون، سر شاہنواز بھٹو، سر غلام حسین ہدایت اللہ خان، خان بہادر محمد، ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، علامہ آئی آئی قاضی، محمد ہاشم گزدر، غضنفر علی خان، چودھری خلیق الزماں، ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ، محمد ابراہیم جویو، جسٹس سجاد علی شاہ، قاضی محمد عیسیٰ، رسول بخش پلیجو، اے کے بروہی، علی احمد بروہی، پیرالٰہی بخش، میر غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل، غلام محمد بھر گڑی، علامہ علی خان ابڑو، جی الانہ، حکیم محمد احسن، موسیقار، سہیل رعنا، فلمسٹار ندیم، قومی ترانے کی دھن کے خالق احمد علی چھاگلہ، میران محمد شاہ، قاضی فضل اللہ، لٹل ماسٹر ، حنیف محمد اور بے شمار اہل علم شعراء، ادباء، وکلاء، سیاست دانوں نے یہاں سے استفادہ کیا۔

اس تاریخ ساز ادارے کی مرکزی عمارت کا سنگ بنیاد گورنر جنرل ووائسرائے آف انڈیا لارڈ ڈفرن نے 14نومبر 1887ء میں رکھا تھا۔ یہ عمارت گوتھک طرز تعمیر کا خوبصورت شاہکار ہے جس کا ڈیزائن کراچی میونسپلٹی کے انجینئر جیمس اسٹریجن نےبنایا تھا۔ سندھ مدرسے کی دوسری قدیم عمارت حسن علی آفندی لائبریری ہے۔ یہ عمارت 19ویں صدی کے آخری دنوں میں خیر پور ریاست کے ٹالپر حکمرانوں کی مالی معاونت سے پرنسپل ہائوس کے طور پر تیار کی گئی تھی۔ 1985ء میں اس عمارت کو لائبریری میں تبدیل کیا گیا تھا۔ آج اس لائبریری میں 20 ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں جن میں ایک صدی قدیم کتابیں بھی شامل ہیں۔ سندھ مدرسے کی ایک اور خوبصورت عمارت تالپور ہائوس ہےجو جدید اور اسلامی طرز تعمیر کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ یہ عمارت بھی سندھ کے سابق ٹالپر حکمرانوں کی مالی اعانت سےجولائی 1901ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتداء میں ٹالپر ہائوس سندھ مدرسے میں ٹالپر حکمرانوں کے زیر تعلیم بچوں کے لئے بورڈنگ ہائوس کے طور پر زیر استعمال تھا۔ قائداعظم اور دیگر شخصیات جو سندھ مدرسے سے وابستہ رہیں ان کے استعمال کی اشیاء اور نوادرات کیلئے جناح میوزیم بھی ہے۔

سندھ مدستہ الاسلام شہر کراچی کے مصروف ترین کاروباری مرکز میں واقع ہے اور آئی آئی چندریگر روڈ کے پاس حبیب بینک پلازہ سے متصل ہے۔ ساتھ ہی چیمبر آف کامرس کراچی کی عمارت ہے۔ جب کہ گرد و نواح میں سٹی ریلوے اسٹیشن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، میڈیا کے دفاتر، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ٹاور اور ساتھ ہی برنس گارڈن واقع ہیں۔

آج اس مادر علمی میں جدید تقاضوں کے مطابق علمی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔اس میںچار سائنسی لیبارٹری قائم ہیں۔ فزکس، کیمسٹری، بوٹنی اور زولوجی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تین کمپیوٹر سینٹرز قائم ہیں۔ کمپیوٹر سینٹرز سندھ مدرسے کے سابق طلباء کے ناموں سے منسوب ہیں۔ قائداعظم کمپیوٹر سینٹر، سر عبداللہ ہارون کمپیوٹر سینٹرز اسی عمارت میں واقع ہیں جبکہ ڈاکٹر محمد دائود پوتہ کمپیوٹر سینٹر گرلز سیکشن میں واقع ہے۔

سندھ مدرسہ الاسلام اپنے قیام کے 58برس بعد کالج کے مدارج تک پہنچا اور پھر مزید آگے کے مراحل طے کرتے ہوئے 79سال بعد بالآخر جامعہ کا روپ دھار گیا۔ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دیگر تعلیمی اداروں کی طرح اسے بھی قومیا لیا گیا ہے۔ جس کے بعد سے یہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کو جامعہ کا درجہ دلانے کے لئے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری (جو کہ حسن علی آفندی کے پڑ نواسے بھی ہیں) نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے قیام کا بل دسمبر 2011ء میں سندھ اسمبلی سے منظور ہوا اور 21فروری 2012ء کو گورنر سندھ جناب عشرت العباد خان نے مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کا چار ٹر شیخ الجامعہ محمد علی شیخ کے حوالے کیا۔ جس کے بعد2012میں اس میں پہلے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر یہاں پانچ شعبہ جات میں تعلیم دی جا رہی ہے، جن میں کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن، میڈیا اسٹڈیز، ایجوکیشن اور انوائرنمنٹل اسٹڈیز شامل ہیں۔ جب کہ کچھ ہی سالوں میں دیگر اہم شعبوں کا آغاز بھی کیا گیا۔ جامعہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قابل پی ایچ ڈی فیکلٹی کو سو فی صد میرٹ کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ سندھ مدرسے یونیورسٹی میںٹی وی ا سٹوڈیو، ایف ایم ریڈیو اسٹوڈیو بھی شامل ہیں۔

اسے جامعہ کادرجہ حاصل ہونے کے بعد شہر قائد میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کا ازالہ ممکن ہوا ہے، جو کہ بلاشبہ اعلیٰ درس و تدریس کے شعبے میں مثبت قدم ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام دنیا کی ان چند درس گاہوں میں سے ایک ہے جن کی تاریخی حیثیت اور اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ سندھ مدرسے کی اس طرح کی عالمی حیثیت کی وجہ اس ادارے کے سابق طلباء قائداعظم محمد علی جناح، سر شاہنواز بھٹو، عبداللہ ہارون اور سر غلام حسین ہدایت اللہ ہیں۔ حسن علی آفندی کی تعلیم دوست خدمات کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی ترقی اور کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کو ’’لیڈرز آف نرسری‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے پہلا کیمپس ملیر کیمپس کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس کےلئے100 ایکڑ زمین سندھ کی صوبائی حکومت نے بلامعاوضہ فراہم کی ہے ملکی ترقی کے لئے معاشی استحکام ناگزیر ہے اسی طرح معاشی ترقی میں تیزی اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق سے دور جدید اور عصر حاضر کی ضروریات کے مطابق ترقی یقینی ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حسن علی آفندی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارے سیاستدانوں کو قوم اور ملک کی بقاء اور ترقی کے لئے تعلیمی کی وسعت اور ترقی کے لئے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ جو تاریخی درس گاہیں خاص طور پر سندھ مدرسۃ الاسلام موجود ہیں ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ان کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہ تاریخی درس گاہیں ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سندھ مدرسۃ الاسلام ہماری پہچان ہےاورہماراقومی وقار ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم کو اپنی مادر علمی سے بے حد محبت تھی۔ ہمیں قائد کی نشانی کو رہتی دنیا تک محفوظ رکھنا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں