’’بسنت ہال‘‘ تاریخی عمارت تباہی سے دوچار ہے

September 03, 2019
 

تاریخ بتاتی ہے کہ 1843ء میں سندھ پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا، اور یوں اس علاقے میں نو آبادیاتی دور کا آغاز ہوا۔ اس دور میں یہاں اخلاق ، تمدن اور روایت میں جس قدر تبدیلی آئی۔ اتنے ہی شہر کے درو دیوار تبدیل ہوئے۔سندھ کا دارلحکومت حیدر آباد سے کراچی منتقل ہو گیا۔ نئے دور میں نئے رجحانات پیدا ہوئے۔ انگریزوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے باعث ہندوئوں کے متوسط اور تاجر طبقے نے بہت فائدہ اٹھایا۔ حیدرآباد کی آبادی ہیر آباد کی طرف بڑھی۔نئے علاقے اور پاڑے آباد ہوئے، صدر اور چھائونی کا علاقہ وجودمیں آیا ۔ شہر کے تاجروں نے ہیر آباد میں ایک خوبصورت کالونی عامل کالونی کے نام سے بنائی۔ جگہ جگہ باغات بنائے گئے۔ ان میں شام داس، پریم پارک، میر گارڈن اور سرفراز پارک بہت مشہور ہوئے۔ موجودہ گول بلڈنگ اور حیدرچوک جہاں پر واقع ہیں ، وہاں بھی باغات لگائے گئے تھے۔ اسی دور میں بڑے بڑے کتب خانے اور ثقافتی مراکز بنائے گئے، جن میں بسنت ہال اور دیالداس کلب بھی شامل تھے۔ ان کے وجود میں آنے کے بعد حیدرآباد شہر ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن گیا۔ اس دور میں تعمیراتی انقلاب بپا ہوا، نئی نئی عمارتیں وجود میں آئیں، ان میں سرکاری دفاتر، اسکولز، کالجز اوراسپتال شامل ہیں۔ رہائشی عمارتوں میں ہوا دان متعارف کروائے گئے یہ اتنے مشہور ہوئے کہ حیدر آباد کی شناخت بن گئے اور حیدرآباد ہوا دانوں کا شہر کہلوانے لگا۔ماہرین اس دور کی تعمیرات کے حوالے سےکہتے ہیں کہ اس دور میں تعمیر ہونے والے عمارات میں ملا جلا طرز تعمیر اختیار کیا گیا۔ جس سے مغلیہ، ہندوستانی، رومن،، گوتھک اور کورنتھین طرز کی عمارات وجود میں آئیں اور انمٹ نقوش چھوڑ گئیں۔ خوبصورت بالکونیاں، عمارتوں میں بریکٹوں کا استعمال، دروازے اور کھڑکیوں میں لکڑی اور شیشے کا نفیس کام، پتھروں کا عمدہ کام اور چونے کے پلاسٹر کا استعمال وغیرہ اس دور کے فن تعمیر کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

جی پی او روڈ حیدرآباد اور موبائل مارکیٹ صدر کے درمیان واقع بسنت ہال حیدرآباد برطانوی عہد میں تعمیر کی جانے والی ایک خوبصورت عمارت ہے جو پتھروں اور اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھی ۔ اس کی تعمیر 1901ء میں ہوئی اور یہ عمارت آج بھی فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ نیم کے درختوں سے ڈھکی اور لوہے کی اونچی سلاخوں سے بنی باڑ کے حصار میں واقع اس عمارت کا کل رقبہ 1805.2 اسکوائر یارڈ (مربع گز) ہے۔ اس عمارت اور اس میں قائم تھیوسو فیکل سوسائٹی کے دفترکا افتتاح 1917 ءمیں ہوا تھا۔ بسنت ہال کے مرکزی گیٹ کے احاطے میں داخل ہوں تو دائیں جانب ایک بڑی بارہ دری اور بائیں طرف صحن کے عین وسط میں پانی کا ایک بڑا حوض ہے جو کبھی پانی سے بھرا رہتا ہوگا اور یہ پانی اچھالنے کے لیے فوارہ بھی تھا لیکن اب صرف حوض باقی رہ گیا ہے جس میں پانی ندارد ہے۔اس کے اطراف میں سیمنٹ کی بنچیں دائرے کی صورت میں بنی ہوئی ہیں جسے نیم کے گھنے درخت سایہ فگن ہیں۔ بڑی تعداد میں لگے نیم کے ان درختوں کی شاخیں اس قدر پھیلی ہوئی ہیں کہ بسنت ہال کی عمارت ان کی آڑمیں چھپی دکھائی دیتی ہے۔ ہال کے دو اطراف سڑکیں جب کہ دو اطراف چوڑی گلیاں ہیں۔

عقبی گلی میں چونکہ رہائشی مکانات ہیں اس لئےوہاں رہنے والوں نے اسے رکاوٹیں قائم کرے عام افراد کے لئے بند کر دیا ہے۔ صحن کے ساتھ ہی بسنت ہال کی بلند و بالا عمارت ہے۔ ہال کی عمارت بائیں دیوار کے ساتھ چپکا کر بنائی گئی ہے جب کہ دائیں جانب ایک راستہ بارہ دری کے قریب سے گزر کر ہال کے عقبی حصے تک جاتا ہے۔ جہاں برائیڈل روم واقع تھے،اب ان میں عمارت کے کیئرٹیکر کی رہائش ہے۔ اور یہیں سے لائبریری کے اوپری کمرے کی جانب سیڑھیاں جاتی ہیں، اصل عمارت میں تین کمرے ایک ہال ہے۔ دائیں جانب مہتارام لائبریری کا دو منزلہ پورشن ہے جس کے زیریں حصے میں سوسائٹی کا دفتر واقع ہے اور اوپری پورشن میں لائبریری کا سیلڈ کمرہ ہے۔ ہال کے بائیں حصے میں ریڈنگ روم کے طور پر مخصوص ایک بڑا کمرہ ہے جسے دیوان گدومل کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ ان کمروں کے عقبی جانب مرکزی ہال ہے جس میں تقریباً 275 کرسیوں کی گنجائش ہے جب کہ ہال کے عقب میں بھی ایک بڑا صحن ہے۔ یہ ہال عوام کی فلاح وبہبود کے لیے خدمات انجام دینے والی سماجی شخصیت ’’اینی بسینٹ‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا جو بگڑ کر عوام میں بسنت ہال کے نام سے مقبول ہوا۔

عمارت میں نصب سنگ بنیاد پرہال کی تعمیر میں حصہ لینے والی شخصیات کے طور پر کھیم چندر مہتانی، کیول رام دیارام، مرزا قلیچ بیگ، خوب چند میوارام، لیلا رام پریم چند، سنتاداس منگھارام ، خوشحال سمتانی، غلام محمد بھرگڑی، ہیرا نند سنتوک رام، گگن مل دیتارام، کاکو منگھارام دیومل ادنانی، ایم حافظ جیٹھامل پرس رام اور آغا عبدالنبی کے نام بھی درج ہیں۔ 1997، 2007 اور 2016ء میں بسنت ہال کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کا کام کیا گیا لیکن ہال کی عمارت کی خستہ حالی متعلقہ اداروں کےغیر ذمہ داران طرز عمل کی واضح طور پر نشاندہی کر رہی ہے۔ لائبریری کی حالت زار انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔ بسنت ہال کے نگراں، کملیش کمار کرپلانی نے بتایا کہ بارش میں ہال کی چھتیں ٹپکتی ہیں اس لئے لائبریری کی قیمتی اور نایاب کتابیں برباد ہوگئی ہیں، اب لائبریری میں خستہ حال اور دیمک زدہ کاغذ کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ نایاب اور قیمتی کتابیں 50سے زائد بوریوں میں بند لائبریری کے فرش پرپڑی ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔

بسنت ہال جو برطانوی دور حکومت میں تعمیر ہوا تھا، قیام پاکستان کے بعد بھی سماجی، ثقافتی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے لیکن آج اس عمارت پر سناٹا طاری رہتا ہے۔ اس کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔1987ء میں بسنت ہال کی عمارت کو حکومت کی جانب سے قومی ورثہ قرار دیا گیا تھا، لیکن اس ورثہ کے تحفظ کے یے سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ۔ وزارت ثقافت و تاریخی آثار کو حیدرآباد کے اس قدیم ہال کی دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے ، اسے تباہی سے بچانے کے لیے اس کی تعمیر و مرمت کا کام فوری طور پر کرانا چاہیئے۔