Advertisement

جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کا وزیراعظم سے احتجاج

September 19, 2019
 

سیاسی حوالے سے کئی مدو جزر نظر آرہے ہیں اور بظاہر ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے، لیکن حیران کن حد تک وزیر اعظم عمران خان کسی پریشانی میں مبتلا نظر نہیں آتے، شاید یہی وہ حقیقت ہے جس کے باعث ان کے مخالفین زچ ہوتے نظر آتے ہیں اور اس کیفیت میں وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو حکومت کے لئے پریشانی کی بجائے تقویت کا باعث بن جاتی ہیں، مثلاً پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں 149 آرٹیکل کے ذریعے وفاق کو اختیارات دینے کے مسئلے پر ایک پریس کانفرنس میں جس طرح سندھو دیش، سرائیکی دیش بننے کے خدشات کا اظہار کیا اسے عمومی طور پر ملک بھر میں ناپسندیدگی اور منفی تاثر کی نگاہ سے دیکھا گیا، ادھر جنوبی پنجاب میں ان کے اس بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے سرائیکی دیش کی بات کرکے در حقیقت سرائیکی صوبہ کی اس پر امن تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرائیکی عوام کے حقوق کی خاطر جاری ہے جو کچھ بھی ہو جنوبی پنجاب کے عوام ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ سرائیکی دیش بنانا چاہتے ہیں، ان کی ساری جدوجہد آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی شناخت کے لئے جاری ہے اور اس کے لئے وہ مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں، مگر بلاول بھٹو نے نہ جانے کس ترنگ میں یہ شوشا چھوڑا ہے کہ اگر سرائیکی خطہ کے لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے تو وہ بنگلہ دیش کی طرح علیحدہ ملک بنانے پر مجبور ہوجائیں گے، اس قسم کے بیانات سے صاف لگتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نہ صرف سیاسی عدم بلوغت کا شکار ہیں بلکہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ملک کے کس خطہ میں کونسی تحریک کس انداز میں پروان چڑھ رہی ہے، اس قسم کی باتوں سے پیپلزپارٹی کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے، یہاں کی سرائیکی قوم پرست تنظیموں کے رہنمائوں نے تو واشگاف الفاظ میں بلاول بھٹو کے اس بیان کی مذمت کی ہے بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اسے واپس لیں اور سرائیکی عوام سے معذرت کریں۔ادھر مولانا فضل الرحمن ہر قیمت پر حکومت کو گرانے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے وہ کوئی نرمی دکھانے کو تیار نہیں ہیں، گزشتہ ہفتہ انہوں نے ملتان میں جو ورکرز کنونشن سے خطاب کیا، وہ بھی ان کی اس حکمت عملی کا حصہ تھا، وہ اس بات کو ماننے پر تیار نہیں ہیں کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ میں انہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس خیال کو غلط قرار دیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ان کے ساتھ نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے واضح طور پر اس لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے، اب ان میں کون کون لانگ مارچ میں شامل ہوتا ہے میرا مسئلہ یہ نہیں ہے۔

وہ اس بات پر بھی بضد تھے کہ یہ مارچ کسی قیمت پر ملتوی نہیں ہوگا اور نہ ہی حکومت سے کوئی رابطہ کریں گے، انہوں نے گزشتہ دنوں ملتان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین چار روز میں وہ اکتوبر میں ہونے والے اس مارچ کے حتمی پروگرام کا اعلان کریں گے، گویا وہ اس حوالے سے مکمل یکسو ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد کی طرف چڑھائی کرنی ہے اور حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بڑا صائب مشورہ دیا ہے کہ وہ قومی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی اس مہم جوئی کو ملتوی کریں اور کشمیر کے حوالے سے حکومت کی جدوجہد میں اس کا ساتھ دیں، مگر ظاہر ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے لئے ایسی نصیحت کارگر ثابت نہیں ہوسکتی ۔ جہاں تک پنجاب کی صورتحال کا تعلق ہے تو اس میں ایک بے یقینی واضح طور پر نظر آتی ہے، وزیراعلیٰ کے ترجمان شہباز گل کا استعفی اور اس کا پس منظر اس امر کا غماز ہے کہ پنجاب میں حکمران جماعت کے اندر سب اچھا نہیں ہے۔

اس کی ایک اور مثال اس وقت بھی سامنے آئی جب ملتان اور بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان کو لیٹر بھجوائے جس میں انہوں نے اپنی شکایات اور تحفظات سے آگاہ کیا ہے، ان خطوط کا بنیادی خیال یہ ہے کہ پنجاب میں بیوروکریسی نے پنجے گاڑ لئے ہیں اور عوام کے منتخب نمائندوں حتیٰ کہ وزیروں اور مشیروں کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی، ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کا طوطی بول رہا ہے اور ہر ڈویژن میں کمشنر کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔ جو فنڈز حکومت فراہم کررہی ہے ان سے ہونے والے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ بھی بیوروکریسی لے رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر افتتاح کرتا ہے اور ارکان اسمبلی، وزیر، مشیر صرف تالیاں بجانے کے لئے شریک ہوتے ہیں، گزشتہ دور حکومت میں اراکین اسمبلی کی ایسی ناقدری کبھی نہیں دیکھی گئی، خطوط میں کہا گیا ہے کہ اگر منتخب حکومت کے دور میں بھی عوامی نمائندوں کو اہمیت نہیں دیتی تو اگلے انتخابات میں وہ کس منہ سے عوام کے پاس جائیں گے، روزانہ سوشل میڈیا پر شہر کے مختلف حلقوں کے ایم این اے اور ایم پی ایز کی تصویریں لگا کر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے حلقہ کے لئے کیا کیا ہے ؟ مسائل ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں اور بیوروکریسی جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کررہی ہے کہ حکومت کے خلاف نفرت پیدا ہو، اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا گیا اور بہتری کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو پنجاب میں پی ٹی آئی قصہ پارینہ بن جائے گی، ارکان اسمبلی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا واضح مطلب یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب بیوروکریسی کو لگام دینے میں ناکام ہوگئے ہیں، وہ اس لئے منتخب ارکان اسمبلی سے نہیں ملتے کیونکہ ان کے کام کرانے کی ان میں استعداد نہیں ہے، اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عمران خان کی تمام تر حمایت اور حوصلہ افزائی کے باوجود اپنی حکومت کا قلعہ جمانے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں