Advertisement

’شاہ عنایت اللہ شہید‘ مساوات کا فلسفہ متعارف کرانے والے پہلے صوفی بزرگ

September 24, 2019
 

صوفی شاہ عنایت اللہ شہید سندھ بلکہ برصغیر کی تاریخ کے اہم صوفی بزرگ تھے جو مغل دور میں اپنی صوفیانہ فکر، فلسفہ اور حق کی خاطر شہادت کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان کے فکر و فلسفہ نے سندھ کی تاریخ، علم و ادب اور شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ صوفی شاہ عنایت کے آبا و اجداد اُچ شریف کے لانگاہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُچ میں آپ کا خاندان بغداد سے ہجرت کر کےآباد ہوا تھا۔ آپ کے خاندان میں مخدوم صدھو لانگاہ بڑے صوفی بزرگ تھے۔ صوفی شاہ عنایت کی ولادت 1065ھ بمطابق 1656ء میں میران پور (جھوک) میں ہوئی۔وہ جب سن شعور کو پہنچے تو مرشد کی تلاش میں اولیا کی سر زمین ملتان آگئے۔ یہاں ان کی ملاقات شمس شاہ سے ہوئی، انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ دکن میں سید عبد الملک کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے فیض حاصل کریں۔

چناں چہ وہ وہاں پہنچے اور کسب فیض کیا، پھر دہلی تشریف لے گئے اور شاہ غلام محمد سے علومِ متداولہ کی تحصیل کی۔ شاہ غلام محمد اگرچہ آپ کے استاد تھے مگر وہ صوفی شاہ عنایت کے زُہد و تقویٰ سے اس درجہ متاثر تھے کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ صوفی شاہ عنایت نے پہلے ٹھٹھہ کو مرکزِ رُشد و ہدایت بنایا، مگر یہاں آپ کی مخالفت ہونے لگی۔ بعد ازاں میراں پور تشریف لائے جو جھوک کے نام سے مشہور تھا۔ صوفی شاہ عنایت نے جس وقت جھوک میں تعلیم و تبلیغ شروع کی تو سندھ کے بیش تر مشائخ، صوفیا اور سادات اپنے فرائض کو فراموش کر کے خالص دنیادار زمیندار بن گئے تھے۔

اس اندھیرے میں صوفی شاہ عنایت کے علم و فضل ، اُن کی خدا ترسی، درد مندی اور بے لوث خدمتِ خلق کی روشنی پھیلی تو ان کے گرد ارادت مندوں کا ہجوم جمع ہونے لگا۔ مگر صوفی شاہ عنایت اُن روایتی صوفیوں میں نہ تھے جو حالات کو بدلنے کے بجائے صبر و قناعت کی تلقین کرتے ہیں اور یہ کہہ کر کہ دنیاوی زندگی چند روزہ ہے لوگوں کو توشۂ آخرت جمع کرنے کا درس دیتے ہیں۔

صوفی شاہ عنایت نے قانونِ معیشت کا یہ راز پا لیا تھا کہ اصل چیز پیداواری عمل ہے اور اصل مساوات وہ ہے جو پیداواری عمل کے دوران قائم ہو نہ کہ تقسیم کے دوران، ورنہ چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ بھی مال کو آپس میں بانٹ کر کھا جاتا ہے۔ لہٰذا صوفی شاہ عنایت نے پیداواری عمل میں مساوی شرکت پر زور دیا۔ ان کا راسخ عقیدہ تھا کہ مساواتِ محمدی ؐکا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ کھیتی باڑی اجتماعی اصولوں پر کی جائے، پیداواری عمل میں سب لوگ برابر کے شریک ہوں اور پیداوار کو حسبِ ضرورت آپس میں تقسیم کر لیا جائے۔ صوفی شاہ عنایت کے مرید فقیروں نے یہ تجویز بہ خوشی منظور کر لی اور اجتماعی کھیتی باڑی میں مصروف ہو گئے۔ صوفی شاہ عنایت کا یہ تجربہ بہت کامیاب ہوا جس کی وجہ سے صوفی شاہ عنایت کی شہرت جلد ہی دور دور پھیل گئی اور ہر جگہ ان کے نئے تجربے کا چرچا ہونے لگا۔

اس پر مستزاد یہ کہ ساداتِ بلڑی کے مرید بھی شاہ عنایت کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگے۔ ان وجوہات کی بنا پر امرا، بیش تر سادات اور جاگیردار طبقہ آپ کے سخت مخالف ہو گئے۔ اِن لوگوں نے ٹھٹہ میں موجود مغل صوبے دار نواب لطف اللہ خان کو شکایتیں کیں لیکن صوفی شاہ عنایت کی زمینیں مددِ معاش کے سلسلے میں دی گئی تھیں، صوبے دار کا اس پر کوئی اختیار نہ تھا۔ چنانچہ نواب لطف اللہ خان نے حکومت کی جانب سے مداخلت کرنا مناسب نہ سمجھا، البتہ زمینداروں کو اجازت دے دی کہ وہ صوفی شاہ عنایت اور ان کے فقیروں سے جس طرح چاہیں نپٹ لیں۔

صوبے دار کا اشارہ پا کر زمینداروں نے جھوک کی بستی پر اچانک دھاوا بول دیا مگر انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس حملے میں بہت سے فقیر بھی مارے گئے اوران کاکافی مالی نقصان بھی ہوا۔ شہدا کے وارثوں نے زمینداروں کی اس لا قانونیت کے خلاف شاہی دربار میں استغاثہ دائر کیا تو وہاں سے حکم صادر ہوا کہ مرتکبین بادشاہ کے حضور آ کر بے گناہوں کے خون کا حساب دیں۔ چوں کہ انہوں نے شاہی حکم کی تعمیل سے انحراف کیا لہٰذا خوں بہا کے عوض سلطانی دستور العمل کے مطابق ان کی زمینیں مقتولین کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ فقیروں کی اس قانونی جیت سے گرد و پیش کے مزارعین کے حوصلے بڑھ گئے اور سرکاری حکام اور زمینداروں کی بھی وہ پہلی سے ہیبت نہ رہی۔

مغل بادشاہ فرخ سیر نے غالباً یہ سمجھ کر کہ میر لطف اللہ خان فقیروں کے ساتھ نرمی برت رہا ہے اس کو برطرف کر کے نوب اعظم خان کو 1716ء میں ٹھٹہ کا صوبے دار مقرر کر دیا۔ زمینداروں نے اس تبدیلی سے فائدہ اٹھایا اور اعظم خان کے کان بھرنے شروع کر دیے۔ شاید نواب اعظم خان کو صوفی شاہ عنایت سے ذاتی عناد تھا۔اسی بنا پر نواب اعظم خان نے صوفی شاہ عنایت کی تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور ان کے فقیروں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ نواب نے صوفی شاہ عنایت سے وہ واجبات طلب کیے جو ممنوعہ سلطانی تھے۔

صوفی شاہ عنایت نے جواب دیا کہ جب یہ واجبات بادشاہ کی جانب سے معاف ہو چکے ہیں تو آپ کو ان کی وصولی کا کیا حق ہے؟ اِس جواب پر نواب اعظم خان تلملا اُٹھا۔ اس نے پیش کاروں ، متصدیوں اور اُمرا سے مشوروں کر کے باشاہ کے پاس تحریری شکایت بھیجی کہ صوفی شاہ عنایت اور اُن کے فقرا دعوائے سلطنت کر رہے ہیں اور خلیفۃ اللہ (یعنی بادشاہ) کا حکم ماننے سے انکاری ہیں۔ فرخ سیر نے اس امر کی تحقیقات کیے بغیر حکم صادر کر دیا کہ باغیوں کو بزورِ شمشیر اطاعت پر مجبور کیا جائے۔ مرکز سے اجازت ملتے ہی نواب اعظم خان جھوک پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا، اس نے سندھ کے تمام رئیسوں اور جاگیرداروں کے نام پروانے جاری کیے کہ اپنے اپنے سپاہی لے کر حکوت کی مدد کو آ جائیں۔

نواب اعظم خان نے میاں یار محمدکلہوڑو، تمام زمینداروں اور اس خطے کے ان تمام لوگوں کے نام معاونت کے احکامات حاصل کر لیے تھے جو فقیروں سے پرانی دشمنی رکھتے تھے۔ یوں ایک ایسی فوج تیار کرکے فقیروں پر حملہ کیا جو شمار نہیں کی جا سکتی تھی۔ نواب اعظم خان کی جمعیت قلیل تھی، مقابلہ در اصل خدایار خان کلہوڑو اور ان کی اتحادی زمینداروں کی کثیر فوج اور صوفی شاہ عنایت کے فقیروں کے درمیان تھا۔ ایک جانب خدا یار خان کلہوڑو نے محاصرہ کیا اور دوسری جانب نواب اعظم خان نے مورچہ لگایا۔ محاصرے کو دو ماہ گزر گئے مگر شاہی لشکر توپ و تفنگ سے لیس ہونے کے باوجودجھوک پر قبضہ کرنے کی جرات نہ کر سکا۔

اسی اثنا میں جاگیردار صاحبزادہ حسین خان اور دیگر زمیندار نواب اعظم کے حسبِ پروانہ کمک لے کر جھوک پہنچ گئے لیکن شاید ان ہی دنوں سیلاب آگیا اور جھوک کے اردگرد کھودی گئی خندقوں میں پانی بھر گیا۔ بہر حال صاحبزادہ سید حسین کی فوج نے کسی نہ کسی طرح پانی عبور کیا اور جھوک کی چہار دیواری کے قریب مورچہ لگا دیا۔ اس بات کو دو مہینے گزر گئے لیکن فقیروں کی قوتِ مقاومت میں کمی آئی اور نہ شاہی فوج ان کو زیر کر سکی۔ محاصرہ چار ماہ تک طول پکڑ گیا۔ فقیروں کے پاس نہ توپیں تھیں اور نہ ہی بندوقیں، لہٰذا اُنہیں شب خون مارنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ صوفی شاہ عنایت نے فقیروں کو ہدایت کر دی تھی کہ شب خون نہایت خاموشی سے مارا جائے لیکن ایک رات کسی فقیر نے غلطی سے اللہ کا نام لے کر نعرہ لگا دیا اور دوسرے فقرا اس نعرے میں شامل ہو گئے جس کی وجہ سے لشکر میں اپنے اور پرائے ظاہر ہو گئے ۔ جوابی حملے میں بیش تر فقیر شہید ہو گئے۔ شب خون میں شکست سے فقیروں کو نقصان ضرور پہنچا مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ دشمن سے بدستور مقابلہ کرتے رہے۔

آخر کار جب فقیروں پر فتح پانے کا کوئی امکان نہ رہا تو دشمن نے دغا و فریب سے کام لیا اور یکم جنوری 1718ء کو صوفی شاہ عنایت کے سامنے صلح کی تجویز پیش کی۔ میاں خدا یار کلہوڑو کا بیٹا محمد خان اور سالارِ افواج نے قرآن کو درمیان میں رکھ کر عہد کیا کہ فقیروں کی جان و مال کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ صوفی شاہ عنایت کے بعض رفقا نے ان کو سمجھانے کی بہت کوشش یں کیں کہ یہ عہد و پیمان دشمن کے مکر و فریب ہیں، ان کے دھوکے میں نہ آئیے اور مقابلہ جاری رکھیے، مگر خدا پرست صوفی قرآن کی قسم پر کیسے شک کر سکتا تھا چانچہ انہوں نے صلح کی تجویز منظور کر لی۔ جھوک کی بستی کا پھاٹک کھول دیا گیا اور شاہی فوج نے جھوک پر بلا کسی مزاحمت یا خوں ریزی کے قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں صوفی شاہ عنیت کو بڑے احترام کے ساتھ نواب اعظم خان کے خیمے میں صلح نامے پر دستخط کرنے کے بہانے لایا گیا لیکن وہاں پہنچتے ہی آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔

تب شاہی انتقام کی آگ نے جھوک کا رخ کیا اور فقیروں کا قتلِ عام شروع کر دیا گیا۔ ان کے گھر جلا دیے گئے، ان کا کل اثاثہ لوٹ لیا گیا اور بستی کی چہار دیواری منہدم کر دی گئی۔ جھوک کی اجتماعی کھیتی سیلابِ خون میں ڈوب گئی۔ جھوک کو نیست و نابود کرنے کے بعد نواب اعظم خان ٹھٹہ واپس آیا اور صوفی شاہ عنایت کو دربار میں طلب کیا۔ صوبے دار اور صوفی شاہ عنایت کے مابین دربار میں جو سوال و جواب ہوئے وہ طولانی داستان ہے۔ نواب اعظم نے جتنے سوال کیے صوفی شاہ عنایت نے ان کے جواب حافظ شیرازی کے اشعار کی صورت میں دیے۔ بالآخر ماہ صفر 1130ھ کو نواب اعظم خان کے حکم سے صوفی شاہ عنایت کا سر قلم کر کے شہید کر دیا گیا۔ جھوک کی بستی میں جو شہر ٹھٹہ سے 35 میل کے فاصلے پر واقع ہے آپ کا مزار آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔


مکمل خبر پڑھیں