’وکٹوریہ مارکیٹ‘ سندھ کا دوسرا قدیم ترین تجارتی مرکز

October 01, 2019
 

5 ہزار سالہ قدیمی تہذیب کی حامل سندھ دھرتی پر قدم قدم پر ایسی انوکھی، نایاب، نادر اور قدیمی چیزیں سامنے آتی ہے کہ دیکھنے والا حیران ہوجاتا ہے۔ ویسے تو سندھ کی ثقافت کے تمام رنگ نرالے ہیں، یہاں کے پکوانوں کا بھی کوئی جواب نہیں اور سونے پر سہاگہ سندھ میں موجود قدیمی عمارتیں ہیں۔

ایسی ہی قدیم عمارتوں میں سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع سکھر شہر میں 1883ء میں تعمیر ہونے والی وکٹوریہ مارکیٹ بھی ہے۔ برٹش سرکار کو ملکہ برطا نیہ’’ الیگزینڈرینا وکٹوریہ‘‘ سے گہری عقیدت تھی اور اس کے اظہار کے لیے اس نے دنیا کی تین ممالک میں اپنی ملکہ معظمہ کے نام پر مارکیٹیں تعمیر کرائیں۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں کوئن وکٹوریہ مارکیٹ، دوسرے نمبر پر سکھر کی وکٹوریہ مارکیٹ اور تیسرے نمبر پر کراچی کی ایمپریس مارکیٹ ہے۔

میلبورن میں کوئن وکٹوریہ مارکیٹ 1878، سکھر کی وکٹوریہ مارکیٹ اس سے 5سال بعد1883اور 1889میں کراچی میں ایمپریس مارکیٹ تعمیر کی گئی۔ وکٹوریہ مارکیٹ پاکستان کی واحد مارکیٹ ہے، جہاں ایک ہی مارکیٹ کے اندر متعدد بازار قائم ہیں۔ سبزی مارکیٹ، فروٹ مارکیٹ، مچھلی مارکیٹ، گوشت مارکیٹ، کھجور مارکیٹ، پرندہ مارکیٹ،مٹی کے برتنوں کی مارکیٹ، گھاس مارکیٹ، گڑ مارکیٹ سمیت ایک درجن کے قریب بڑی مارکیٹوں پر مشتمل وکٹوریہ مارکیٹ میں اشیائے خور ونوش سے لے کر اشیائے ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔

قدیمی مارکیٹ کا نام تو وکٹوریہ مارکیٹ ہے لیکن اگر اسے سندھ کی کوئن مارکیٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ سندھ بھر میں کوئی بھی ایسی مارکیٹ نہیں، جس کے اندر اتنی بڑی تعداد میں مارکیٹیں موجود ہوں۔ وکٹوریہ مارکیٹ میں نہ صرف مختلف انواع و اقسام کی مارکیٹیں موجود ہیں بلکہ اس کے اطراف میں بھی اہم ترین کاروباری مراکزبھی ہیں۔

کسی شخص کو اگر اپنے گھر والوں کے لئے کھانے پینے سمیت روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیاء کی ضرورت ہو تو وہ وکٹوریہ مارکیٹ کا ہی رخ کرتا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اشیائے خورو نوش سے لے کر اشیائے ضروریہ کی تمام تر چیزیں وکٹوریہ مارکیٹ سے مل جائیں گی۔

گھر کی سجاوٹ ہو، کھانے پینے کی اشیاء ، پھل فروٹ ، مچھلی، مرغی، بکرے کا گوشت ، عمدہ کھجوریں ہوںیا پھر اوڑھنے بچھونے کے سامان سمیت ساری چیزیںاسی ایک بازار میں مل جاتی ہیں۔ مختلف اقسام کے پرندے ہوں، مٹی کے برتنوں کی خریداری کرنا ہو، وہ بھی انگریز سرکار کے تعمیراتی شاہ کار، وکٹوریہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

اس مارکیٹ میں ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں موجود ہیں، جہاں پر ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں ۔ مارکیٹ میں ہونےوالی کاروباری سرگرمیوں سے ان کاروزگار وابستہ ہے۔ صبح سے لے کر رات گئے تک، مارکیٹ میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے۔

سکھر شہر کے دل گھنٹہ گھر کے قریب قائم وکٹوریہ مارکیٹ میں گڑ، سبزی، فروٹ، مچھلی، مرغی، بکرے کا گوشت، کھجور، مٹی کے برتن، نئے و استعمال شدہ ملبوسات، پرندوں کی دکانیں موجود ہیں جبکہ مارکیٹ کے بیرونی حصے اور مارکیٹ کے چاروں اطراف میں اجناس، مرچ مصالحہ، کپڑے، مشروبات، جنرل اسٹور، منیاری کا سامان، پان، چھالیہ، ڈرائی فروٹس، مصنوعی پھول، گھروں کی سجاوٹ کا سامان، کھانے پینے کے ہوٹلز قائم ہیں۔

یوں تو یہ مارکیٹ گوناگوں خوبیوں کا مجموعہ ہے اور ہر خوبی ایک سے بڑھ کر ایک ہے مگر تمام خوبیوں میں سرفہرست اس مارکیٹ کے دروازے ہیں جو کہ ایک، دو، تین یا چار نہیں بلکہ پورے سات ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی مارکیٹ ہوگی جس کے 7دروازے ہوں اور یہ ساتوں دروازے کھلے ہوئے ہیں جو سکھر شہر کی اہم ترین مارکیٹوں اور بازاروں میں نکلتے ہیں۔

اس مارکیٹ کی طرف سے اناج بازار، تمباکو بازار، لڑائیکی بازار، پان منڈی، گھنٹہ گھر چوک، بیراج روڈ، ڈھک روڈ سمیت دیگر کاروباری مراکز میں راستے نکلتے ہیں۔ مذکورہ کاروباری علاقوں میں یومیہ کروڑوں روپے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

وکٹوریہ مارکیٹ میں ایک مسافر خانہ بھی قائم ہے جو کہ بیرون شہر سے آنے والے افراد کے قیام کے لیے مخصوص ہے۔ کوئی ایسا شخص جو یہاں خریداری کے لیے آیا ہو اور رات زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے شہر واپس نہیں جاسکتا ،وہ یہاں ٹھہرتا ہے، جہاں مسافر وں سے رہائشی سہولت فراہم کرنے کی مد میں انتہائی مناسب کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

وکٹوریہ مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ خریداری کے لئے آنے والے افراد کی جانب سے نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ بیرون شہر، خاص طور سے کراچی، حیدرآباد، لاہور، اسلام آباد سے آنے والے افراد کو سکھر میں رہائش پذیر ان کے اعزاء دیگرتفریح گاہوں کی طرح وکٹوریہ مارکیٹ کا دورہ کراتے ہیں اور بیرون شہر کے لوگ وکٹوریہ مارکیٹ دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔

وکٹوریہ مارکیٹ میں گڑ مارکیٹ بھی موجود ہے، ویسے تو دیگر علاقوں میں بھی گڑکی چھوٹی و بڑی دکانیں موجود ہیں مگر سکھر میں اگر کسی جگہ پر گڑ مارکیٹ قائم ہے تو وہ جگہ وکٹوریہ مارکیٹ ہی ہے، اس کے علاوہ پورے شہر میں کہیں پر بھی گڑھ مارکیٹ نہیں ہے۔ وکٹوریہ مارکیٹ میں گائے کا گوشت بھی دستیاب ہے لیکن اس مارکیٹ میں شہر کی سب سے بڑی بکرے کے گوشت کی مارکیٹ بھی موجود ہے جہاں روزانہ بڑے تعداد میں بکرے ذبح کرکے گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔

وکٹوریہ مارکیٹ میں ہی مچھلی مارکیٹ بھی ہے جہاں پر دریائے سندھ سے پکڑی جانے والی تازہ مچھلیاں فروخت کے لئے لائی جاتی ہے۔ دکاندار مچھلیوں کی مختلف اقسام رکھتے ہیں تاکہ خریدار خالی ہاتھ واپس نہ لوٹے۔ دریائے سندھ سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کے ساتھ ساتھ فش فارمز میں افزائش کی جانے والی مچھلیاں بھی فروخت کی جاتی ہیں۔

وکٹوریہ مارکیٹ میں نایاب نسل کے پرندے بھی فروخت ہوتے ہیں، متعدد دکانوں میں خوبصورت طوطے، چڑیا، کبوتر، مرغیاں، مرغے، چوزے، کوئل، فاختہ سمیت دیگر نایاب نسل کے پرندے بھی دستیاب ہیں۔اس مارکیٹ میں مٹی کےبرتن پیالے، گلاس، مٹکا، ہانڈی ودیگر سامان بھی فروخت ہوتا ہے۔

یہ مارکیٹ مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہے، لوہے کی بڑی بڑی چادروں سے مارکیٹ کو ڈھانپ دیا گیا ہے تاکہ تیز دھوپ کی صورت میں دکانداروں کا سامان خراب نہ ہوجب کہ خریداری کے لئے آنے والے افراد کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بارش کی صورت میں بھی دکانوں کو تحفظ ملتا ہے اور ان میں موجود سامان خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔

مارکیٹ کے اطراف میں واقع ہوٹلوں، ریسٹورنٹ پر صبح کے وقت بے پناہ رش ہوتا ہے کیونکہ شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ وکٹوریہ مارکیٹ کے اطراف میں واقع ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے ناشتہ خریدنے کے لئے آتے ہیں، لسی، چھولے، پراٹھے، مغز و دیگر لذیذ اور ذائقے دار پکوان دستیاب ہوتے ہیں۔

ویسے تو سکھر شہر کی تمام مارکیٹیں جمعہ کے دن بند رہتی ہیں، مگر وکٹوریہ مارکیٹ وہ واحد مارکیٹ ہے جہاں پر جمعہ کے دن بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ صبح سے لے کر رات گئے تک خریداروں کا ہجوم اپنی مطلوبہ اشیاء کی خریداری میں مصروف نظر آتا ہے۔

شادی و بیاہ کی تقریب ہو، گھر کو سجانا ہو، گھر والوں کے لئے کھانے و پینے سمیت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری ہو، شہریوں کی جانب سے خریداری کے لئے وکٹوریہ مارکیٹ کا رخ کیا جاتا ہے کیونکہ وکٹوریہ مارکیٹ میں پہنچ کر ایک ہی جگہ سے تمام اقسام کی اشیاء باآسانی خریدی جاسکتی ہیں اور قیمتی وقت بچتا ہے۔