امریکا کی نیشنل انٹیلیجنس کی جانب سے سالانہ تھریٹ رپورٹ جاری کر دی گئی۔
امریکی انٹیلیجنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاک بھارت تعلقات ماضی کی کشیدگی کے باعث جوہری تصادم کے خطرے سے دو چار رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات خطے میں بڑے تصادم کو جنم دے سکتے ہیں، پاکستان اور بھارت کھلی جنگ نہیں چاہتے لیکن دہشت گرد عناصر کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود داعش خراسان بیرونی حملوں کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جدید میزائل ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے، یہ میزائل ٹیکنالوجی جنوبی ایشیاء سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ رجحان جاری رہا تو بین البراعظمی میزائل بھی امریکی سر زمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان طالبان تعلقات کشیدہ، سرحد پار جھڑپوں اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر افغانستان میں کارروائیاں تیز کیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملوں کا پاکستان نے فوری جوابی ردِعمل دیا، خطے میں پائیدار امن کے لیے طالبان کو پاکستان مخالف شدت پسندوں سے تعلق ختم کرنا ہو گا۔