Advertisement

جوانی لوٹانے کیلئے سائنس دانوں کی کوشش

October 07, 2019
 

کیلی فورنیا میں ایک چھوٹے پیمانہ کے طبی تجربہ میں پہلی مرتبہ یہ معلوم ہوا ہے کہ جسم کی (epigenetic) تولید ی گھڑی جوکسی فردکی حیاتیاتی عمر بتاتی ہے اس کودوائوں کے ذریعہ معکوس کیا جاسکتا ہے ۔اس تجربہ میں 9صحت مند رضاکار وں نے ایک سال تک تین دوائوں کی کاکٹیل استعمال کی تھی۔

جس میں دو ذیا بیطس کی دوائوں اور ایک گروتھ ہار مون( growth harmone) کا ملغوبہ شامل تھا۔اس کے استعمال سے ان کی حیاتیاتی عمر میںڈھائی سال کی کمی ہوگئی تھی۔جوکسی شخص کے جینوم(genome) کے نشانوںکی پیمائش سے معلوم ہوسکتی ہے۔ اس تجربہ میں حصہ لینے والوں کے مدافعتی نظام(immune system )میں بھی جوانی کی واپسی کے آثار نظر آتے تھے۔ یہ نتائج تو تجربہ کرنے والوں کے لیے بھی حیران کن تھے، کیوں کہ یہ ابتدائی نتائج ہیںاوراس تجربہ میں بہت کم افراد شامل تھے جن کا کنٹرول بھی تجربہ کرنے والوں کے پاس نہیں تھا۔

کیلی فورنیا میں کیے جانے والے تجربے کے نتیجے میںبعض افراد کی حیاتیاتی عمر میں کمی کے آثار ملے ہیں

لاس اینجلس میں قائم یونیورسٹی میں جینیاتی ماہر اسٹیو ہاورتھ کے مطابق تولیدی گھڑی میں سست روی کی اُمید تو تھی لیکن اس کے معکوس ہونے کا خیال نہیں تھا ۔انہوں نے اس تجربے کی تولیدی گھڑی کا تجزیہ بھی کیا ہے ۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف چین کے سیل بایولوجسٹ وولف گانگ ویگزکا کہنا ہےکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاکٹیل کا اثر ہوا ہے لیکن فی الحال یہ نتائج پتھر کی طر ح ٹھوس نہیں ہیں ،کیوں کہ یہ مطالعہ بہت چھوٹا تھا اور پوری طر ح کنٹرول بھی نہیں کیا گیا تھا ۔

یہ تولیدی گھڑی جسم کے تولیدی جینوم پر انحصار کرتی ہے جو کیمیاتی تبدیلیوںپر مشتمل ہے جیسے میتھائل گروپ ہے۔ جو ڈی این اے کی نشاندہی کرتاہے۔ان نشاندہیوں کا پیٹرن زندگی کے سفر میںتبدیل ہوتا ہے ۔جن سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر معلوم ہوتی ہے جو اس کی تاریخی عمر سے پیچھے یا آگے ہوسکتی ہے۔

سائنسدان تولیدی گھڑی کی تعمیر کے لیے جینوم کے درمیان میتھائل میں ڈی این اے سیٹ منتخب کرتے ہیں۔گزشتہ چند سالوں میں تولیدی گھڑی کی تحقیق کے بانی ہاورتھ نے چند انتہائی درست تولیدی گھڑیاں تعمیر کی ہیں۔حال میں کیا گیا تجربہ یہ معلوم کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ انسانوں میں گروتھ ہارمون کومحفوظ طور پر تھائی مس غدود کے ٹشوزکو واپس بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ غدودسینہ میں پھیپڑوں اور چھاتی کی ہڈی کے درمیان ہوتا ہے۔ جو نظام مدافعت کا درست طر یقے سے کام کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے ۔خون کے سفید خلیات ہڈی کے گودے میں بنتے ہیں۔ اور تھائی مس غدود کے اندر میچور (mature) ہوتے ہیں ۔ جہاں وہ خصوصی ٹی سیل بن جاتےہیں، جس کے بعد وہ جسم میں انفیکشن اور کینسر کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ لیکن یہ غدود بلوغت کے بعدسکڑنا شروع ہوجا تا ہے۔ اور پھر چربی کی زیادتی کی وجہ سے بند ہوکر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

ما ہرین کے مطابق جانوروں اور چند انسانوں پر تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ گروتھ ہارمون اس غدود کی درستی سے اس کی فعالیت کو تحریک دیتا ہے۔لیکن اس ہارمون کے استعمال سے ذیا بیطس ہوسکتی ہے ۔اس لیے اس تجربہ میں ذیابیطس کی دو بڑے پیمانے پر استعمال ہونےدوائیں استعمال کی گئی تھیں ۔جن کو TRIMکا نام دیا گیا تھا ۔

تھائی مس غدودکی درستی ،فعالیت اور مدافعتی نظام کی بحالی کے ساتھ تخفیف انسولین کاایک تجربہ 51 سے 65 سا ل کے سفید فام اشخاص پر کیا گیا تھا ،جس کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹر یشن نے 2015 ء میں منظور کیا تھا ،جسے امیو نسٹ (Immunist) گر یگوری فاہی کی سر براہی میں کیا گیا تھا جو لاس اینجلس کی انٹروین امیون کمپنی کے مشترک بانی اور چیف سائنٹیفیک افسر تھے ۔اس تجربے کو چند ماہ بعد کیلی فور نیا کے پائو آلٹومیں قائم اسٹین فورڈ میڈیکل سینٹر میں انجام دیا گیا تھا ۔

فاہی کی تھائی مس غدود سے دل چسپی 1986ء سے شروع ہوئی تھی ۔جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ چند سائنس دانوں نے گروتھ ہارمون کے خلیات چوہوںمیں پیوندکاری کی تھی، جس کے سبب ان کے مدافعتی نظام کی بحالی شروع ہوگئی تھی۔ فاہی کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی کہ اس کو کسی نے بھی کلینک میں نہیں آزما یاتھا ۔اس کے ایک عشرے بعد اس نے اپنی 46 سال کی عمر میں ایک مہینہ تک گروتھ ہارمون اورDHEA خودا ستعمال کی تھی اور اپنے تھائی مس غدود میںکچھ بحالی کے آثار دیکھے تھے۔

TRIM کے تجربہ میں سائنسدانوں نے علاج کے دوران اس میں حصہ لینے والے اشخاص کے خون کے نمونے حاصل کئے تھے ،جس سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ہرایک کے خون کے خلیات کے نمبروں میں اضافہ ہوا تھا۔تحقیق کرنے والوں نے تھائی مس غدود کی(magnetic resonance imaging)MIR بھی لی گئی تھیں ،تاکہ یہ معلو م ہوسکے کہ تجربےسے پہلے تھائی مس کے غدودکی کیا صورت تھی اور تجربے کے مکمل ہونے کے بعدکیا تبدیلی آئی تھی۔

حصہ لینے والے 7افراد میں چربی کی جگہ پر تھائی مس غدود کے ٹشو بحال ہوگئے تھے۔ تجربےمیں حصہ لینے والوں کی تولیدی گھڑیوں پر دوائوں کے اثرات معلوم کرنے کا خیال بعد میں آیا تھا۔ یہ کلینکل اسٹڈی اس وقت اختتام پذیر ہوئی تھی جب فاہی نے ہاروتھ سے تجربے کاتجزیہ کرنے کے لیے ملاقات کی تھی۔

ہاورتھ نے رضاکاروں کی حیاتیاتی عمر دریافت کرنے کے لیے 4مختلف تولیدی گھڑیاں استعمال کی تھیں،جس سے معلوم ہوا تھا حصہ لینے والے کے تمام ٹیسٹوں میںقابل ذکرعمر کی واپسی ہوئی تھی۔

چونکہ سائنس دان ہر شخص میںہونے والی انفرادی تبدیلیوں کا جائزہ لے سکتے تھے !جو ہر شخص میں بہت مضبوط تھا اس لیے وہ اس کے نتائج کی بابت بہت پراُمید تھے! ہاورتھ کا کہنا تھا کہ آج کل تحقیق کرنے والے میٹ فارمن دواکو بڑھتی ہوئی عمر کی بیماریوں جیسے کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچائو کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

فاہی کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ کاکٹیل کی تینوں دوائیںاپنے مخصوص میکنزم کے ذریعہ علیحدہ علیحدہ حیاتیاتی عمر پر اثراندازہورہی ہوں۔انٹروین امیون کمپنی ایسا منصوبہ بنارہی ہے ،جس کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر یہ تجربہ کیا جائے گا ، جس میں مختلف عمر اورنسلی گروپ کے مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہوں گی۔

تھائی مس غدود کی درستی سے بحالی ان لوگوں میں کار آمد ہوسکتی ہے ۔جن کا مدافعتی نظام ضرورت سے کم فعل انجام دے رہاہے جن میں بوڑھے افرا بھی شامل ہیں،کیوں کہ70 سال کی عمرسے اوپرکے افرادکی اموات کا بڑا سبب نمونیہ اور دوسری انفیکشن بیماریا ں ہوتی ہیں۔

ایڈنبرگ میں ہیریٹ واٹ یونیورسٹی کینسر امیونسٹ سیم پامر کا کہنا ہے کہ خون میں امیون سیل(مدافعتی خلیات) کا پھیلنا بہت حیرت انگیز کام ہے، جس کے اثرات بہت دور رس ہیں جو نہ صرف انفیکشن کی بیماریوں کے لئے سود مند ہوگا بلکہ یہ کینسر اور بڑھتی ہوئی عمر کی عام بیماریوں کے خلاف بھی موئثر علاج ثابت ہوگا۔


مکمل خبر پڑھیں