آپ کا صفحہ: کچھ بھی کہہ لیا کریں....

November 03, 2019
 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کچھ بھی کہہ لیا کریں

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ پہلی بات، قلم کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے مَیں نے اپنے نام کے ساتھ ڈھاباں بازار کی بجائے نادر شاہ بازار لکھا۔ مُلک میں تبدیلی آئی ہے، تو میرے ایڈریس میں بھی آنی چاہیے۔ ’’حجِ بیت اللہ، ایک مقدّس فریضہ‘‘ حج کے موقعے پر ایک نادر مضمون لکھا گیا ۔ ڈاکٹر نور محمد اعوان کا انٹرویو اچھا رہا۔ ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات تو مَیں نے میگزین سے نکال کرچُھپا دیئے کہ بیگم کی نظر پڑ جاتی تو پھر ہر روز ایک نئے ڈیزائن کی منہدی لگوائی جاتی اور میری اس ماہ کی تنخواہ منہدیوں ہی پر خرچ ہو جاتی۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں رمشا خان کی شوخ وشنگ باتیں پڑھ کر بہت محظوظ ہوئے۔ دوسرے جریدے کا بھی جواب نہ تھا۔ واقعی جشنِ آزادی پر ایک جھنڈے کے ساتھ ایک درخت کا حق تو بنتا تھا۔ حریم فاروق کی باتیں خاصی میچور لگیں۔ ’’اسٹائل‘‘ میں گوشت کے پکوان دیکھ کر تو منہ میں پانی آگیا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں آپ نے میرا پیغام سب سے پہلے لگایا، بےحد شکریہ۔ ایک درخواست ہے، پروفیسر مجیب ظفر کےجوابات میں ذراہاتھ ہلکا رکھا کریں، چاہےمجھے، شری مُرلی چند، خادم ملک، محمد سلیم راجہ، ولی احمد شاد اور رونق افروز کو جیسا مرضی جواب دے لیا کریں۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: ہم نے پروفیسر صاحب کو، اور آپ کو بھی بھلا کچھ بھی کیا کہہ لینا ہے، زیادہ سے زیادہ چند تلخ الفاظ، حالاں کہ اگر آپ لوگوں کی حرکات کا باقاعدہ نوٹس لیا جائے تو بہت کچھ کہنا بنتا ہے۔ اب اِسی بات کو لےلیں، اِس نام نہاد ’’تبدیلی‘‘ جیسی نامعقولیت کےنقشِ قدم پر چلتے ہوئے اور کچھ نہیں تو آپ نے بلاوجہ اپنا ایڈریس ہی تبدیل کردیا، ہے کوئی منطق اس بات کی۔ یہ بعینہ وہی ’’تبدیلی‘‘ ہے، جو ناحق اس وقت پورے مُلک کو لاحق ہے۔ اُمید ہے، شوق پورا ہوگیا ہوگا۔ اور منہدی ہر روز کون لگاتا ہے بھئی، ایک بار کی رَچی ہی کافی دن میں اترتی ہے۔

پاکیزہ، ایمان افروز، روح پرور تحریر

نرجس بٹیا، سدا خوش رہو، ’’حجاب ایڈیشن‘‘ ہاتھوں میں ہے ، آج خط کی ابتدا تمہاری ہی تحریر سے کرتا ہوں۔ ’’حُسن بھی حُسن ہے، ملبوسِ حیا ہے جب تک…‘‘ اس مختصر، مربوط، جامع تحریر کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ تحریر کیا ہے، الفاظ کا وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولے، دلوں کو مسخّر کر دے اور نگاہوں کی نظر بندی کردے۔ تحریر میں وہ تاثیر، جو ذہنوں کو منوّر کرے، قلم میں وہ قوّت، جوکافر کو مسلماں کردے اور یہی وہ جہادبالقلم ہے، جو حیاکوعورت کی عِصمت کا نگہباں، شرم کو اس کے گلے کا زیور اور حجاب و نقاب کو اُس کےحُسن کامحافظ بناتاہے۔ مردِمومن کو باحیا اور صنفِ نازک کو شرم و حیا کا خوگرکرتا ہے۔ بیٹا! تمہاری اتنی پاکیزہ، ایمان افروز، روح پرور تحریر پر یہ 83 سالہ بوڑھا برگد کا درخت جو اب لیپنے کا ہے،نہ پوتنے کا، تمہیں کیا پیش کرے۔ کہ اے قوم کی باحیا بیٹی! تجھے کیا پیش کروں۔ بس اتنا کہوں گا تُو ماں کے دل کا نور، باپ کی دعائوں کا ثمر، بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، بہنوں کی اُمیدوں کا محور، شوہر تجھ پہ ناز کرے، بچّے کریں تجھ پہ فخر، عِصمت و تقدّس کے ضامن ہیں شرما و حیا کے لعل و گوہر۔ اب قوم کے گیارہ عظیم سپوتوں کی داستان کو کُوزے میں بند کرنے کی بات کروں تو بھئی، یہ نجمی میاں بھی کیا چیز ہیں؟ جو بھی تحریرلکھتےہیں اس قدرعرق ریزی سے کہ سیدھی قاری کے دل میں اُترتی ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ اللہ نے اس عُمرمیں اس شخص کو کتنی ہمّت، حوصلہ اور نالج دی ہے۔ کیا ممکن ہے کہ نجمی میاں کا انٹرویوبھی شایع ہو تاکہ اُن کےتجربات سے نوجوان نسل بھی کچھ فائدہ اٹھا لے۔ منور مرزا نے پی ٹی آئی حکومت کا تجزیہ پیش کرتے فرمایا کہ سفارت کاری کے محاذ پر کچھ اہداف پورے ہوئے۔ پتا نہیں، انہیں لندن میں بیٹھ کر کون سے اہداف پورے ہوتے نظر آئے۔ پاکستان کی سفارت اور خارجہ پالیسی جتنی ناکام اِس ایک سال میں ہوئی، زندگی میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔ 73 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان بالکل تنہا ہے۔ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک تک بھارت کے ساتھ ہیں۔ ملائیشیا، ترکی، ایران ہی ہم سے دُور نہیں ہوگئے، سی پیک پر سیاست کے سبب چین بھی سردمہر ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ ہماری حالتِ زار پر رحم فرمائے۔ (پروفیسر سیدمنصور علی خان، کراچی)

ج: سر! آپ کی محبّتوں، حوصلہ افزائی کا بےحد شکریہ اور آپ کے تجزیے سے ہمارا اتفاق بھی اب کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ مگر وہ کیا ہے ناں ؎عشق نازک مزاج ہے بے حد…عقل کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتا۔

جگہ نہیں دی جاتی

میرا ایک انٹرویو 32سال پہلے شایع ہوا تھا اور پچھلے24سال سے مَیں جنگ اخبار کا باقاعدہ قاری ہوں۔ اس کےباوجود میری تحریروں کو جنگ، سنڈے میگزین میں جگہ نہیں دی جاتی، آخر کیوں؟ (وارث علی بٹ، چوک بھولے دی جُھگی، بٹ مارکیٹ، فیصل آباد)

ج: چلیں اب تو آپ کے کریڈٹ پر ہے کہ آپ پچھلے 24 سال سے جنگ کے قاری ہیں۔ 32 سال پہلے آپ نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا، جس کے سبب آپ کا انٹرویو شایع کرنا پڑگیا۔ بہرحال، آپ کے تمام تر کارہائے نمایاں بھی ایک غیرمعیاری تحریر کی اشاعت کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

کم صفحات، نامساعد حالات

نامساعد حالات،’’سنڈے میگزین‘‘ کے کم صفحات کے باوجود بھی نہایت معیاری، شان دار مواد پڑھنے والوں کو مل رہا ہے۔ سلام ہے آپ اور آپ کی پوری ٹیم کو۔ تازہ شمارہ چمکتےدمکتے سرورق کے ساتھ رعنائی کے سنہرے سنہرے پھول بکھیر رہا تھا۔ ’’آج وہ شوخ ہے اور کثرتِ آرائش ہے…‘‘ مصرع خُوب رنگ جمانے میں کام یاب رہا۔ عالمی اُفق پر چاند کی سیاست چاندنی بکھیر رہی تھی، تو ہدایت کے چشمے میں حضرت شمویل علیہ السّلام کی حیاتِ اقدس پر محمود میاں نجمی نے محبّت و الفت کے پھول نچھاورکیے۔ خاص برائے اتوار میں جسےعُرفِ عام میں ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کہا جاتا ہے، ارشد عزیز ملک نے قبائلی اضلاع کی بحال ہوتی رونقوں کا تذکرہ کیا۔ نجم الحسن عطا نے امریکی مارکیٹنگ کے ’’مختلف انداز‘‘ سے روشناس کروایا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ہیپاٹائٹس اورہڈیوں،جوڑوں کی تکالیف پر مفید تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ سینٹر اسپریڈ کا شُوٹ قدرے بہتر تھا۔ ہاں تحریر ہلکی پھلکی ہی تھی۔ کچھ شاعری ہو جاتی تو اچھا تھا۔ لگتا ہے عالیہ کاشف کو شعر و شاعری سے خاص شغف نہیں۔ ناول نے تجسس قائم رکھاہوا ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں انعم وحید نے ’’برکت‘‘ کے موضوع پر پُراثر تحریر قلم بند کی۔ خادم ملک سے گزارش ہے، وہ بھی اس برکت سے فائدہ اٹھاکر حلال روزگار کا حصول ممکن بنائیں۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں میرے نامے کو مسند ِخاص عنایت کرنے پر بندہ دل سے ممنون ہے۔ (ملک محمد رضوان، محلّہ نشمین اقبال، واپڈا ٹائون، لاہور)

ج: اب ہم آپ کو نامساعد حالات کی کیا تفصیل بتائیں۔ ان دِنوں تو لگتا ہے ؎ ہر روز ہی اِک نیا ستم ہے… ہر وقت ہے اِک عتاب توبہ۔

تازہ جلیبیاں منگوا کر کھائیں

اس بار سرورق، دو عدد باپردہ (علاوہ چہرہ) مستورات سےسجا تھا اور عبایا، حجاب سے آراستہ منظرنامے پر پیش نامہ مع تاریخِ حجاب، مدیرہ نے خودلکھا،سوعُمدہ لکھا۔ ماڈل خواتین کی عُمروں اور ڈیل ڈول میں واضح فرق کے باوجود، اُن کے لیے ’’سہیلی‘‘ کا لفظ وضع کیا گیا، ہوگی کوئی وجہ۔ اب ہم ہر بات میں ٹانگ کیوں اڑائیں اور کیوں باقی ماندہ دس فی صدی بچےکُھچے پر قینچی چلوائیں۔ منور مرزا نئی حکومت کا پہلا سال بیان کر رہے تھے،اچھا تجزیہ کیا۔ فاروق اقدس کی ماہرانہ تحریر کے ساتھ نتھی تصاویر میں ’’سولہ عدد بارعب، طاقت وَر چہرے‘‘ بھی نظر آئے، لیکن تمام چہروں کے پیچھے ایک ہی چہرہ، کمال است!!میاں نجمی کےقلم سے’’نشانِ حیدر‘‘پانےوالوں سے متعلق اس قدر عُمدہ تحریر کی توقع نہیں تھی، مگر وہ تو جو لکھتے ہیں، کمال لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کشمیر کی بیٹیوں کی حُرمت و حیا کی پامالی کے حوالے سے شان دار لکھا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کے دونوں مضامین عمدہ، مفید اور پُردرد تھے۔ ناول ’’عبداللہ‘‘ جاری و ساری ہے، چلنے دیجیے۔ ’’سیرِ دو جہاں‘‘ میں سلمیٰ اعوان کا بیانیہ چوں کہ کہانی نُما ہے، اس لیے رُوادادی سفرنامہ دُہرا مزہ دے رہا ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ پر شفق رفیع کی تحریر ’’جو ہو جاتی ہےماں راضی‘‘ پڑھنے کے بعد بےساختہ منہ سے نکلا ’’تو ہو جایا کرتی ہے جنّت اراضی‘‘ (یعنی ماں کی رضا سے جنّت ٹھکانہ یا مسکنِ زمینِ بہشت ہو جایا کرتی ہے)۔ فرحی نعیم نے حیا کے جگنو چمکائے۔ بارےخدا خدا کرکے’’آپ کا صفحہ‘‘ آیا، اس ہفتے صفحے پر خاصا سُکون، امن و امان تھا۔ پرانے روگیوں میں سے اِکا دُکّا ہی نظر پڑے، باقی سارےنئےنام تھے۔ ارے، اِک معمّا ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، میگزین کاہےکو ہے، خواب ہے دیوانے کا‘‘۔ اگلا شمارہ بڑی بے تابی سے پڑھا، اس لیے کہ اوّل تو سرورق ہی نہایت دل کَش، حسین و جمیل(نواسۂ رسول اللہ ﷺ کےروضے کے عکسی جمال و کمال سےدمکنےکےسبب) تھا۔ دوم، گزشتہ ہفتے ہمارےالفاظ کو بھی کوئی اشاعتی اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ ’’قصص الانبیا علیہ السلام‘‘ میں حضرت سلیمان ؑ عالی شان موجود تھے، ماشاء اللہ، سبحان اللہ، شجرہ سلیمان ؑ پڑھ کر رشک محسوس ہوا۔ نجمی صاحب کی ادارہ جنگ کے تعاون سے یہ نیکی کچھ کم ہے کہ مسلم اور غیر مسلم، دونوں قسم کے قارئین کو تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید کےحوالوں، بیانات کے ساتھ ’’قرآن و تفاسیر قرآن‘‘ سےمتعلقہ کردیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ ماشاءاللہ، جگر گوشۂ رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے نواسے،حضرت امام عالی مقام کی شہادت کے فکر و فلسفے سے مزیّن تھا۔ سلمیٰ اعوان نے آخری قسط میں بس تمام تر فوکس ’’دیوارِ چین‘‘ ہی پر رکھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے سگھڑ، ذائقے دار صفحے پرعظمیٰ مقصود کی دالوں کی خوش رنگ تراکیب کے ساتھ گھر گرہستی سنوارنے والی ننّھی تحریرات بھی پڑھیں، ساتھ ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ (جبری لیکن جری) کی ننّھی سی فہرس پڑھ کر دائمی ذیابطیس کے روگی پروفیسر کو تازہ جلیبیاں منگوا کر کھلائیں کہ خیر سے اس بار بھی دو عدد جگر پارے ناقابلِ اشاعت قرار پائے۔ اللہ اللہ کر کے وہ شاہ کار آہی گیا، جس کےلیے بڑی بے تابی سے ہلکی سی آہٹ سنتے ہی گیٹ کو بھاگتا اور چیتے کی سی پُھرتی سےاتوار کا اخبار اُٹھاتا ہوں۔ چلو، گیارہ عدد مُسکراتے، سنجیدہ مراسلوں میں سے کم ازکم نقش بندی کا منہ تو تادمِ اختتام ِمحفل ’’کرسی‘‘ پر بٹھلا کر، بند کر ہی دیا گیا۔ (پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی، گلبرگ ٹائون، کراچی)

ج: اگر اپنےتین عدد خطوط کا یہ ملغوبہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا ہو، تو آج ایک بار پھر ہماری طرف سےتازہ جلیبیاں منگوا کر کھائیں۔

معلومات، دل چسپی کا مواد

ہمیشہ کی طرح سنڈے میگزین تمام تر رعنائیوں، دل کشیوں کے ساتھ ملا۔ صفحات کم ضرور ہوئے ہیں، مگر میگزین میں دل چسپی کا مواد، معلومات اسی طرح ملتی ہیں جو ہمیشہ سے اس کا خاصّہ ہیں۔ (شری مُرلی چندجی، گوپی چند گھوگلیہ، پرانا صدر بازار، شکارپور)

دل چُھو لینے والی تحریر

اب تو سنڈے اسپیشل پہلے صفحے پر آگیا ہے اور اُس پرمنور مرزا پی ٹی آئی کے ساتھ موجود تھے۔ کیا شان دار مضمون لکھا۔ فاروق اقدس نے بھی ’’کمانڈ کا تسلسل‘‘ زبردست انداز میں تحریر کیا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں محمود میاں نجمی نے نشانِ حیدر پانے والوں کا بہترین تعارف کروایا۔ اپنے نجمی صاحب تو واقعی ہر فن مولا ہیں۔ سرورق کے لیےآپ نے ’’عالمی یومِ حجاب‘‘ کابہت اچھا چنائو کیا ۔ آپ کی بہترین تحریر بھی پڑھنے کو مل گئی، بہت شکریہ۔ ’’عبداللہ‘‘ کا جواب نہیں، بہت اچھا جارہاہے۔ جہانِ دیگرمیں سلمیٰ اعوان نےاچھے انداز میں چین کی سیر کروائی۔ ’’ڈائجسٹ ‘‘میں شفق رفیع کی کہانی ’’جو ہو جاتی ہے ماں راضی‘‘ دل چُھو لینے والی تحریر تھی، پڑھ کے آنکھیں نم ہو گئیں۔ اور ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں رعنافاروقی کافی محنت کرتی ہیں۔ اس مرتبہ کی دونوں کہانیاں بھی بہت اچھی تھیں۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

سوِل ڈیفینس کی ٹریننگ

ہمیں اس ہفتے کی چِٹھی کا اعزاز دینے کا بےحد شکریہ، سرورق کے لیے امامِ عالی مقام حضرت امام حُسین ؓ کے روضۂ مبارک کا موقعے کی مناسبت سے بالکل درست انتخاب کیا گیا۔ منور مرزا، جی سیون سربراہ اجلاس کی رُوداد سُنارہے تھے، مگر اس اجلاس میں کشمیر کی نازک صورت ِ حال پر کوئی بات نہ ہوئی، افسوس کا مقام ہے۔ کیا یہ ہماری ناکام سفارت کاری کی دلیل نہیں، جب کہ مودی نے وہ سب حاصل کرلیا، جو وہ چاہتا تھا۔ محمود میاں نجمی حضرت سلیمان ؑ کا قصّہ بیان کر رہے تھے۔ واقعی سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے جیسی بادشاہت عطا کی، وہ کسی کے حصّے میں نہیں آئی۔ ’’عبداللہ‘‘ کی نویں قسط اپنے جوبن پر نظر آئی۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں ڈاکٹر سعدیہ طارق نےابتدائی طبّی امداد کی اہمیت اجاگر کی۔ ایک زمانےمیں ہمارے یہاں سِوِل ڈیفینس کی باقاعدہ ٹریننگ ہوا کرتی تھی،مگرنااہل حکمرانوں نے کوئی اچھا کام جاری ہی کہاں رہنے دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام علی بلندفشارِ خون کنٹرول میں رکھنے کی ہدایت دے رہے تھے، تو جہانِ دیگر میں سلمیٰ اعوان نے چین کی ترقی کی رُوداد گوش گزار کی۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے سب ہی لوازمات شان دار رہے۔ ڈائجسٹ میں شکیل احمد چوہان نے افسانہ ’’حرا کا حجاب‘‘ اچھےانداز سےتحریر کیا اور ناقابلِ فراموش کی کہانی نے تو جیسے جھنجھوڑ ڈالا۔ عصمت علی، کامران کے تبصرے بھی پسند آئے۔ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میر پورخاص)

فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حق و باطل کی آویزش ازل سےجاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ اسلام کے نام پر منافقت، جمہوریت کے نام پر آمریت، احتساب کے نام پر انتقام اور نگرانی کے نام پر سینسر نے ہمارے معاشرے کو گھٹن زدہ، آلودہ کر دیا ہے۔ فلسفہ ٔ شہادت ِ حُسین ؓ راہ روانِ حق و وفا کےلیےپیامِ عمل اورمشعلِ راہ ہے۔ سنڈے میگزین حالات و واقعات سے آگہی کا اِک ذریعہ بے مثل بھی ہے اور تاریخ و ادب سے روشناسی کا اِک وسیلۂ بےمثال بھی۔ پُروقار سرِورق پرنگاہ ِ عقیدت ڈال کر صفحہ نمبر 2 سے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کا آغاز کیا۔ منور مرزا کے عالمی اُفق سے روح فرسا و دل خراش خبر پڑھنے کو ملی کہ ’’جی سیون سربراہ اجلاس‘‘ میں مسئلہ کشمیر نظر انداز۔ ہمارے انقلابیوں کا دماغ چوتھے آسمان سے زمین پر آئے تو اُنہیں جغرافیائی نازک ترین حالات کا ادراک ہو، فہم و فراست کا عالم یہ ہے کہ مودی دشمن نے انکل سام کی اشیر باد سے کشمیر کو مدغم برائے ہضم کر لیا اور یہ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے، جیسے ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں۔ اللہ اربابِ بَست و کشاد کو شرفِ ہدایت اور ظرفِ جرأت دے کہ’’اُتر گئی لَوئی تو کیا کرے گا کوئی‘‘۔ سرچشمہ ٔ ہدایت میں حضرت سلیمان ؑ کے حالاتِ حیات مع خداداد کمالات (معجزات) پڑھے۔ ایک اور بہترین کاوش۔ تقریباً دو ماہ بعد ڈاکٹر قمر عباس نے ’’خانوادے‘‘ کی صُورت اینٹری دی ہے، جب کہ ہم تو ہر سنڈے آہیں بھرتے تھے ؎ آجاوے تینوں اَکھّیاں اُڈیک دیاں… کسی ڈراما سیریل کے Stunning اینڈ کی طرح، ناول ’’عبداللہ III‘‘ کی نویں قسط کا اختتام فُل آف سسپینس تھا۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں اکثر و بیش تر ہیلتھ ہی پر زور ہوتا ہے کہ کبھی فٹنس ٹِپس اِن ڈور ایکسر سائزز سے بھی نوازیں تو کرم نوازی ہوگی۔ مرکزی صفحات پر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی سادہ و سلیس تحریر (فلسفہ ٔ شہادتِ امام حُسینؓ) میں نادر تصاویر کی مدد سے رنگ و نور کےموتی جَڑے گئے ۔اور ’’جہانِ دیگر‘‘ میں لگا تار تین ہفتوں سےدیوارِچین پرجاگنگ اختتام کو پہنچی۔ متفرق میں 2,500 ’’فراریوں‘‘ کی قومی دھارے میں شمولیت کی اُمید افزاو خُوش کُن خبر پڑھی۔ مگر بگٹی کو قبل از وقت دھمکا کر ہلاک کرکے راہ داری ٔ عدالت سےفرار ہونےوالے مُکّےباز آمر کو قومی تحویل میں لےکر تقاضا ہائے انصاف کون پورا کرے گا۔ یہ پھائے، پھانسیاں، جیل کوٹھریاں صرف اہلِ سیاست(حتیٰ کہ وزرائےاعظم اورصدرِ مملکت)ہی کےواسطے ہیں۔ ’’گوشہ قلمی خطوط(آپ کاصفحہ) میں اس اتوار ملک، ڈاکٹر ڈاہا، پروفیسر حمیدی، نواب زادہ، برقی اور شِری مرلی جیسے باقاعدہ لکھاری بزم آراء تھے اور تختِ طائوس کے حق دار ٹھہرے شہزادہ نقش بندی۔ ویل ڈن!! شہزادہ لگیاں ایں! (ہاہاہا) آخر میں اُردو شناسی کے سلسلے میں اِک تجویز دیتے ہوئے ہم غلطاں و پیچاں ہیں کہ آپ کا صفحہ میں (گوشہ ٔ برقی خطوط کی اوپری جگہ پر) تقریباً3عدد غلط العام و غلط العوام الفاظ، برائے راہ نمائی شایع فرما دیا کریں، تو کیا ہی بات ہو۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: اس کے لیے آپ روزنامہ جنگ کا ادبی صفحہ پڑھنے کی زحمت فرمایا کریں، جہاں ہر ہفتے تین سے بھی زائد غلط العام الفاظ و محاورات کی نہ صرف اصلاح کی جاتی ہے بلکہ تفصیلا ً اُن کے مادّہ مجرّد اور درست استعمال وغیرہ سے متعلق بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ سلسلے کا نام ’’صحتِ زباں‘‘ ہے اور اس کے مرتِب معروف ماہر ِ لسانیات، ڈاکٹر رئوف پاریکھ ہیں۔

گوشہ برقی خُطوط

ج:اب دوسری ای میل 2019ء میںشایع ہورہی ہے، تو اگلی بار کس سن میں آنے کا ارادہ ہے۔ سال میں ایک دو بار تو آہی جایا کرو کہ کم از کم عید کے چاند سے تو تشبیہ دے سکیں۔

ج: جی فیضان، ہماری تو کوششرہتی ہے کہ ذہنی، نفسیاتی امراض بھی کسی طور نظرانداز نہ ہوں، اسی سبب ان سے متعلق تمام اہم ایّام باقاعدہ کور کیے جاتے ہیں۔ سائیکو تھراپسٹ کے انٹرویو کی بھی جلد کوششکریں گے۔

ج:جی، بالکل ہو سکتا ہے اور ہم رمضان المبارک میں کرواتے بھی ہیں۔

ج:جی، اِن شاء اللہ تعالیٰ۔

قارئین کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazinejanggroup.com.pk