امام کا نابالغ بچے کو ساتھ بٹھا کر نماز پڑھانا کیسا ہے؟

December 06, 2019
 

تفہیم المسائل

سوال: جماعت قائم ہونے سے پہلے امام صاحب کا نابالغ بچہ اُن کے پاس آیا، جسے ساتھ بٹھا کرانہوں نے نماز کی نیت باندھی اور نماز مکمل کی ،شریعت کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے ؟،(شیخ مجاہد ، ڈیرہ غازی خان )۔

جواب:امام کا اپنے بیٹے کو ساتھ بٹھا کر نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ،البتہ اس کا چہرہ نمازیوں کے سامنے نہ ہو کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے،تاہم اگر بچے کا جسم یا کپڑے ناپاک ہوں تو امام اسے اپنے سے دور رکھے ۔امام بخاریؒ نے ایک باب باندھا:بَابٌ:اِسْتِقبَالُ الرَّجُلِ صَاحِبَہٗ أَوْغَیْرَہٗ فِی صَلَاتِہٖ وَھُوَ یُصَلِّییعنی کسی شخص کا دوسرے شخص کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا، اس باب کے تحت لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ حضرت عثمانؓ نے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کوئی شخص نماز کی حالت میں دوسرے شخص کی طرف منہ کرے ،(امام بخاری نے کہا:)کراہت اُس صورت میں ہے کہ نمازی اس کے ساتھ مشغول ہوجائے ،لیکن جب وہ اس کے ساتھ مشغول نہ ہو تو حضرت زید بن ثابت ؓنے کہا: اس کی پروا نہیں ہے ، ایک شخص دوسرے شخص کی نماز کو قطع نہیں کرتا،(صحیح بخاری:510)‘‘۔

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : ’’ اورنمازی کاکسی انسان کے چہرے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا اس طرح مکروہ ہے ،جس طرح نمازی کے مقابل ہونا مکروہ ہے ،اگر یہ عمل نمازی کی جانب سے ہوتو کراہت نمازی پر لازم ہوگی، ورنہ نمازی کی طرف منہ کرنے والے پر کراہت لازم ہوگی،اگرچہ وہ دور ہو اوردرمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو ‘‘۔علامہ ابن عابدین شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ صحیح بخاری میں ہے : حضرت عثمانؓ نے اسے مکروہ کہا کہ کوئی شخص نماز کی حالت میں دوسرے کی طرف منہ کرے ،قاضی عیاض نے عام علماء کے حوالے سے بیان کیا: اور’’الحلیہ‘‘ میں اس کی مکمل بحث موجود ہے ۔’’شرح المنیہ‘‘ میں ہے :بزاز نے جو حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے : ’’نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے دیکھا ،تو آپ ﷺ نے اسے نماز دہرانے کا حکم فرمایا اور نمازکو دہرانے کا یہ حکم کراہت کے ازالے کے لیے تھا ،نماز فاسد ہونے کی وجہ سے نہیں تھا،ظاہریہ ہے کہ جیسا بیان ہوا،ایسا کرنامکروہ تحریمی ہے ، اسی وجہ سے ’’الحلیہ‘‘ میں امام ابویوسف ؒ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا : اگرایسا جاہل ہوتو میں اسے سکھاؤں گا اوراگر وہ عالم ہوا، تو میں اسے آداب ِ نمازسکھاؤں گا اورکراہت کا ایک سبب یہ ہے کہ یہ تصویر کی عبادت کے مشابہ ہے ،(حاشیہ ابن عابدین شامی ،جلد4،ص:153، دمشق )‘‘۔

پس اگر وہ بچہ امام کے ساتھ قبلہ رُو بیٹھا یا کھڑارہے تو محض ساتھ رہنا کراہت کا سبب نہیں ۔حدیثِ مبارک میں ہے :ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے ، پس جب آپ ﷺ سجدہ کرتے ،تو حضرت حسنؓ وحسینؓ اچھل کر رسول اللہ ﷺ کی پشتِ مبارک پر بیٹھ جاتے ،پس جب آپ ﷺ سجدے سے سر اٹھاتے ،تو اپنے ہاتھ پیچھے کرکے اُنہیںنرمی سے اتارتے اور زمین پر بٹھادیتے ،پھر جب رسول اللہ ﷺ دوبارہ سجدے میں جاتے ،تو وہ دوبارہ پُشتِ مبارک پر چڑھ جاتے ،یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی،تو اُن دونوں کو اپنی گود میں بٹھالیا ،حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں: میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں ان دونوں کو واپس لے جاؤں ،پس آپ ﷺ مسکرائے اورفرمایا: جاؤ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ ، پس ان دونوں کے گھر میں داخل ہونے تک رسول اللہ ﷺ کے رُخِ مبارک کی مسکراہٹ باقی رہی ، (مسند امام احمد بن حنبل:10659)‘‘۔

ترجمہ:’’ حضرت ابوقتادہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺاپنی صاحبزادی زینب اور ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی بیٹی امامہ کو اٹھا کر نماز پڑھ رہے تھے،جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو ان کوزمین پر بٹھادیتے اورجب آپ ﷺ کھڑے ہوتے ،تو ان کو(گودمیں) اٹھالیتے ، (صحیح بخاری: 516) ‘‘