14 ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کا کڑا امتحان

اسپورٹس
December 17, 2019

کہتے ہیں کہ اگر حوصلے بلند اور کچھ کردکھانے کاجذبہ ہوتو منزل بھی خود بخود قریب آجاتی ہے ایک لاکھ سینتالیس ہزار کلومیٹر اسکوائررقبے ، تقریبا دو کروڑ اسی لاکھ نفوس پرمشتمل آبادی اور دنیا کی سب سے بلند ترین پہاڑی چوٹی مائونٹ ایورسٹ کی بدولت پوری دنیا میں شہرت رکھنے والے ملک نیپال نے 13 ویں سائوتھ ایشین گیمزکے کامیاب انعقاد سے اس بات کو ثابت کردیا ہے گیمز کےآغاز سے اختتام تک وینیوز، رہائش، کھانے ،سفری اور میڈیکل کے انتظامات کے حوالے سے کئے گئے اقدامات قابل ستائش تھے جس پرگیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی قابل مبارکباد ہے البتہ کھیلوں کے نتائج اور میڈلز کی پوزیشن سے آگاہی کیلئے آفیشل ویب سائیٹ پربروقت اپ ڈیٹ نہ ملنے کے باعث مقامی اور غیرملکی صحافیوں کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑا 13 ویں ساؤتھ ایشین گیمز بھارت کی واضح برتری کے ساتھ اختتام پذیرہوگئے ، 26مختلف کھیلوں کے 316 مقابلوں میں بھارت نے 174گولڈ،60 سلور اور 45 برانزکے ساتھ مجموعی طور پر 312 میڈلزجیت کرپہلی پوزیشن حاصل کی میزبان نیپال نے 51گولڈ،60 سلور،95 برانزکے ساتھ 206 میڈلزجیت کر دوسری جبکہ سری لنکا 40 گولڈ،83 سلور اور 128 برانز میڈلزکے ساتھ 251 میڈلزلے کر تیسری پوزیشن حاصل کی پاکستان 32 گولڈ،41 سلور اور 59 برانزمیڈلز مجموعی طورپر 132 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہا 13 ویں سائوتھ ایشین گیمزمیں پاکستان نے 18 کھیلوں میں شرکت کی پاکستانی کھلاڑیوں نے کراٹے میں چھ، ایتھلیکٹس میں پانچ، ویٹ لفٹنگ میں پانچ، تائیکوانڈو میں تین،ریسلنگ میں تین، ووشو میں تین،جوڈو،اسکوائش اور شوٹنگ میں دو دو اور ہینڈبال میں ایک گولڈمیڈلزجیتااگر گذشتہ سائوتھ ایشین گیمزمیں قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی کاجائزہ لیا جائے تو 2016 میں بھارت کے شہرگوہاٹی میں کھیلے گئے گیمزمیں پاکستان نے مجموعی طور پر بارہ گولڈ میڈلز جیتے تھے لہذا موجودہ پرفارمنس کو مدنظررکھتے ہوئے اسے حوصلہ افزاء قرار دیا جاسکتا ہے جہاں تک گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو تربیتی کیمپس کے برائے نام انعقاد، تمام کھیلوں میں شمولیت کانہ ہونا ہماری پوزیشن کو خراب کرنے کا اہم سبب ہے، اگر کھیلوں کی تمام کیٹیگریز میں ہمارے کھلاڑیوں کوشرکت کے مواقع حاصل ہوتے تویقینی طور پر گیمزمیں دوسری یا تیسری پوزیشن کے حصول کوممکن بنایا جاسکتا تھا ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے زیراہتمام گذشتہ ماہ پشاور میں ہونے والے کامیاب قومی گیمز سے کھلاڑیوں کو سائوتھ ایشین گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے کافی مدد ملی گیمز کی اختتامی تقریب میں 14ویں ساوتھ ایشین گیمزکی میزبانی پاکستان کودیتے ہوئے ساوتھ ایشین اولمپک کمیٹی کے صدر نے آفیشل فلیگ پاکستان اولمپک ایسوسی ایزن کے صدرلیفٹنٹ جنرل سیدعارف حسن کے حوالے کیا اس موقع پر جنرل عارف جسن نے کہا کہ یہ 10دن بہت ہی شاندار تھے کھلاڑیوں نے نا صرف مقابلہ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اپنے ملکوں کے بہترین سفیر ہیں رضا کاروں نے زبردست کام کیا پاکستان اگلے گیمز کی میزبانی کے لیے آپ کا منتظر ہے ، دسویں سیف گیمزکی میزبانی پاکستان نے کی تھی ،ہم وعدہ کرتے ہیں کہ 14 ویں سائوتھ ایشین گیمزاور بھی بہتر ہونگے ،ان کے خطاب کو اسٹیڈیم میںموجودنیپالی عوام نے بہت سراہا، اب جبکہ آنے والے گیمزکی میزبانی پاکستان کوکرنا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا ئےکھیل میں ملک کی نیک نامی اور وقار میں اضافے کیلئے ایک دوسرے پرالزام تراشیوں اور ناکامیوں کی ذمے داریاں ڈالنے کے سلسلے کوختم کرکے مل جل کر گیمز کوکامیاب بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پرآکر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگی تاکہ پاکستان میں کھیلوں کوسنہرے دور کوواپس لایا جاسکے۔