پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کی آدھی فوج شدید ذہنی دباؤ کی شکار، تحقیق

January 09, 2021

پاکستان کے خلاف جعلی سرجیکل اسٹرائیکس کا بہانہ بنانے والی بھارت کی 13 لاکھ آرمی کی آدھی تعداد شدید دباؤ کے باعث ڈری سہمی ہے جہاں اس کے سالانہ متعدد اہلکار تنگ آکر خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی تھنک ٹھینک انسٹیٹیوٹ برائے بھارت کے موجودہ کرنل نے بھارتی آرمی سے متعلق ایک تحقیق کی ہے۔

تحقیق کرنے والے کرنل اے کے مور نے بتایا کہ بھارتی فوج میں ذہنی دباؤ بڑھتا جارہا ہے، جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو دونوں فوج ’آپریشنل دباؤ‘ کے شکار کے ساتھ ساتھ ’غیر آپریشنل دباؤ‘ کے بھی شکار ہیں۔

رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آپریشنز ان آرمی اہلکاروں کے ذہن پر اس دباؤ کی سب سے بڑی وجہ قرار دی گئی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ محاذ پر موجود مسلح اہلکاروں کا ذہنی دباؤ ان کے پیشے سے وابستہ ہیں، تاہم متعدد ایسے اہلکار بھی موجود ہیں جو اپنے معاشی حالات کی وجہ سے بھی شدید دباؤ میں ہے جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہوتی ہے جس سے ان کی یونٹ بھی متاثر ہوجاتی ہے۔

فروری 2019 میں پاکستان کے ہاتھوں دنیا بھر میں رسوا ہونے والی بھارتی فوج نے اس تحقیق کو تکنیکی وجوہات کو بنیاد بنا کر مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ بھارت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 100 سے زائد بھارتی فوجی خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔

بھارت کے فوجیوں کی خودکشی میں ہلاکت کسی بھی دشمن کی جانب سے مارے جانے والے فوجیوں سے بھی زائد ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تقریباً ایک ہزار فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔