ایران میں اصلاح پسند مکتب فکر کی کامیابی

June 21, 2013
 

ایران کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند مکتب فکر کے نمائندے حسن روحانی کی کامیابی نے مغربی خصوصاً امریکی پالیسی سازوں اور ذرائع ابلاغ کے اس پروپیگنڈے کو یکسر غلط ثابت کردکھایا ہے کہ انتخابی عمل آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوگا اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ علی خامنہ ای قدامت پسند مکتب فکر میں سے اپنی پسند کی کسی شخصیت کو صدر بنوانے کے لیے اپنے اثرات فیصلہ کن طور پر استعمال کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ذرائع اب حسن روحانی کی کامیابی کو ایران کے داخلی انتشار کا ایک یقینی ثبوت قرار دے رہے ہیں جبکہ پرامن انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار کی منتقلی درحقیقت ایران کے سیاسی استحکام اور عوامی شعور کا ایک شاندار مظاہرہ ہے۔حسن روحانی کو اعتدال پسند اور اصلاح پسند مکتب فکر کے قائدین اور سابق ایرانی صدور علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی کی حمایت حاصل تھی۔ انتخابی دوڑ میں شامل اس مکتب فکر کے دوسرے نمائندوں کو ان ہی شخصیات نے پولنگ سے کچھ پہلے دستبردار ہوجانے پر آمادہ کیا جس کی بناء پر حسن روحانی کی کامیابی کی راہ ہموار ہوگئی۔انتخابات سے پہلے تمام امیدواروں کو اپنی مہم چلانے کے لئے یکساں مواقع مہیا کئے گئے ، اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے سب کو عوام سے رابطے اور اپنا پروگرام پیش کرنے کی مساوی سہولتیں فراہم کی گئیں اور اس طرح انتخابی عمل میں انتظامیہ کی غیرجانبداری پوری طرح نمایاں رہی۔ پولنگ میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ یعنی 72 فی صد سے زائد رجسٹرڈ رائے دہندگان نے حصہ لیا اور ان میں سے 50.7 فی صد نے حسن روحانی کے حق میں رائے دے کر انہیں فیصلہ کن کامیابی سے سرفراز کیا۔ اگر جیتنے والا امیدوار پچاس فی صد سے زائد ووٹ نہ لے پاتاتو اوّل اور دوم رہنے والوں میں دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا تاکہ کامیاب ہونے والا امیدوار رائے دہندگان کی اکثریت کا واقعتاً حقیقی نمائندہ ہو اور متعدد امیدواروں میں ووٹ بٹ جانے کی وجہ سے پندرہ بیس فی صد ووٹ لینے والا یعنی 80،85 فی صد رائے دہندگان کی منفی رائے کا حامل امیدوار مسند حکمرانی پر پر فائز نہ ہونے پائے۔ جن ملکوں میں اکثریتی رائے کی بالادستی کو یقینی بنانے کا یہ اہتمام نہیں ہوتا، جن میں ہمارا ملک بھی شامل ہے، وہاں بسا اوقات جمہوریت کے نام پر اقلیت کی حکومتیں بنتی ہیں۔ ایسی حکومتوں کوپہلے دن سے اکثریت کی مخالفت کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کا مستحکم ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ بہرکیف حسن روحانی کی کامیابی نے انتخابی عمل کے بارے میں ظاہر کیے جانے والے شکوک و شبہات کا خاتمہ کردیا ہے اور انہیں ایرانی عوام کے معتبر نمائندے کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔صدارتی انتخاب سے پہلے ایرانیوں نے دو لاکھ مقامی اور میونسپل کونسلوں کی نشستوں کے لئے بھی ووٹ دیے ۔ ان کے لیے آٹھ لاکھ سے زیادہ امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ لیکن مغربی میڈیا میں ،جو بالعموم ایران کو ایک مذہبی آمریت قرار دیتا ہے،ایران کے اس جمہوری عمل کا بہت کم ہی ذکر ہوا۔
حسن روحانی جوہری توانائی کے معاملے میں 2003ء سے2005ء کے دوران ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ رہے ہیں۔ان مذاکرات میں ایران نے یورینیم افزودگی کے پروگرام کو تقریباً دوسال کے لیے معطل کرنا منظور کرلیا تھا لیکن اس کے بدلے میں مغربی طاقتوں کی طرف سے جن سہولتوں اور مراعات کے وعدے کئے گئے تھے، ایران کو ان میں سے کچھ بھی نہیں ملا۔ چنانچہ انتخابی مہم کے دوران حسن روحانی کے ناقدوں نے اس نکتے پر بہت زور دیا لیکن انہوں نے بڑی کامیابی سے اپنا دفاع کیا۔ حسن روحانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ دوسال کے لیے یورونیم افزودگی کی معطلی قبول کرنے کے نتیجے میں ایران کو عالمی پابندیوں سے نجات ملی اور اس دوران جوہری پروگرام کی ترقی کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن ہوئی۔ صدر محمود احمدی نژاد کے دوسرے دور حکومت میں ایرانی عوام جن معاشی و سماجی مشکلات سے دوچار ہوئے، انہوں نے اصلاح پسند مکتب فکر کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ایرانی سکے کی قدر میں کمی کے سبب کم از کم تنخواہ کی جو مالیت 2010 ء میں 275 ڈالر تھی وہ اب گھٹ کر محض 134ڈالر رہ گئی ہے، اگرچہ ایرانی ریالوں کی شکل میں تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بے روزگاری کی مجموعی شرح 14 فی صد ہے لیکن عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ حقیقی شرح اس سے بہت زیادہ ہے۔ایرانی عوام امید رکھتے ہیں کہ حسن روحانی ، اسلامی جمہوریہ کی حیثیت سے ایران کے تشخص کو پوری طرح قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اصلاح پسند انہ پالیسیاں اپنا کرعالمی سطح پر ایران کے لئے بہتر مواقع پیدا کریں گے ،جوہری مسئلے پر مذاکرات کا آغاز ہوگا جس میں وہ ایران پر لگائی گئی پابندیاں ختم یا نرم کرانے میں کامیاب رہیں گے،داخلی سطح پر بھی لوگوں کو زیادہ آزادیاں میسر آئیں گی اور ان کے لیے زندگی زیادہ آسان اور خوشگوار بن سکے گی۔ خود حسن روحانی نے بھی اپنی کامیابی کو ”عقل و دانش اور انتہاپسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی اور بالغ نظری کی فتح “ قرار دیا ہے۔ ایران کے رہبراعلیٰ علی خامنہ ای نے ان کی کامیابی کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے اچھی توقعات کا اظہار کیا اور انہیں پوری ایرانی قوم کا صدر قرار دیا ہے جبکہ امریکی حکومت نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کی بحالی کا عندیہ دے دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے نومنتخب صدر کی حیثیت سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں حسن روحانی نے واضح کردیا ہے کہ ”ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی قانون کے دائرے کے اندر ہے، دنیا کو یہ دکھانے کے لئے ہم اپنے جوہری پروگرام پر زیادہ شفافیت دکھانے کے لیے تیار ہیں لیکن یورونیم افزودگی بند نہیں کی جائے گی۔“ اس طرح وہ خطوط واضح ہوگئے ہیں جن پر ایران مغرب سے مذاکرات کی بنیاد رکھے گا۔ مغربی ملکوں خصوصاً امریکی قیادت کو بھی ایران پر ناجائز دباوٴ ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے ، جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے اس کے حق کو تسلیم کرنا چاہئے تاکہ عالمی سطح پر کشیدگی کا ایک بڑا سبب ختم ہو اورعالمی انسانی برداری کے لیے دنیا ایک بہتر اور پرامن مقام بن سکے۔


مکمل خبر پڑھیں